اِن فوٹیجز کو دیکھ کر کسی کی نیندیں حرام ہونے جا رہی ہیں، اُن کی سہیل آفریدی کو مُشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، سب کو سہیل آفریدی کا ڈٹ کر ساتھ دینا ہو گا
میں نے سلمان اکرم راجہ صاحب کے الزامات کے جواب میں کیا گیا اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ خان صاحب ہیں تو ہم پی ٹی آئی میں ہیں، نہیں تو کون سی پی ٹی آئی؟
27 ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے، اب ہمیں اپنی تمام تر توجہ اسی پر رکھنی چاہیے۔ ہر وقت کی آپس کی لڑائیوں سے ہم اپنا مذاق بھی بنوا رہے ہیں اور اپنی توانائیاں بھی ضائع کر رہے ہیں۔
اگر کوئی پریشر ڈالنا بھی چاہتا ہے تو پری موبلائزیشن ہائپ پر ڈالے۔ پنجاب میں اس وقت سب سے اہم کام مضبوط پری موبلائزیشن پلاننگ ہونی چاہیے، جبکہ 27 ستمبر کے دن کے لیے الگ حکمتِ عملی.
مجھے ڈاکٹر شہباز گِل اور بالخصوص ہمارے دوست عادل راجہ کی ایک اپروچ پر اعتراض بھی ہے۔ 9 مئی کے بعد پہلے ہی گراؤنڈ پر سرگرمیاں پیدا کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔ ایسے میں اگر آپ اُن لوگوں کو بھی ٹارگٹ کریں گے جو گراؤنڈ پر کچھ نہ کچھ سرگرمی کر رہے ہیں تو پی ٹی آئی کا گراؤنڈ سے رابطہ تقریباً مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
بہتر ہے کہ آپ اپنا دباؤ دوسروں پر برقرار رکھیں، لیکن گراؤنڈ پر سرگرمیاں پیدا کرنے والوں کو کچھ مارجن ضرور دیں۔
ڈاکٹر شہباز گِل نے ظلم برداشت کیا اسی احساس کے تحت ہم نے نہ صرف ڈاکٹر شہباز گِل بلکہ 9 مئی کے بعد لاہور کی جیلوں سے رہا ہونے والے اپنے دیگر اسیرانِ تحری کی قربانیوں کو سراہنے کے لیے ایسی سرگرمیاں کیں۔
اور مجھے نیچے والی اس سرگرمی پر خاص طور پر فخر ہے، جو ہماری ٹیم نے جیل سے رہا ہونے والے اسیرانِ تحریک کے اعزاز میں کی۔ یہ 9 مئی کے بعد لاہور میں ہونے والی پہلی بڑی سرگرمی تھی۔
ڈاکٹر شہباز گِل کی رہائی کے بعد زمان پارک میں یہ سرگرمی میں نے خان صاحب سے اجازت لے کر کی تھی۔
جن جن لوگوں کو شرکت کی دعوت دی گئی، سب نے انکار کر دیا، اور اسی رات مجھے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اب پی ٹی آئی میں تمہاری سیاست ختم ہو گئی۔ لیکن میں تو پی ٹی آئی میں سیاست کرنے آیا ہی نہیں تھا۔
آپ ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔۔آج ہمیں بلا لیا کہ آپکو ریسکیو کریں۔۔ کرائم رپورٹر احمد فراز
آپ میرے دفتر شکایت لے کر گئے مجھے نوکری سے نکوالنے کے لیے۔ مجاہد شیخ