ایک بےبس باپ کی درد بھری دہائ ۔۔ 💔
جس کے بیٹا بائیکیا تھا ۔ اس کو 2022 میں قتل کرکے زندہ جلا دیا گیا۔ لیکن عدالت نے مجرمان کو سزا دینے کی بجائے باعزت بری کر دیا ۔
لعنت ہے اس نظامِ انصاف پر ۔۔ ہزار لعنت !!
میرے پیارے حوالدار بھائی، میجر صاحب نے آپکو پھر نہیں بتایا کہ سردیوں کے آخر پر مئں امریکہ آ گیا تھا۔
پھر اصل مسلے کی طرف آتے ہیں۔ جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا :
1- آپ نے سر پلس بجٹ نہیں کروانا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ پورا پاس نہیں کروانا
سب سے پہلے تو اس ایف بی آر کے چئیرمین کا طرز زندگی چیک کریں نا کتنی تنخواہ لیتا ہے اور کیسی شاہانہ زندگی گزار رہا
اسکے بعد ایک پولیس کے ایس ایچ او کا
پھر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز
پھر اینٹی کرپشن کے افسران
ججوں کا
تحصیل داروں کا
تاجر جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو اس ملک کو چلا رہا اسے کام نہیں کرنے دینا کیا؟؟
ایف بی آر کے افسران ہی کرپٹ ہیں
ایف بی آر بطور ادارہ کرپشن کا گڑھ ہے
ریاست کو ٹیکس کولیکشن کے لیے فوری کوئی اور نظام لانا پڑے گا۔
ریاست پاکستان کم سے کم یہ قانون بنا دے جہاں کسی عمر بچی سے ز۔یا۔د۔تی کو درندہ کر رہا ہو تو عوام کو حق ہو اس کو زندہ جلا دیا جاے ۔۔
شیخوپورہ میں سات اٹھ سال کی بچی کے ساتھ د ر ن دہ صفت شخص ب د فعلی کر رہا ہوتا محلے والے پکڑ لیتے ہیں ۔۔
جب عدالتوں میں ایسے کیسز کا فیصلہ سالوں بعد ہوتا ہے جس میں ویڈیو موجود ہوتی ہے ثبوت موجود ہوتے ہیں گواہان موجود ہوتے ہیں ان کو بھی کئی سال لگ جاتے ہیں تو سوچیں ان کیسز کا کیا بنتا ہو گا جس میں ثبوت صرف عورت کی گواہی ہوتی ہے ۔۔
جب کیسزاتنے لمبے چلیں گے تو ایسے کیسز میں مدعی معاف کر دیتے ہیں یا پھر پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے کیسز کی پیروی کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔۔
کیا کبھی اس پر بیٹھ کر ملک کھ ٹھیکداروں نے سوچا ہے کہ تیز ترین انصاف کیلے قوانین بناے جائیں ایسے سگین ج ر ا ئم میں مدعی معاف بھی کر دے تو ریاست اس کیس کی مدعی بنے ۔۔
کیا لازمی ہے حکومت تب ایکشن لے گی جب تک بچیوں کی لا-ش نہی ملتی جب تک انٹرنیشنل میڈیا نہی بولتا ۔۔
اس بچی کی عمر دیکھیں زینب جتنی ہے ۔ دیکھتیں ماں جیسی ریاست اس کیس میں مجرمان کو پکڑ پاتی ہے یا نہی ۔۔ شکل واضح ہے اس ب غ ی رت کی ۔
والدین سے بھی گزارش ہے کم عمر بچیوں کو اکیلے کہیں نہ بھجیں ۔
اپنے چھوٹے معصوم بچوں کے بارے میں کسی رشتہ دار محلے دار اپنے گھر کے ملازم ڈرائیور پر اعتبار نہ کریں کوئی کس وقت آپ کے معصوم بچے کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا دے وہ ٹراما اس معصوم بچے کے لئے ساری عمر ختم نہہں ہو سکتا
ہم اپنے معاشرے کو وہ تربیت نہیں دے سکے کہ وہ مہذب معاشرہ بنتا لیکن اپنے چھوٹے معصوم بچوں کو Bad Touch کے بارے میں ضرور بتائیں تاکہ وہ کسی ایسی صورتحال میں شور ڈال سکیں
اپنے بچوں کی حفاظت کریں
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
علیمہ خان کا مطالبہ 🚨
عمران خان کو ان کے blood test کے رپورٹ نہیں دئے جا رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ پمز ہسپتال کے رپورٹس کو چھپایا جا رہا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے وہ بھی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں
