یہ میرا نیا اکاؤنٹ ہے میرے پہلے والے اکاؤنٹ کو پٹواریوں نے رپورٹ مار کر سسپینڈ کروا دیا ہے کیونکہ میں حق سچ کی بات کرتی ہوں میرے اس اکاؤنٹ کو فالو کریں،
یہ جیو نیوز کی ویب سائٹ پر لگی خبر کا عکس ہے۔ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کے خلاف انکوائری ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ 2003 سے 2007 کے دوران دونوں بھائیوں کے “ پرائز بانڈز “ لگتے رہے جسکی وجہ سے وہ اتنے امیر ہوگئے تھے۔
🚨🚨پاک افواج کے نام:
ڈراپ سائیٹ ن�� سائفر لیک کر کے یہ ثبوت دنیا کے سامنے رکھ دیا کہ پاک فوج کے جرنیل غدار ہیں اور آج تک پاکستان فوج کے ان ناسوروں نے ہر دور میں ملک کا سودا کیا اور حکمرانی صرف ذاتی مفادات تک محدود رکھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی یہ کینسر زدہ شاخ پاکستان پر قابض ہے، پاکستان کا ان کے علاوہ اور کوئی دشمن نہیں اور پاکستان ان کے ہوتے ہوئے کبھی ترقی نہیں کرے گا
فخر یہ ہونا چاہئے کہ ہم اس ادارے سے منسلک رہے لیکن افسوس کہ ہم اس ادارے سے وابستہ ہونے کے باوجود ایک خاص رینک سے آگے پہنچنے والے ان بھیڑیوں کو پہچان نہ سکے اور انہیں محب وطن سمجھتے رہے۔ آگے وہی جاتا ہے جو ان سے ہاتھ ملاتا ہے ورنہ وہ نچلے رینکس پر ہی ریٹائر ہوجاتا ہے اور پھر اپنے پلاٹس، پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی میں ملنے والی انہی جرنیلوں اور اس نظام کی نیم سرکاری نوکریوں کے چکر میں اپنے حلف کو یکسر بھلا چکا ہوتا ہے اور بس یہی حصول زندگی کا سب سے بڑا مقصد معلوم ہوتا ہے۔ جوان خون، امنگیں اور کچھ کرنے کا سارا خواب اب خاندان کو پالنے کی حد تک محدود ہوجاتا ہے، سسٹم انہیں یہ بھی باور کروا چکتا ہے کہ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہو سکتا، بس اپنا حصہ وصول کرو اور غلامانہ زندگی کو وراثت کرتے جاؤ۔
یاد رکھیں اللہ آپ سے آپ کے پیدا ہونے سے پہلے یا مرنے کے بعد کا حساب نہیں لے گا بلکہ آپ نے اپنی زندگی میں کیا کیا، مشکل حالات میں حق یا باطل میں سے کسی کو چنا یا صرف وقتی مصلحت پسندی کی وجہ سے خاموشی اختیار کر کے منافقانہ زندگی گزاری اور ظالم کے خلاف جہاد نہ کیا، صرف اس کی بابت پوچھ گچھ ہوگی، اور واپسی کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔
اب جبکہ سب متعدد بار واضح ہو چکا تو ہمیں اٹھنا ہوگا اور غداروں کا قلع قمع کرنا ہوگا، افسوس کہ پاک فوج میں غیرت مند جرنیل اور سینئیر افسران ختم ہو چکے ہیں جو اٹھیں اور نظام پر قابض غداروں سے ملک کو پاک کریں، منافقت اور خاموشی سے بھیک کی روٹیاں تو شاید ملتی رہیں لیکن خودداری اور غیرت مند زندگی کبھی نہیں ملے گی۔
اصل غدار پاک فوج کے سینئیر افسران ہیں
#سائفر_ایک_حقیقت
سائفر پر عمران خان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ یا پھانسی کی دھمکیاں ایسے لگا رہے ہیں جیسے وہ نیب کے ریسٹ ہاوس میں ہے یا علاج کے لیے لندن بھاگا ہوا ہے۔
یہ سائفر باجوہ ، ندیم انجم اور وغیرہ وغیرہ کو پھٹے تک پہنچائے گا۔ پچھلا آئی ایس آئی چیف اگر جیل جا چکا تو اگلا آرمی چیف کیساتھ جائے گا۔ یہی ارتقاء ہے۔ یہی تاریخ کا سبق ہے۔
@jokkeerrr2 جائینٹ فیملیز جہاں ایک گھر میں بھائیوں کے الگ میٹر ہوتے ہیں، تصدیق کے دوران CNIC/پتے کی مماثلت میں مسائل ہو سکتے ہیں الگ کیو ار کوڈ سکین نہ کرنے سے ایک یا زیادہ میٹرز کی سبسڈی ختم ہو سکتی ہے
ک��ایہ دار جہاں بل مالک کے نام پر ہے وہاں بھی پیچیدگیاں ہوں گی
https://t.co/XItlim4CD9
بجلی کا بل زیادہ آتا ہے میم نے پنکھے بند کروا دیئے ہیں اشرافیہ کی مراعات جاری و ساری اور بچے اتنی شدید گرمی میں بغیر پنکھوں کے سکول میں بیٹھے ہیں رانا سکندر حیات صاحب توجہ فرمائیے
Victoria Nuland, the former U.S. Department of State spokesperson, connects Asim Munir to Donald Lu and the cypher affair—a pretext exploited by General Bajwa and Munir’s camp to oust Imran Khan and later manipulate the elections.
