@Haidersaeedpti1 Jnb tusi ki ho??? Sub tmary sath debate krn... Tm akly aflatoo thk ho baki sub galt hn... Kbi chup bi bath jaya kro.. Har time ki hero geeri chor do..
اگر اے آر وائی کی خبر درست ہے کہ عمران خان ہی سہیل آفریدی کو ہٹانے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو گورنر راج لگانے یا اتنا بیانیہ بنوانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں، کسی ایک بندے کی عمران خان سے ملاقات کروا دیں، وہ باہر آ کر کہہ دے گا کہ عمران خان نے سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے
میرے ذرائع کے مطابق عمران خان صاحب کی تینوں بہنوں نے کوٹ لکھپت جیل میں پچھلے 36 گھنٹوں سے بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے، پچھلے 36 گھنٹوں سے پانی کے سوائے کچھ نہیں پیا جبکہ انکے ساتھ فلک جاوید ، صنم جاوید اور عالیہ حمزہ بھی آج صبح سے بھوک ہڑتال شروع کر چکی ہیں اور انہیں دھمکایا جا رہا ہے.
محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ دونوں اسلام آباد میں موجود رہیں گے۔
نہ اچکزئی کی پارٹی بلوچستان بند کرے گی، نہ علامہ ناصر عباس کی پارٹی پنجاب بند کرنے کی کوشش کرے گی، اور نہ ہی دونوں محترم سہیل آفریدی کے ساتھ کنٹینر پر موجود ہوں گے۔
اگر عمران خان کے لیے مارچ میں شرکت نہیں کر سکتے تو اخلاقی طور پر عمران خان کی جانب سے دی گئی لیڈر آف اپوزیشن کی نشستوں سے بھی انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشری بی بی کی سزا معطلی درخواستیں 31 جولائی کو وفاقی آئینی عدالت میں دائر ہوئی تھیں ابھی تک مقرر نہیں ہو سکیں گذشتہ ہفتے جلد سماعت کی درخواست بھی دائر ہو چکی اسلام آباد ہائیکورٹ سے سزا معطلی درخواست مسترد ہونے کے خلاف اپیل بشری بی بی نے دائر کر رکھی ہے خاتون ہونے کی بنا پر بھی درخواست میں استدعا کی گئی میڈیکل گراؤنڈ کا ذکر بھی اپیل میں کیا گیا اس کے باوجود وفاقی آئینی عدالت ایک درخواست ضمانت کو کیوں فکس نہیں کر رہی ؟؟؟ سوال تو بنتا ہے
جبکہ
دوسری طرف اسی وفاقی آئینی عدالت نے 2 ستمبر کو دائر ہونے والی تین قیدیوں کی اپیلیں 14 اور 15 ستمبر مقرر کرکے سن بھی لیں کیس آگے بھی بڑھ گیا
اب با اثر کون ٹھہرا ؟؟ یہ وفاقی آئینی عدالت سے پوچھنا پڑے گا
حکومت تو مرضی ہی چاہتی ہے عدالتوں نے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا ہوتا ہے کیسے پی ٹی آئی کے لئے
عدالتی رستہ بند ہوا ؟ جوڈیشری کے فیصلے ردی کی ٹوکری میں کون کون سے گئے ؟؟
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 24 مارچ 2025 کے جیل ملاقاتوں کے لارجر بنچ کے فیصلے پر نا عمل ہو رہا ہے نا ہائیکورٹ توہین عدالت درخواستیں مقرر کرکے عمل کروا رہی ہے تاکہ تھوڑی عدالتی توقیر بحال ہو جائے
2 نومبر 2025 کو جسٹس ارباب محمد طاہر نے عمران خان سے اس کے وکیل سلمان اکرم راجہ کی ملاقات کرانے کا حکم دیا عمل نہیں ہوا توہین عدالت درخواست دائر ہوئی اس کو بھی عدالت نے آگے نہیں چلایا نا اپنے ہی فیصلے پر عمل درآمد کی کوشش کی