راولاکوٹ آگے پولیس، پیچھے تمبر کا ڈنڈا۔ غاصب ذہنی مریض کے ذاتی نوکروں کے چہرے ذرا ملاحظہ کیجیے۔ نہتے اور پُرامن مظاہرین پر گولیاں چلانے والوں کی اصل اوقات عوام کے سامنے یہی ہے۔ اپنا قبلہ درست کریں، ورنہ عوام کے پاس آپ کا علاج موجود ہیں۔
#RightsMovementAJK
تھانہ سمبڑیال کی حدود میں بیوہ خاتون کو بیہودہ حرکت کا نشانہ بنایا گیا اس درندے کو اگر کوئی جانتا ہے تو فوری پولیس سے رابطہ کرے سی سی ڈی پولیس سے گزارش ہے کہ اسے جلد از جلد نشان عبرت بنایا جائے
مظلوم کی آواز بنو
افسوس ناک واقعہ
کلمہ چوک لاہور سے تعلق رکھنے والا فیاض بوٹا جو کے یاسر اینڈ ناصر رینٹ اے کار 🚗 پر کئی سالوں سے ملازمت کرتا تھا اور ان کا فیملی ڈرائیور بھی تھا ۔
9/2/2026 کو اس رینٹ کے مالک 3 عدد عورتوں کو گاڑی دیتے ہیں اپنے ڈرائیور فیاض بوٹا کے ساتھ اور جانا ہوتا ہے سندھ ٹنڈو آدم ۔
10/2/2026 بروز منگل کو ڈرائیور بحفاظت سواریوں کو منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
11/2/2026 تک ڈرائیور فیاض کا رابط رہتا ہے اپنی فیملی کے ساتھ اور اس کے بعد رابطہ نمبر مکمل طور پر بند ۔
12/2/2026 کو رینٹ اے کار کے مالک بغیر کسی کو بتائے خود سندھ جا کر اپنی گاڑی واپس لے آتے ہیں۔ ڈرائیور کے بغیر۔ فیملی کو کچھ نہیں بتاتے۔ اور کہتے تھے کہ فیاض خود ہی واپس آجاے گا ۔
ایک دو دن گزرنے کے باوجود فیاض کے گھر والے تھانہ نشتر کالونی لاہور میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے جاتے ہیں۔ اور کار کے مالک رپورٹ ہی درج نہیں ہونے دیتے ۔
کافی دن گزرنے کے باوجود 28/2/2026 کو ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے پاس جاکر تھانہ نشتر کالونی میں رپورٹ درج کرائی ۔ رپورٹ درج کروانے پر بھی ڈرائیور کے گھر والے تھانے کے چکر لگا لگا کر تھک گئے ۔پولیس ڈرائیور فیاض کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ۔
کافی دن گزرنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر میں رپورٹ جمع کرادی گئی ۔ دو دن کے اندر گاڑی کا مالک اور تھانہ نشتر کالونی کی پولیس خود ہی سندھ ٹنڈو آدم جاکر ڈرائیور فیاض بوٹا کے گھر والوں کو 18/4/2026 کو فون کرتے ہیں کے اپنے بندے کی ڈیڈ باڈی 🚑😭😭 یہاں سے آکر لے لو ۔ تشدد زدہ لاش ہاتھ پاؤں باندھی اسی گھر سے جہاں سے گاڑی والے اپنی گاڑی واپس لے آتے ہیں۔
ابھی تک انصاف نہیں ملا ۔ ابھی بھی مقتول کے گھر والے انصاف کے لیے دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ درخواست ہے کہ وزیراعظم صاحب۔۔۔ ۔وزیراعلئ مریم نواز پنجاب ۔۔۔۔ آئی جی پنجاب ۔۔۔ ڈی آئی جی، سی سی ڈی پنجاب سہیل ظفر چٹھہ صاحب انصاف دیا جائے
یہ ادارہ قلب ( کارڈیالوجی ) دل کا مشہور ہسپتال راول روڈ راولپنڈی میں واقع ھے جہاں ہزاروں مریضوں کا دل کا علاج ہوتا ھے۔
اسکے واش رومز کا حال دیکھیں ایسے واش رومز جہاں ہر طرف غلاظت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں
ہسپتال کی انتظامیہ حکومت سے پورا پورا فنڈ لیتی ھے لیکن اندر صفائی کا عملہ اور اسکے اوپر بیٹھے افسران کا حال دیکھ لیں۔
امان کا انتہائی جذباتی جوشیلہ اور ولولا انگیز خطاب اختتام پذیر ہوا ... خطاب کا محور و مرکز یہی رہا کہ گولی پیٹھ پر نہیں سینے پر کھائیں گے، اور پیچھے کسی صورت نہیں ہٹیں گے، یہ 12 سیٹیں نہیں چاہیے تو نہیں چاہیے...