#CypherDecoded
عظمیٰ بخاری اور عطاء تارڑ دونوں سرکاری نوکریاں بیچ کر اربوں روپے کا دھندہ کر رہے ہیں۔
مریم نواز کی دیگر کنیزیں بھی فوج کی سرپرستی میں سرکاری نوکریاں بیچنے کا دھندہ کر رہی ہیں۔
#سائفر_ایک_حقیقت
بیرسٹر شہزاد اکبر کا ولاگ دیکھیں یا PTI کے یو ٹیوب پہ علی ملک سے ان کی گفتگو سنیں، سب سے اہم نکات یہ ہیں:
۱۔ باجوہ نے امریکہ کو پاکستانی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کروانے کی مذموم کوشش کی، لیکن ناکام ہوا کیونکہ چیئرمین جوائنٹ چیف کا آفس بھانپ گیا تھا کہ امریکہ سے واپس آتے ہیں باجوہ ��ہ کیوں کروانا چاہتا ہے.
۲۔ پھر ریٹائرڈ عاصم منیر کو مسلط کرکے، آئینی ترمیم کروا کے ، CDF بنوا کے، چیئرمین جوائنٹ چیف کا آفس ختم کرکے، ایٹمی اثاثوں اور تنصیبات پر سے چیک اینڈ بیلنس ختم کرکے تمام اختیار صرف ایک شخص عاصم منیر کو دے دیا گیا تاکہ امریکہ ایک compromised شخص سے جو چاہے کروا سکے!
@ShazadAkbar
#سائفر_ایک_حقیقت
1/2
پہلے کہتے تھے گبر سنگھ آ جائے گا۔ اب ڈرایا جا رہا ہے کہ بندے کے پتر نہ بنے تو پنکی کی لسٹ میں ڈال دیے جاؤ گے۔ پاکستان میں جو بھی کروانا ہو اب پنکی کی ڈائری چلے گی۔ مولا��ا سمیع الحق حقانی یاد آ جاتے ہیں۔ انہوں نے غلطی سے حکومت کے خلاف کوئ بیان دے دیا تھا۔ پھر پرانے دوستوں کو یاد ہوگا رات و رات میڈم طاہرہ کی ڈائری آ گئ۔ ان کو مولانا سینڈوچ کا لقب تو ملا ہی مگر اسلام باد میں ہر ن��قد ریاست کو یہ ڈر تھا کہ وہ میڈم طاہرہ کی ڈائری میں ہے۔ آج کی میڈم طاہرہ پنکی بن چکی۔ جو اوقات میں رہے گا وہ بچے گا ورنہ۔ ویسے اس سے کئ اصلی نگینے جو کہ پنکی کے اصلی گاہک تھے وہ بھی بچ جائیں گیں یہ کہ کر کہ وہ تو سیاسی کھیل تھا۔ یہ ہے کہانی پاکستان کی
سمجھ جائیں کہ سائفر کے پیچھے چھپے چہروں کو سب سے پہلے بےنقاب کرنے والے کو راستے سے کیوں ہٹایا گیا، ورنہ جو سچ چار سال بعد ڈراپ سائٹ نے ریلیز کیا وہ 2022 میں ہی منظرِعام پر آجانا تھا۔ ارشد شریف، آج آپ بھی سرخرو ہوئے!
