ہ مجھے ارشد شریف نے اپنی زندگی کے دوران ہی بتائے تھے۔ مذکورہ افراد کے ناموں کی چھان بین کی جائے کیونکہ ارشد کے حکومت کی تبدیلی پر پروگرام کرنے کے بعد اسے دھمکیاں ملنے لگیں۔ پہلے سب کچھ ٹھیک تھا۔ انہوں نے مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول سی او اے ایس جنرل باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیر دفاع وغیرہ کو خطوط بھی لکھے لیکن ان کی بدنیتی اور مداخلت نے انہیں کارروائی کرنے سے روک دیا۔ اس قتل میں مسلم لیگ (ن) کے ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ
فوج اور بالخصوص مذکورہ افراد دونوں کے کردار کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ حکومت کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ بہر حال صورتحال کی شدت کو جاننے کے باوجود جس کا تذکرہ ارشد نے خود بھی کیا، انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا اس لیے اوپر بیان کیے گئے لوگوں کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتے ہوئے انہیں کارروائی کرنے سے روک دیا۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو دیکھنے کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ ارشد کے خلاف ایف آئی آر آئی ایس آئی حکام کی ہدایت پر درج کی گئی تھی۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر اسلام آباد بریگیڈیئر فہیم کینیا میں وقار کے ساتھ رابطے میں تھے۔
قتل کے بعد طاقتور حلقوں کی جانب سے حقائق کو مسخ کرنے، ابہام پیدا کرنے اور تفتیش کو پٹڑی سے اتارنے کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ ارشد کو پاکستان میں جان کو حقیقی خطرات لاحق تھے اور جن لوگوں نے پاکستان میں یہ دھمکیاں دی تھیں وہ سب اس کے قتل کے ذمہ دار ہیں کیونکہ اس نے پاکستان چھوڑنے کے بعد بھی اپنا کام نہیں روکا اور اسے دبئی چھوڑ کر کینیا جانے پر مجبور کیا گیا۔ انہی مقتدر حلقوں کی جانب سے صحافی برادری میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے ارشد کی لاش کی تصاویر دنیا نیوز کے اینکر پرسن کامران شاہد کو بھی لیک کی گئیں اور ایک خاموش پیغام دیا گیا کہ جو ہماری بات نہیں مانے گا اس کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔ چونکہ اس کیس میں قومی اور بین الاقوامی عناصر ملوث ہیں اور ارشد شریف کو قتل کرنے کی سازش ان کو قتل کرنے سے پہلے کی گئی تھی اس لیے استدعا ہے کہ دفعہ 302 اور 334سی کے علاوہ شامل کی جائیں
میرا نام صومیہ ارشد ہے، میں شہید ارشد شریف کی بیوی ہوں۔ ارشد دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ اے آر وائے نیوز پر اپنا پروگرام کرتے تھے۔ وہ ایک معتبر صحافی تھے اور ان کی ساکھ میں کوئی شک نہیں تھا۔ وہ پچھلے 15 سالوں سے فوج کے ساتھ اچھے تعلقات پر تھے۔ انہوں نے تمام فوجی زمینی کارروائیوں کو کور کیا لیکن حکومت کی تبدیلی کے آپریشن کے بعد، حالات بدل گئے کیونکہ ارشد فوج میں ایسے افراد پر تنقید کرنے لگے جو سیاست میں مداخلت کرکے غیر قانونی کام کرتے ہیں۔ وہ تنقیدی سوالات اٹھا رہے تھے جیسے: این آر او 2 کس نے دیا، جسے طاقتوروں نے اچھا نہیں لیا۔ اے آر وائے نیوز چینل پر 31 مئی 2022 کو ان کا پروگرام ‘وو کون تھا’ اس کی ایک مثال ہے۔ اس پروگرام کو جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے خلاف سمجھا گیا اور یہ پیغام ارشد کو جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے مختلف ذرائع سے پہنچایا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ پروگرام ان کے خلاف ہے۔ ارشد کو پہلے آئی ایس پی آر کے بریگیڈیئر محمد شفیق ملک اور پھر بعد میں آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر فہیم رضا کی طرف سے متعدد دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں، جنہوں نے انہیں آئی ایس آئی سیکٹر ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں بلایا تاکہ انہیں میجر جنرل فیصل نصیر ڈی جی (سی) آئی ایس آئی کا پیغام پہنچا سکے۔ انہیں کہا گیا کہ وہ اپنا موقف بدلیں تاہم ارشد نے انکار کر دیا کیونکہ وہ آزاد صحافت، آزادی اظہار اور لوگوں کے جاننے کے حق پر یقین رکھتے تھے۔ بریگیڈیئر فہیم رضا نے آئی ایس آئی کے کرنل رضوان اور کرنل نعمان کے ذریعے دھمکیاں بھیجنا شروع کر دیں۔ ہمارے گھر آئی ایس آئی کے کرنل نعمان سے اپنی آخری ملاقات میں انہوں نے ارشد سے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اوپر سے آرہا ہے۔