کور ممبران کے فیصلے پر عمل درامد ہوگا لیکن کور ممبران فیصلہ یہیں بیٹھ کر کریں گے ...
کرنل عامر نواز اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ گزشتہ رات میری زمین پر قبضہ کرنے آیا، میرے گھر میں توڑ پھوڑ کی
میرے ساتھ بدتمیزی کی
اس بہن کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ یہ کرنل جرنل کی بدمعاشیاں تمہارے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہیں
35 سال پہلے ایک محنت کش انسان نے اپنے بچوں کی روزی حلال کمانے کے لیے ایک چھوٹا سا ہوٹل شروع کیا تھا۔ وقت بدلتا گیا، حالات بدلتے گئے، مہنگائی بڑھتی گئی، لیکن اس بزرگ کا جذبہ، محنت اور ایمانداری کبھی نہیں بدلی۔ آج بھی یہ بابا جی صبح سے رات تک محنت کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو صاف ستھرا، معیاری اور مناسب قیمت پر کھانا فراہم کر سکیں۔
بہاولپور شاہی بازار کے مشہور ملت ہوٹل کے یہ بزرگ بابا جی صرف کھانا ہی نہیں بیچتے بلکہ محبت، خلوص اور انسانیت بھی بانٹتے ہیں۔ پانچ وقت کے نمازی ہیں، نرم مزاج ہیں اور غریب لوگوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ضرورت مند کم پیسے لے کر آ جائے تو اسے خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے۔ کبھی روٹی کے ساتھ سالن دے دیتے ہیں، کبھی اپنی جیب سے مدد کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ آج کے دور میں بہت کم رہ گئے ہیں۔
🌹 یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے انسانیت ابھی تک زندہ ہے۔ 🌹
الحمدللہ میرا مقصد بھی ایسے ہی محنت کش اور نیک دل لوگوں کو آپ تک پہنچانا ہے۔ میں آج تک بہاولپور میں جتنے بھی چھوٹے کاروبار کرنے والوں، سٹریٹ فوڈ فروشوں، بزرگوں اور محنت مزدوری کرنے والوں کی ویڈیوز بناتا آیا ہوں، ان سے کبھی ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔ صرف اللہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے لیے ان کی آواز بننے کی کوشش کرتا ہوں۔
کچھ لوگ میرے پیج پر رپورٹس بھی کرتے ہیں، لیکن آپ لوگوں کی محبت اور دعائیں میرے لیے سب سے بڑی طاقت ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسے محنت کش لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تو اس پوسٹ پر اپنا خوبصورت کمنٹ ضرور کریں، زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اس پوسٹ کو اوپر لے کر جائیں۔
❤️ اب بات کرتے ہیں ملت ہوٹل کی ❤️
یہ ہوٹل گزشتہ 35 سال سے بہاولپور کے عوام کو بہترین کھانے فراہم کر رہا ہے۔ یہاں چکن کوفتے، پالک پنیر، چکن بون لیس ہانڈی، بیف بون لیس ہانڈی اور کئی مزیدار آئٹمز انتہائی مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ بابا جی صفائی کا بے حد خیال رکھتے ہیں اور زیادہ تر کھانا خود اپنی نگرانی میں تیار کرواتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ملت ہوٹل کے بابا جی کے رزق میں بے شمار برکت عطا فرمائے، انہیں صحت، تندرستی اور لمبی عمر نصیب فرمائے، اور ان کی تمام نیک تمنائیں پوری فرمائے۔ آمین۔ 🤲❤️