18 اگست 2026 کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں ہوا جس متعلق 16 ستمبر کو سپریم کورٹ کے سامنے اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ فیصلہ ابھی بھی فیلڈ میں ہے لیکن عمل نہیں ہوا نا وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ہاتھ باندھنے کی وجہ سے سپریم کورٹ کرا سکی
یکم ستمبر 2026 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ہی جسٹس خادم حسین سومرو نے اپنے فیصلے میں عمران خان کے قید تنہائی متعلق کچھ امور کی نشاہدہی کی ملاقاتیں ، ٹی وی اخںار کتابیں فراہم کرنے کا حکم دیا عمل نہیں ہوا نا ہی عمل درآمد رپورٹ آئی ہے
تمام عدالتوں کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے دوران اس ملک کی ۔۔ سب سے بڑی عدالت ۔۔۔ مطب سب سے وڈی عدالت ۔۔۔
وفاقی آئینی عدالت نے 15 ستمبر کو سب کچھ ویٹو کرکے کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا
یوں ایک سیاسی جماعت کے لئے تمام عدالتی رستے بند ٹھہرے
آئی پی پیز لانےوالوں نے عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا کی ہے قومی خزانہ خالی کر دیا۔ عوام کو کنگال کر دیا۔بجلی کی لوڈشیڈنگ لاہور سمیت ملک بھر میں عوام کے لئےمصبیت بن چکی ہے، پتہ اس کیمشن مافیا کو کون اور کب پکڑے گا؟
آج بھی عمران خان سے بہنوں اور وکلاءکی ملاقات نہیں کرائی گئی۔ جبکہ آج ہی ہائیکورٹ نے عمران خان کی قید تنہائی ختم کرنے کا فیصلہ بھی دیا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں اس حکومت کی عقلمندی کا کہ جب ساری دنیا کی نظریں اس معاملے پرلگی ہیں یہ دھڑلے سے خود کو خود ہی جھوٹا ثابت کر رہے ہیں۔
انگلش سابق کرکٹرز عمران خان کی حیریت دریافت کر رہے ہیں جس پے رمیز راجہ نے سچ سچ بتایا کہ عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ ہے انکو پچھلے 3 سال سے قید کیا ہوا بہت مشکل حالات میں رکھا ہوا عمران خان کو.....
مت بھولیں کہ عمران خان ایک عظیم کپتان تھا ایویں تو ورلڈ کپ نہیں جیتا تھا رمیز راجہ جاوید میانداد یہ سارے اس سے بہت محبت کرتے ہیں اور پھر ہیرو تو ہیرو ہوتا ہے ! نجم سیٹھی ۔۔۔
آیت نور کو تلاش کرنے کے بجائے پولیس بچی کے والد محمد شفیق کو ہی ہراساں کرتی رہی۔
محمد شفیق کے مطابق پولیس نے پہلے یہ سوال اٹھایا کہ بچی ان کی اپنی ہے بھی یا نہیں۔ انہیں پیدائش اور دیگر سرٹیفکیٹس دکھا کر ثابت کرنا پڑا کہ آیت نور ان کی بیٹی ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ان کی شادی سے متعلق سوالات شروع کر دیے اور کہا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھے جبکہ ان کی اہلیہ بھی پہلے شادی شدہ تھیں۔
محمد شفیق کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے گاؤں تک گئی اور وہاں بھی انہی معاملات کو موضوعِ بحث بناتی رہی، جبکہ آیت نور کی تلاش پر توجہ دینے کے بجائے انہیں مسلسل پریشان کیا جاتا رہا۔
سوال یہ ہے کہ گمشدہ بچی کی تلاش اولین ترجیح کیوں نہ بنی؟
عمران خان تو دور کی بات ہے ارسطو صحافی تو اپنے ٹی وی شو پر رضا ڈار کیس پر نہیں بول سکے ؛ تاحیات استشنی پر نہیں بول سکتے ، خان کی تصویر تک نہیں چلا سکتے ، ظلم پر بول نہیں سکتے ، لشیں گریں مگر خاموش رہے
وہ بیٹھے کہ رہے ہیں کہ خان کے بیٹوں انٹرویو سے کھیل میں سیاست کو ڈالا گیا