ارشد اپنی سٹوریز سے باز نہ آیا تو اس نے اسے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔ جنرل باجوہ چاہتے تھے کہ ارشد ان پروگراموں (تحقیقاتی کہانیوں) کو روک دے اور یہ پیغام مختلف ذرائع سے ارشد تک پہنچایا گیا۔
صورتحال اس قدر سنگین تھی کہ ارشد کو مختلف معتبر اور قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا کہ راولپنڈی کے ایک انٹیلی جنس افسر کو ارشد کو قتل کرنے کی ہدایات بھیجی گئیں، لیکن وہ افسر حکم پر عمل درآمد کرنے پر آمادہ نہ ہوا اور اسے نتائج بھگتنا پڑے۔ ارشد نے میرے سامنے اس انٹیلی جنس افسر کے خاص طور پر کسی نام کا ذکر نہیں کیا۔
دھمکیوں کی شدت کے باعث ارشد کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنی پڑی۔ موٹرسائیکلیں اور کاریں ہر جگہ اس کا پیچھا کرتی تھیں۔ وہ ارشد اور اس کے گھر والوں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے کے لیے گھر کی گھنٹیاں بھی بجاتے تھے۔ ان کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف صوبوں میں بغاوت اور غداری کے جھوٹے اور گھٹیا الزامات پر 16 ایف آئی آر درج کرائی گئیں تھیں جن میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ملی بھگت سے انہیں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جانا تھا۔
مذکورہ دھمکیوں کے بعد ارشد نے مختلف اداروں کو خطوط لکھے جن میں معزز چیف جسٹس آف پاکستان، سی او اے ایس، ڈی جی آئی ایس آئی، صدر پاکستان، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، ڈی جی آئی بی، آئی جی اسلام آباد وغیرہ شامل تھے۔ دھمکیوں کا سلسلہ بڑھتا گیا اور اسے پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا۔
نو اگست 2022 کو ارشد کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی اور اسے اپنے متعدد معتبر ذرائع سے پاکستان میں قتل کرنے کے منصوبے کی اطلاعات بھی موصول ہونے لگیں، اس نے ہمیں بتایا کہ کچھ قاتل اس کا پیچھا کر رہے ہیں اور اسے حفاظت کے لیے پاکستان چھوڑنا پڑے گا۔ اسے دبئی میں بھی نہیں بخشا گیا۔ ارشد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی اس کے پیچھے تھے۔ دبئی میں تقریباً 10 دن قیام کے بعد دبئی حکومت کے حکام نے انہیں فوری طور پر دبئی چھوڑنے کو کہا۔ اس کے پاس بہت رستے ہیں بچے تھے کیونکہ ویزا سے انکار کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اسے کینیا جانا پڑا۔ وہ وہاں ایک فیملی (خرم اور وقار) کے ساتھ مقیم تھا۔ ارشد کو اے آر وائے نیوز سے بھی نکال دیا گیا کیونکہ اے آر وائی نیوز کو دوبارہ آن ائیر بحال کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ کینیا میں دو ماہ رہنے کے بعد اس نے 12 اکتوبر 2022 کو دبئی کا ویزا اپلائی کیا جو مسترد کر دیا گیا۔ ارشد اس سے پہلے بھی کئی بار دبئی گیا لیکن نہ تو اس کا ویزا مسترد ہوا اور نہ ہی اسے زبردستی ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ صرف اس بار ہوا ہے۔ یہ پاکستان کی عسکری قیادت کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں جس کے متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ارسلان ستی کے کردار کی بھی اس حوالے سے مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔
تیئس اکتوبر 2022 کو ان کا منصوبہ بند قتل ہوا، میں اپنے بیان میں جن حقائق کا ذکر کر رہی ہوں
مراد سعید کون ہے؟
پاکستان میں مافیاز اور ان کے سہولت کاروں نے کبھی کسی عام آدمی کو آگے آنے نہیں دیا -
