The fascist hybrid corrupt regime led by the military is destroying all the norms...Political prisoners must be treated in hospital as soon as possible .
#Releasesanamjavedkhan@hrw@OHCHRAsia@PTIofficial
صنم کی کڈنی میں کچھ دنوں سے درد ہو رہی تھی جو پچھلے دو دنوں سے شدید ہو چکی ہے اور جیل ہسپتال کی ڈاکٹر الٹراساؤنڈ اور ٹیسٹ کے لیے ہسپتال منتقل نہیں کر رہی اور اج صبح کہا کہ الٹرا ساؤنڈ اور ٹیسٹ جیل کے اندر ہی کروا لیں گے لیکن شام تک کوئی ٹیسٹ نہیں ہوئے تھے
خان صاحب اعجاز چوہدری صاحبزادہ حامد رضا برگیڈیر جاوید اکرم صاحب بشرا بی بی ڈاکٹر یاسمین اور صنم کو علاج کی ضرورت ہے ان لوگوں کو ہسپتال منتقل کر کے علاج کروایا جائے اور سب اسیران کے مقدمات میرٹ پر سنے جائیں
The sacrifices of political prisoner sanam Javed khan are not debatable.All PTI legal team must ensure her treatment in hospital.
#sanamjavedkhanhealth
صنم کی طبیعت جیل میں خراب ہوئی تو اس کو جیل سے لے کے ہسپتال نکلے تو ہمیں تقریبا ڈیڑھ گھنٹے بعد پتہ چلا پچھلی دفعہ جناع ہسپتال لے کر ائے تھے اور اس کے بعد پانچ ہسپتال دیکھ لیے ہیں لیکن ان میں سے کسی ہسپتال نہیں صبح ایک مقدمے میں ٹرائل ہے تو تب ہی پتہ چلے گا
SED and higher education are totally different https://t.co/PxdSEDlbly can't handle or manage both of them...He should resign from the minister of SED as he has shown hatred for teachers and government schools and colleges..
#removepunjabeducationminister
The education minister of Punjab has crossed the limits of humiliating the teachers.He has failed to deliver and address the grievances of teachers and schools.
#RemoveeEducationMinisterPunjab
The education minister of Punjab has been continuously humiliating the teachers since he becomes the minister whether it is mocking their salaries or asking them thieves
#RemoveeEducationMinisterPunjab
صنم کو ہسپتال سے ڈسچارج کروا کر لے گئے ہیں ہمیں پورے ٹریٹمنٹ سے لا تعلق رکھا گیا نہ ملاقات کروائی گئی اور جاتے ہوئے بھی صنم کی والدہ نے کہا ایک منٹ ملوا دو تو انسپیکٹر عمران فرماتے ایس او پیز نہیں ہیں
فضا عالم 2011 میں میری ACCA میں سٹوڈنٹ تھی اس کے بعد ارٹیکلز کیے اور سعودیہ میں 25 ہزار ریال مہینہ پر نوکری کر رہی تھی اور خان صاحب کے لیے سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ا گئی اور گراؤنڈ پر کام کیا اور جب لاہور میں کوئی نہیں نکلتا تھا تو یہ بچے پرچم تھا میں نکلتے تھے