All the news circulating on social media that a former Army Chief met Imran Khan in Adiala Jail are fake.
We have checked with Barrister Gohar and he has also confirmed that this is totally fake!
It is disinformation especially spread to distract from the fact that Imran Khan is being tortured through total isolation.
A distraction from the fact that:
1) He is not allowed proper treatment for his eye in a proper hospital.
2) He has not been allowed to speak to his sons.
3) He has not been allowed books for the past 6 months.
4) He has no television
5) He has not been allowed contact with anyone from the outside world in the past 6 months, except two visits by his lawyer on the orders of the court.
There is a full bench court order that allows for at least 18 people to visit him every week. 6 family members and 6 lawyers on Tuesdays, and 6 party members on Thursdays.
All above are Imran Khan’s lawful rights, under Pakistan’s laws and the International laws.
پاکستان تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت MWM کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کے تمام 24 حلقوں میں جن امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، اُن کے نام درج ذیل ہیں
1) جی بی اے 1، گلگت 1 : الیاس صدیقی (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
2) جی بی اے 2، گلگت 2: عتیق پیرزادہ
انتخابی نشان: ٹرانسفارمر
3) جی بی اے 3، گلگت 3: سید سہیل عباس شاہ
انتخابی نشان: شانٹی ٹوپی
4) جی بی اے 4، نگر 1: زلفقار علی
انتخابی نشان: مینار
5) جی بی اے 5، نگر 2: ریاض اکبر (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
6) جی بی اے 6 ہنزہ: نیک نام کریم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
7) جی بی اے 7، سکردو 1: راجہ محمد زکریا
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
8) جی بی اے 8، سکردو 2: محمد کاظم میثم (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
9) جی بی اے 9، سکردو 3: وزیر اظہر مہدی(MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
10) جی بی اے 10، سکردو 4: ڈاکٹر محمد شریف
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
11) جی بی اے 11 کھرمنگ: سید محسن زیدی
انتخابی نشان: نلکا
12) جی بی اے 12 شگر: ایڈوکیٹ حسن شگری
انتخابی نشان: میڈل
13) جی بی اے 13, استور 1: شاہد
انتخابی نشان: شانٹی ٹوپی
15) جی بی اے 15 دیامر 1: نوشاد عالم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
16) جی بی اے 16 دیامر 2: سید عابد اقبال
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
17) جی بی اے 17 دیامر 3: حاجی کمان
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
18) جی بی اے 18 دیامر 4: ایوب قریشی
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
19) جی بی اے 19، غذر 1: شیر عظیم خان
انتخابی نشان: چارپائی
20) جی بی اے، 20 غذر 2: ندیم رفیق
انتخابی نشان: تالا
21) جی بی اے 21، غذر 3: راجہ جہانزیب
انتخابی نشان: چمٹا
22) جی بی اے 22، گانچھے 1: محمد اختر خان (MWM)
انتخابی نشان: نلکا
23) جی بی اے 23، گانچھے 2: عبد الرحیم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
24) جی بی اے 24، گانچھے 3: صداقت حسین
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
حکومت "سائفر" پر عجیب پھنس گئی ہے۔ اگر مانتی ہے کہ اصلی ہے تو عمران خان کی سچائی پر حکومت کی طرف سے مہر لگتی ہے، اور اگر کہتی ہے جھوٹا ہے تو سچا دکھانا پڑ جائے گا اور سچائی عمران خان کی تب بھی ثابت ہو جانی ہے۔ سید ذیشان عزیز
#pakistan@iemziishan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
About 7 Million Views now for the Cypher shared by @DropSiteNews.
Why is this is going viral? It is because everyone in Pakistan’s establishment including top Generals denied it and used the controlled electronic media to say the same.
Imran Khan and his Awaam proven truthful as the existence of cypher and its contents are public.
Truth finds its way! It remains to be seen which Generals in Pakistan get tried for Article 6.
کل عوام کے منتخب نمائندے آ رہے تھے جن کا راستہ روکا گیا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ سامنے انسداد دہشت گردی فورس کھڑی کی ہوئی تھی۔ ایسا پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔
عمران خان نوے فیصد عوام کے لیڈر ہیں۔ ہم اور کچھ نہیں چاہتے، بس عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا علاج ہو۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
سہیل آفریدی کو چار چھ مہینے بعد اڈیالہ جانے کی ہوش آئی ہے۔ اچھی بات ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ پختونخواہ کا بجٹ بھی قریب ہے۔ یہ بجٹ عمران خان سے ملاقاتوں اور انکے علاج کے بغیر نا پیش ہوگا نا پاس ہوگا اور سرپلس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ہمیں گرفتار کرنا ہے تو کریں، کارکنوں کو گرفتار نہیں کرنا چاہئے، علیمہ آپا کو گرفتار کیا تھا، اب وہ آ گئی ہیں، 2 کارکنوں کو گولی لگی ہے، اشتعال میں نہیں آنا، ہم نے پر امن رہنا ہے، سہیل آفریدی
دھرنے سڑکوں کی بندش سے کل شہری بہت ذلیل و خوار ہوئے اگر یہ لوگ اڈیالہ روڈ پر پہلے کی طرح چلے بھی جاتے تو کیا ہو جاتا ۔۔۔ عوام تو ذلیل نا ہوتی ۔۔ حکومت پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ان کا مطالبہ فیملی ملاقات علاج کا جائز مطالبہ ہے حکومت اس پر یقین دہانی بھی ملاقاتیوں سے لے سکتی ہے لیکن حکومت نے بھی طے کر لیا ہے جو مرضی ہو جائے مطالبہ کی طرف نہیں جانا
مزاحمت جاری رہے گی
سڑکوں کو بند کرنا۔ پر امن احتجاج کو جبر کے زریعے روکنا۔ عمران خان کی بہنوں کو ملاقات سے روکنا۔ عمران خان کو طبی سہولیات فراہم نہ کرنا اور پھر پر امن شہریوں پر گولیاں چلانا بدترین جبر اور سفاکیت ہے۔ اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
آج کا دھرنا تحریک انصاف کا سرپرائز تھا، سہیل آفریدی کارکنوں کی ڈھال بنے رہے، پولیس کے سامنے مزاحمت بھی کرتے رہے، ویسے سمجھ نہیں آیا انہیں 26 نمبر پر روکا کیوں، اگر اڈیالہ جیل جانے دیا جاتا تو یہ جو سڑکیں بند ہونے سے عوام خوار ہوئی ہے وہ نہ ہوتی۔۔!!