مراد سعید نامی اس جوان کو گالی بنا دیا گیا،اس کے خلاف
غلیظ پروپیگنڈہ کیا گیا -
اس لیے کہ ان کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا -
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سوات کی جنگ میں دہشت گردوں نے اس نوجوان کی ماں کے سر پر گولیاں ماری، اس کے بھائی کو گولیوں سے چھلنی کر دیا -
تب یہ طالب علم اور سٹوڈنٹس سیاست میں تھے عمران خان ان کے گھر تعزیت کے لئے گیے اور انہیں عملی سیاست میں لے آئے -
موروثی اور غلیظ سیاست کے کارندے کہاں برداشت کرسکتے تھے -
مراد سعید اپریل 2022 کے بعد عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہے اور ثابت کیا وہ ایک نڈر اور بہادر انسان ہے۔
مراد سعید نے ملاکنڈ،سوات اور پشاور میں دہشتگردی کے خلاف امن مارچ کئے۔
مراد سعید ایک محب وطن پاکستانی ہے۔
مراد سعید پاکستان کے مڈل کلاس کا وہ چہرہ ہے جسکو دیکھ کر ملک کے لاکھوں نوجوان اپنے مستقبل کیلیے پر امید ہے ۔ اس محب وطن نوجوان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم پہلے ہی ارشد شریف جیسا ہیرہ رجیم چینج کی نذر کر چکے ہیں۔ مراد سعید کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
برصغیر میں جنگ عظیم دوم کے دوران انگریز فوج میں زبردستی بھرتیاں کی جا رہی تھیں۔ ایک مراثی کو بھی بھرتی کر لیا گیا۔ مراثی کی ماں روتی انگریز افسر کے پاس آئی اور کہا
"پتر اے مراثیاں دا بال کتھے لے چلا ایں؟"
انگریز افسر: ملکہ برطانیہ کو جنگ میں آپکے بیٹے کی ضرورت ہے
ماں بولی:
"پتر ملکہ نوں آکھیں کہ جے گل مراثیاں تک آگئی اے تے فیر صلح ای کر لو"
مورل آف دا سٹوری: اگر بات ناصر مدنی جیسے بھانڈوں تک آ گئی ہے تو بہتر ہے عمران خان سے معافی مانگ لو
تاریخ کا سب سے امیر ترین انسان منسا موسیٰ🏮
تاریخ کے مطابق دنیا کا سب سے امیر ترین شخص منسا موسیٰ تھا اس کو سب سے زیادہ شہرت اس کے سفرِ حج کی وجہ سے ہوئی جو اس نے 1324ء میں کیا تھا۔ یہ سفر اتنا پرشکوہ تھا کہ اس کی وجہ سے منسا موسیٰ کی شہرت نہ صرف اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصے میں پھیل گئی بلکہ تاجروں کے ذریعے یورپ تک اس کا نام پہنچ گیا۔ اس سفر میں منسا موسیٰ نے اس کثرت سے سونا خرچ کیا کہ مصر میں سونے کی قیمتیں کئی سال تک گری رہیں۔ اس زمانے میں غالباً مغربی افریقا کے اس علاقے میں سونا بہت زیادہ پایا جاتا تھا جہاں منسا موسیٰ کی حکومت تھی۔ حج کے اس سفر میں موسیٰ کے ہمراہ 60 ہزار فوجی اور 12 ہزار غلام تھے جنہوں نے چار چار پاونڈ سونا اٹھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ 80 اونٹوں پر بھی سونا لدا ہوا تھا۔ اندازہ ہے کہ موسیٰ نے 125 ٹن سونا اس سفر میں خرچ کیا آج آپ میں سے بہت سارے لوگوں نے منسا موسیٰ کا نام پہلی مرتبہ سنا ہو گا یہ ہے ایک انسان کی زندگی کی کہانی کے آپ کے مرنے کے کچھ سالوں بعد لوگ آپ کا نام بھی نہیں جانتے پھر بھی نواز اور زرداری اور انکی فیملیاں مال بناتی جا رہی ہیں جب کے انسان کو صرف تین وقت کا کھانا چاہیے اور ان میں سے اکثر اپنی زندگی کا زیادہ حصہ گزار چکے ہیں زیادہ سے زیادہ 15 یا 20 سال اور لیکن یہ 22 کروڑ عوام کو آٹے بجلی پانی اور روزگار کے لیے تڑپا رہے ہیں کوئی خوف نہیں اگر منسا موسیٰ کو کوئی یاد نہیں کرتا تو تمہیں تو لوگ ایک مہینے میں بھول جائیں گے-
خیبرپختونخوا میں اگرور کا مقام جو ہمارے #BillionTreeTsunami منصوبے کا حصہ تھا، کی کیفیت! پاکستان کو اس بڑے پیمانے پر سرسبز و شاداب بنانے کی پہلی مرتبہ سعی کی گئی۔
شوکت خانم اسپتالوں میں سرطان (کینسر) کے ہر 4 میں سے 3 مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔ اپنے زکوٰۃ و عطیات سے #EasetheBurdenofCancer میں ہمارا ہاتھ بٹائیے!
▪️عطیہ کرنے کیلئے https://t.co/VQzcuLE8vQ استعمال (visit) کیجئے!
▪️ہمارے نمائندے کے ذریعے گھر بیٹھے اپنے زکوٰۃ وعطیات بھجوانےکیلئے 080011555 پر کال یا 03000666363 پر وٹس اپ (WhatsApp) کیجئے!
https://t.co/UdTlPQf8VH
#ZakatForSKMCH #Zakat