آپ سب بابا جی کے لیے ایک ❤️ ضرور چھوڑ کر جائیں اور کمنٹ میں “ماشاءاللہ” لکھیں
Via Facebook
ڈکٹیٹر کا پاکستان: پاکستان کے مسائل حل؛ کم از کم ایک ہزار بندے مار دو۔
کسی بھی نارمل یا مہذب ملک میں ایسے شخص کو نوکری سے نکال کر جیل میں ہونا چاہیے تھا، لیکن یہاں ایک ذہنی مریض نے اسے ترقی دے کر آزاد جموں و کشمیر کا آئی جی پولیس لگا دیا گیا۔
سابق کیپٹن اور جموں و کشمیر کے حاضر ڈیوٹی آئی جی ملک لیاقت علی سول سروسز کے انٹرویو میں فخر سے اپنی ذہنی عدم استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔آفیشل انٹرویو میں اتنی بڑی بات آرام سے کہنا نارمل انسان کی سوچ نہیں ہو سکتی۔
لیکن یہ صرف باتیں نہیں تھیں۔ 9 مئی کے کریک ڈاؤن، زمان پارک آپریشن، انتخابات کی زیادتیاں اور عمران خان کی گرفتاری—جہاں طاقت کا ننگا ناچ ہوا اور شہریوں و کارکنوں کو کچلا گیا، وہاں ان کا نام سامنے آیا۔ انہوں نے اپنی سوچ کو عملی شکل دے دی۔
انعام میں انہیں مزید ٹارگٹ پریکٹس اور ہزار بندے مارنے کا خواب پورا کرنے کے لیے کشمیر کی عوام ملی۔
یہ ہے #عاصم_لاء کی حقیقت۔ یہاں قانون کی بات کرنے والوں کو سزا ملتی ہے جبکہ جو جتنا بڑا ظالم ہو، قانون کو پیروں تلے روند کر طاقت کا راج قائم کرے، اسے بڑے عہدے دیے جاتے ہیں۔ یہ اب قائد یا اقبال کا پاکستان نہیں، ذہنی مریض کا مقبوضہ پاکستان ہے۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
ملک لوٹنے والے اقتدار کی کرسیوں پر اور یہ معصوم بچہ کس حالت میں؟؟
منچن آباد علاقہ میکلوڈ گنج چوری کے الزام میں اس بچے کو گندم کے گودام میں رسیوں سے باندھا ہوا ہے
اس شدید گرمی میں اگر بچہ جان کی بازی ہار جائے تو کون زمہ دار ہوگا ؟؟؟
اس معصوم بچے نے تمہاری گائے کو ہاتھ لگا دیا یا گائے چوری کر لی تھی ظلم کی بھی کوئی حد ہوتی ہے واہ بے غیرت واہ تہاڈی بے غیرت تینوں سلام
پتوکی تھانہ سرائے مغل میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص عوام کے ہتھے چڑھ گیا اہل علاقہ نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا آج نشاندہی کے لئے پولیس ملزم کو لے کر جا رہی تھی کہ پولیس وین کا ٹائر پنکچر ہو گیا اور ملزم کانسٹیبل کو دھکا مار کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ایس ایچ او سرائے مغل نے فوری ٹیم تشکیل دے کر ملزم کی گرفتاری کا حکم دے دیا
لاہور:3 بیٹیوں کا باپ فائرنگ سے ،،،
لاہور شفیق آباد میں فائرنگ ، شہری جاں بحق شفیق آباد کے علاقے میں وقاص نامی شہری اپنی بیٹیوں کو گھر کے باہر جھولا جھلوا رہا تھا ملزم فريد عرف ماجھا مالی نے مبینہ طور پر اندھا دهند فائرنگ کر دی ۔
فائرنگ کے نتیجے میں وقاص شدید زخمی ہو گیا تھا واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر اگئی ۔
شفیق آباد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ۔ایف آئی آر میں نامزد تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
ملزمان کی فائرنگ سے وقاص کے کندھے پر گولی لگی ، جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا ۔
پولیس واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہی ہے ۔