آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت، قابض حکومت۔ کیوں بھئی قابض؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا ملنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی تو عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا، تو آپ نے سرکاری طور پر ان کو تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے ان کو وہاں سفارت خانہ دیا وہاں، اور یہاں ان کو سفارت خانہ دیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارت خانے کے اعلیٰ معیار پر قائم کیا۔ آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بات نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔ پرامن ہو گا تو پھر اس کے بعد پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنے پالیسیوں پر نظر ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں، پاکستان کے اندر تو مسلح گروہ موجود ہیں اور جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے۔ تو درون در چہ کردی کہ بیرون خانہ آئی؟ تو نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر، معصوم بن کر جنگ کے لیے جواز فراہم کرنا۔ اب وہ وقت گزر چکا ہے چالیس سال، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں۔ آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں، اس کے باوجود حالات کیوں ٹھیک نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں ؟ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت
#نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ
#ذخائر_کے_چور