پی آئی اے محض 0.48 ارب ڈالر کی بیچ ڈالی گئی۔
انتہائی حیرت انگیز ۔۔۔۔۔۔
پی آئی اے کی ملکیت میں، نیویارک کا روز ویلٹ جیسا قیمتی ہوٹل بھی شامل ہے۔ باقی ماندہ اثاثے اور جہازوں کی مالیت الگ
مح�� 0.48 ارب ڈالر۔۔۔۔۔۔عجیب!!!!
.
عدالتی حکم بھی آگیا۔ مولانہ فضل الرحمان کو غور کرنا چاہئے کہ آج اُن کی سیاست کہاں کھڑی ہے؟ حکومتی اتحاد نے بھی اُن سے جان چھڑا لی اور اپوزیشن اتحاد کی سب سے بڑی جماعت کے واضح مینڈیٹ کے خلاف بھی ایک غیر جمہوری اور غیر آئینی سازش میں شامل ہو گئے۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
12 اکتوبر کے یوم سیاہ کی سیاہی ن لیگ نے اپنے منہ پر مل لی ہے ۔۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے کہ جیسے پیپلزپارٹی نے 5 جولائی کے یوم سیاہ کی سیاہی اپنے منہ پر مل لی ہے۔
آج ن لیگ اور پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے حکومت چلا رہے ہیں ۔۔
مطیع اللہ جان
@B0oTaOfficial سوال۔ پاکستان اگر فلسطین میں فوج تعینات کرتا ہے تو اسکا فائدہ تو پاکستان کو بہت ہو گا ؟
الجواب: اللّٰہ آلیو۔ کہڑے پاسے ٹر پے او۔ اس بات پر غور کرو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ غزہ میں اگر پاکستانی فوج تعینات ہوتی ہے تو کس کے خلاف تعینات ہوگی؟ اور اسے کس ملک کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا ۔
کاروباری اشرافیہ تو آرمی چیف سےمُلاقات کرکےٹیکس چوری پر ایف بی آر کے “گرفتاری” اختیارات بھی ختم کروالیتی لیکن غریب ریڑھی والے کی رسائی فوجی اشرافیہ تک نہیں تو اُس کی دو وقت کی روٹی کا ذریعہ بھی سرِعام بیدردی سے توڑا جارہا ہے۔ شُکریہ @MaryamNSharif ایک بےحس پیرا فورس کے قیام پر۔
پیغام شئیر کرے شائد ضمیر کسی کا جاگے🚨
جس عمران خان کو آپ نے ذلیل کرنے کی بے انتہا کوشش کی وہ آج بھی عوام کا وزیراعظم ہے اور وہ ایک اشارے سے آپ کی کوئی ہوئی عزت بحال کرسکتا لیکن آپ اس ملک کا تو سوچے !!
علیم خان الیکشن سے دو دن پہلے این اے 117 سے حلقہ چھوڑ کر بھاگ گیا تھا علیم خان کو پتہ چل گیا تھا کہ میں یہ حلقہ علی اعجاز بُٹر سے ہار گیا ہوں،اپنا سار�� فوکس صوبائ سیٹ پر کر لیا تھا،آج موصوف بڑے اہم وزیر بنے ہوۓ ہیں،اس طرح کے حالات میں سبھی قصور وار ہیں جو ان کو لے کر آۓ،جنہوں نے انکو مصلت کیا،جنہوں نے اپروولز دیں،جو آج ان کیساتھ کشتی میں بیٹھے تھے،نقصان کس کا ہوا غریب عوام کا،صحافی اسد اللہ خان
@AUKhanOfficial1
عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کا وزن مسلسل کم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ ایک بہت سنگین مسئلہ ہے اس پر جتنا بھی ہوسکے سوشل میڈیا قیادت پر پریشر ڈالیں
@PTIofficial#پرامن_ملک_گیر_تحریک#عمران_عوام_عشق_کہانی
22 فوجی آپریشنز سے پختونوں کی معیشت ختم ہوگئی اور جرنیلوں نے ان 22 سالوں میں جزیرے اور پاپاجونز کمپنیاں خریدیں۔پختونوں کو اپنے ہی وطن میں مہاجر بنانے کی پالیسی اب برداشت نہیں کرینگے۔
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم م��یر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رک��ا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات ک�� خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)