واضح ہو گیا ہے کہ ہمارے جرنیل یا اسٹیبلشمنٹ، انڈیا سے بڑھ کر ہمارے دشمن ہیں۔ کوہاٹ کے دھماکے کے بعد محسن نقوی آ کر کہہ رہے ہیں کہ ج��اعتِ اسلامی یا تحریکِ انصاف اپنے دھرنے ختم کرو۔
تم نے پہلے بھی اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے بے قصور لوگوں کو قتل کیا ہے۔ تم جو اتنی مہنگائی کر رہے ہو، عوام کو لوٹ رہے ہو، تو عوام اسلام آباد کیوں نہ آئے؟ پیٹرول پر لیوی کس چیز کی ہے؟ کیا آئی پی پیز تمہارے نہیں ہیں؟ غریب عوام کہاں جائیں؟ کوئی بات ہو جائے تو آئی ایم ایف کو سامنے کر دیتے ہو۔
تمہیں آئی ایم ایف گیارہ، گیارہ ارب کے جہاز لینے دیتا ہے، لیکن عوام کو ریلیف نہیں دینے دیتا۔ ان کے پاس اس جہاز کی کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہے۔
مریم نواز نے برطانیہ جانے کا اڑھائی کروڑ روپے کرایہ دیا ہے۔ اگر یہ جہاز نہ ہوتا تو بھی آپ اڑھائی کروڑ میں سفر کرتیں۔ کل وہ ملتان میں اپنے UK کے سفر کی رسیدیں پیش کر رہی تھیں۔
کل مریم نواز ملتان میں کہہ رہی تھیں کہ کارڈیالوجی میرے والد نے بنایا۔ جس مینارِ ہسپتال میں وہ کھڑی تھیں، اس کا آغاز کس نے کیا؟
کارڈیالوجی کا منصوبہ میں نے بنایا، جب میں ہیلتھ منسٹر تھا۔ اس کے فنڈز بھی میں نے مختص کیے۔ مینار کینسر ہسپتال پہلے سے موجود تھا، لیکن میں نے اسے بھی اپ گریڈ کیا اور جدید مشینری فراہم کی۔
میرے علاوہ ملتان کے کسی اور ممبر نے نشتر کالج، ایئرپورٹ اور باقی بڑے بڑے منصوبوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا۔ صرف میں تھا جو اس خطے کے لیے آواز اٹھاتا رہا۔
نواز شریف ایئرپورٹ کا کریڈٹ یوسف رضا کو دیں گے، کارڈیالوجی کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو دیں گے، اس کا فنڈ فنانس ڈویژن سے بھی میں نے منظور کروایا، لیکن جاوید ہاشمی کا نام وہ کبھی نہیں لیں گے۔ حالانکہ کبھی یوسف رضا اور پرویز الٰہی نے کبھی کلیم بھی نہیں کیا۔
اس وقت میاں نواز شریف خود کہتے تھے کہ جاوید ہاشمی بازو مروڑ کر کام لے لیتا ہے۔
میرے بھائی کا فارم اب گرایا گیا ہ��۔ کیا میں نے مریم نواز کا نام لیا؟ میں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گرایا۔ ان کی اتنی ہمت بھی نہیں۔
میرا کنٹرول شیڈ عمران خان کی حکومت میں گرایا گیا۔ مجھے پتا تھا کہ گرانے والی اسٹیبلشمنٹ ہے۔
میں اگر ان کی کرپشن کا حصہ دار بنتا تو اپنے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام نہ کروا سکتا۔ اگر میں نواز شریف کی شوگر مل کی پیشکش مان لیتا، پلاٹ لے لیتا، تو آج بات کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ مجھے اپنے موقف کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
سہیل آفریدی مضبوطی سے کھڑا ہے، اسے salute کرتا ہوں۔
آج پاکستان کا جرنیل بزدل اور ڈرپوک ہے، ورنہ اسی مٹی نے دنیا کے بہادر ترین جرنیل پیدا کیے ہیں۔ تم نے ان کا نام مٹی میں ملا دیا۔
مجھے یہ کیوں نہیں پکڑتے؟ پہلے ایک عمران خان ان سے نہیں سنبھل رہا۔
میرا پیغام چودہ کروڑ لوگوں تک پہنچا ہے، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، جیسے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیرہ۔
ہماری آئی ایس آئی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ میں نے اپنے شہر اور اپنے ملک کے لئے اپنا خون پسینہ دیا ہے۔
میں نے نواز شریف کا بازو مروڑ کر 1999ء میں ملتان میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنوایا، بعد میں مشرف نے بھی 7 ارب روپے دیے۔ مخدوم رشید، جہانیاں اور بستی ملوک میں ڈگری کالج بنوائے، اپنے علاقوں میں لاتعداد اسکول بنوائے۔
ملتان میں لڑکیوں کا ایک ڈگری کالج تھا، میں نے سات کالج بنوائے، یونیورسٹیاں بنوائیں۔ ملتان کے لوگ مجھے محسنِ ملتان کہتے ہیں۔
پاکستان کی بات کرتے ہو؟ ہم نے پاکستان بھی بنایا ہے۔ میرے باپ اور دادا مسلم لیگی تھے۔
اس ملک کے غدار تم ہو۔ تم نے ہمیشہ اسے توڑا ہے، آج بھی لوٹ رہے ہو۔ اب مجھ سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ مانگنے کی کوشش نہ کرو۔
گزشتہ دنوں دو تین نشستوں میں نظام انصاف سے وابسطہ شخصیات سے سامنے ہوا تو 'عدلیہ پر عوامی اعتماد بہت زیادہ متاثر ہونے' کا سوال ان کے سامنے رکھا ایک بولے " ہمیں پتہ ہے نظام کیسے چل رہا ہے اپنی حد تک بہتری کی کوشش کر رہے ہیں " دوسری شخصیت نے مسکرا ٹال دیا ایک شخصیت نے "آزادی" کے معاملے پر معین اختر کے کسی کلپ کا حوالہ دیا جو یقینا نظام پر تنقید والا تھا
یہ معین اختر کا کون سا کلپ ہو سکتا ہے ؟
@iqrarulhassan آیت اللہ خامنہ ای چاہتے تو اقرا ر کی طرح تین ہوٹل رینٹ پر چلا کر عیش وآرام کی زندگی گزار سکتے تھے مگر انہوں نے غیرت کے ساتھ مرنے کو ترجیح دی
@hsarfraz@saqibbashir156 جس قانون کے تحت نواز شریف کو سو دو سو لوگ اکٹھے جا کر جیل ملتے تھے۔جس قانون کے تحت آصف زرداری کو رسائی ملتی تھی ۔جس قانون کے کلبھوشن یادیو کو facilitate کیا گیا۔جس قانون کے تحت مشرف کو رسائی ملی