#سائفر_ایک_حقیقت#اللہ_الحق_ہے
عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 12 مارچ 2026 کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ۔
درخواست کے مطابق دائیں آنکھ میں خون جمنے (CRVO) کی وجہ سے عمران خان کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے ۔
عمران خان نے پٹیشن میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیل میں ان کی خوراک کو آلودہ (Contaminate) کیا جا رہا ہ�� ۔
درخواست میں پمز ہسپتال کے بجائے فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔
پٹیشن کے مطابق جیل حکام نے سپریم کورٹ میں جمع کرانے والے وکالت نامے پر عمران خان کے دستخط کرانے سے انکار کر دیا ۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے مقابلے میں عمران خان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے ۔
عمران خان کو گزشتہ کئی ماہ سے ان کی فیملی، وکلاء اور ذاتی معالجین (ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف) تک رسائی نہیں دی جا رہی ۔
درخواست میں ڈاکٹر خرم مرزا، ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر سمینہ نیازی سے فوری طبی معائنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔
پٹیشن کے مطابق پاکستان قیدیوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے "نیلسن منڈیلا رولز" کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔
درخواست ایڈووکیٹ سپریم کورٹ عزیر کرامت بھنڈاری نے تیار کی ہے جو نعیم حیدر پنجوتھا کے ذریعے دائر کی گئی ہے ۔
اس روز پاک فوج تو دکھی تھی۔ حامد میر ، نجم سیٹھی ، سلیم صافی اور نصرت جاوید بہت زیادہ دکھی تھے۔ اور عرض کیا ہے سائفر نا ہوگیا عمران خان ہوگیا۔ سارے غدار ننگے کرگیا ہے۔
منیر ہیں عمران کی رہائی نہیں ہوگی بارہا کہا "عمران خان کی قید ایک عالمی ایجنڈہ کے تحت ہے جسے موجودہ حکومت پورا کررہی ہے" جن کاموں سے عمران نے پاکستان کے م��اد میں انکار کیا عاصم منیر وہی کام کررہے ہیں 2021 میں جب سی آئی اے عمران کو ڈرون اڈے بنانے پر زور دے رہی تھی تو عمران نے انکار کیا اس پر واشنگٹن اسلام آباد سے تنگ ہوا سعودی عرب بھی اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کے لیے پاکستان کے دروازے پر زور ڈال رہا تھا عمران خان نے دونوں کو منع کیا لیکن عاصم منیر نے اس کے برعکس کیا اس صورتحال میں "زنداں ٹوٹے گا اور خان چھوٹے گا" کا نعرہ ایک فیالحال ایک خواہش ہی ہو سکتی ہے حقیقت نہیں ۔۔۔
دو خبریں ایک طرف مریم نواز صاحبہ باکو میں تندور پر روٹیاں لگا رہی ہیں دوسری طرف پنجاب کے میٹرو ملازمین کے تین مہینے سے چولہے ٹھنڈے ہیں۔۔کبھی ستھرا پنجاب کے ملازمین احتجاج پر ہوتے ہیں تو کہیں پیرا ریڑھی بانوں کی زندگیاں اجیرن کر رہا ہے کیا ہو رہا پنجاب میں ؟
ایک بار میں فیلڈ مارشل کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ فیلڈ مارشل کہنے لگے: اگر مریم میری نا ہوئی تو میں اسے کسی اور کی بھی نہیں ہونے دوں گا۔ جس پر میں نے پوچھا: اگر وہ آپ کی ہو گئی تو کیا آپ اسے سب کی ہونے دیں گے؟ جس پر پہلے فیلڈ مارشل نے آدھا گھنٹہ دماغ لگا کر بات کو سمجھا اور پھر تسلی سے میری پٹائی کی۔
اِقرار الحسن کی ڈائری سے
🚨حیران کن انکشافات
انکو یہ بھی پتا ہوتا ہے کہ انکو کیسی لڑکی پسند ہے کس عمر کی پسند ہے
بھائی میں پوری زندگی سایفر کو دیکھتا رہا ہوں اس سایفر کے بارے میں میری واضح راۓ ہے امریکنوں کی سوچ اور خواہش ہو��ی ہیں اور تکمیل تک ہم غلام یعنی باجوہ اور ن لیگ پیپل پارٹی پہنچاتے ہیں عمران خان اور پاکستان کے خلاف سازش باجوہ اور ان دو غلام پارٹیوں نے کی ہے
سابق سفیر شمشاد احمد خان صاحب 👍✌���🔥
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے.
ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرت�� ہوئے پایا جس کی زبان پر "یاکریم یاکریم" کی صدا تھی۔ حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم،، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔
اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے! اے حسین قد والے! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں.
سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟
عرض کیا: نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟
عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔
وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔
عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لونگا۔
آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا؟
اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟
اگر اس نے میری نافرمانیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔
اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔
حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔
کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے۔
ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے۔۔۔۔
( کتاب: مسند احمد بن حنبل ...)