اِھْدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ
’’اے میرے خدا تو مجھ پر راضی ہو جا اور راضی ہونے کے بعد پھر کبھی بھی مجھ پر ناراض نہ ہونا‘‘
حضرت مسیح موعود علیہ السلام
اس گندے کیڑے کانے کی منحوس شکل دیکھو ۔۔جو گندی لیٹرین میں مرا۔۔ اس کی میت سے اس قدر بد بو آتی تھی کوئی نزدیک ہی نہیں جاتا تھا
بزرگ بتاتے ہیں اسوقت ایک نعرہ لوگ لگاتے تھے
دو لکڑیاں دو کاہنے مرزا مریا ٹٹی خانے۔۔۔ایسی گندی موت خود ساختہ نبی کی ہوئی۔۔۔
مرزا غلام احمد تو مرتد اور کافر تھا اور انگریزوں کا وفادار تھا جو جہاد اسلام کا دشمن تھا۔۔۔انگریزوں کے وظیفے پر پلنے والا۔۔۔۔۔۔قادیانی پکے مرتد اور کافر ہیں کیونکہ ختم نبوت صل اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے منکر ہیں ۔۔غلام احمد مرزا کو نبی مانتے ہیں۔۔