۲/
میاں صاحب نے مشکل راستے کا چناؤ کر کے اپنے چاہنے والوں کے لئے راستے کھولے ہیں۔ بظاہر یہ ایک قدم پیچھے ہٹنا ہے مگر اسی سے نئی راہوں کا تعین ہو گا۔
میاں صاحب! آپ کے خواب امانت ہیں اور ان کی حفاظت ہم کریں گے۔
قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
پاکستان ♥️
@chsandhilaa مریم نواز بھی یہ جان لیں پنجاب میں وہ جتنی مرضی کارکردگی دیکھا لیں اگلا الیکشن ان کو مرکز میں شہباز حکومت کی اس وقت سات سال کے مسلسل اقتدار کی کارکردگی سے ساتھ لڑنا ہے مہنگے پیٹرول اور چھڑ پھاڑ بجلی گیس کے بل سے ستائی عوام کا سامنا کرنا ہے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے
@chsandhilaa معذرت سندھیلا صاحب تاریخ کہتی ہے کہ ن لیگ کو آج تک اس کے اچھے کاموں کا کریڈٹ بھی نہی لینے دیا جاتا لیکن اس دفعہ تو شہباز صاحب اپنی کرسی بچانے کے لیے عوام کو سانس بھی نہی لینے دے رہے بلکہ @MaryamNSharif کے بہترین کام کیے ہوۓ بھی ضائع جا رہے ہیں خدا کے لیے ہوش پکڑیں
@AzharKhan آپ نے ہاسٹل لائف یاد دلا دی۔ تبلیغی جماعت والوں سے بچنے کے لئے ان سے ملتے ہی السلام علیکم کے جواب میں مولا علی مدد کہتے اور وہ ہاتھ ملا کر آگے چل دیتے 😀
کراچی کی BRT کو 2019 میں شروع کیا گیا اسکو دسمبر 2025 میں مکمل ہونا تھا،منصوبہ مکمل ہونے کی بجائے 6 ارب کی کرپشن ہو گئی،اب اسکی نئی ڈیڈ لائن 2028 کی دی گئی،کراچی کی سڑک 9 سال میں مکمل ہوگی،لاہور میں میٹرو ریڈ لائن 11 ماہ میں مکمل ہوگئی۔اب گوجرنوالہ میٹرو مکمل ہوگی۔
راولا کوٹ سی ایم ایچ ہسپتال پر یہ حملہ بھارت نے نہیں کیا بلکہ بھارت کی پراکسی کالعدم بلیک میل ایکشن کمیٹی نے کیا ھے
ان میں عام لوگوں کی جلی گاڑیاں بھی شامل ہیں یہ احتجاج نہیں دہشت گردی ھے
آپکی جہالت کیساتھ مقابلہ ممکن نہیں کیونکہ آپ سیاق و سباق کو سمجھے بغیر اتنا بڑا منہ کھول لیتے ہیں جہاں تک جائیداد کا تعلق ہے وہ بات اس تناظر میں ہے کہ کشمیریوں کو دوہرے حقوق حاصل ہیں وہ کشمیر میں بھی جائیداد خرید سکتے ہیں کاروبار کر سکتے ہیں ملازمت حاصل کر سکتے ہیں اور پاکستان میں بھی، اسکے باوجود احتجاج جاری ہیں، جہاں تک کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کی بات ہے ۸۰ سال گزر چکے ہیں ابھی تک کوئی حل نظر نہیں آ رہا جبکہ بھارت مقبوضہ وادی کو اپنا حصہ قرار دے چکا ہے آپ لوگوں کی حکومت تھی کیا بگاڑ لیا تھا (جب بھارت نے آر ٹیکل 370 منسوخ کیا تھا) سوائے ایک گھڑیال سیرینا ہوٹل کے باہر نصب کرنے کے، شاہراہ کشمیر کو شاہراہ سرینگر قرار دینے کے اور بھڑکیں مارنے کے؟ مودی کو مس کالیں دیتے رہے وہ تمہاری بات سننے کو تیار نہیں تھا، بھارت مقبوضہ وادی میں دھڑا دھڑ ہندو آباد کر رہا ہے عرب ممالک وہاں سرمایہ کاری کیلئے تیار بیٹھے ہیں بڑی بھارتی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور ہم ابھی تک اخلاقی پوزیشن برقرار رکھے ہیں کوئی غیر کشمیری ادھر کاروبار نہیں کر سکتا بلکہ کشمیریوں کی اکثریت کے کاروبار بھی پاکستان میں ہیں، نتیجے میں وہاں کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں حتی کہ سیاحتی شعبہ بھی ترقی نہیں کر پا رہا
جوں جوں گلگت بلتستان کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، توں توں وفاقی بجٹ کی خوش اسلوبی سے منظوری کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
سیاست اصولوں کے ساتھ ساتھ مفادات کا کھیل بھی ہے؛ کچھ لو، کچھ دو، اور آگے بڑھو۔
کالعدم بلیک میل ایکشن کمیٹی کے پُر امن احتجاج کی ایک جھلک آپکی بصارتوں کی نذر
جدید اسلحہ سوشل میڈیا پر لہرا رہے ہیں ایسا ھی اسلحہ رات راولا کوٹ سی ایم ایچ ھاسپٹل پر حملے میں استعمال ھوا پھر یہی کتے کہتے ہیں ہم تو پُرامن تھے
پیپلز پارٹی نے تاریخی طور پر گلگت بلتستان کے سیاسی اور انتظامی حقوق کو وسعت دینے کے لیے کسی بھی دوسری مرکزی قومی جماعت سے زیادہ کردار ادا کیا ہے، اور یہی میراث آج بھی خطے میں اس کی مقبولیت کی ایک اہم وجہ ہے۔
· ذوالفقار علی بھٹو کی نے ایف سی آر طرز کا انتظامی ڈھانچا اور راجگی.جاگیردارانہ نوآبادیاتی نظام کو ختم کیا.
· بینظیر بھٹو کی حکومت نے 1990 کی دہائی میں مزید نمائندہ اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں جماعتی بنیادوں پر سیاسی شرکت اور ایک زیادہ باقاعدہ منتخب نظام شامل تھا۔
· پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2009 میں گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر متعارف کرایا، جس کے تحت خطے کو اس کا سرکاری نام، منتخب اسمبلی، وزیر اعلیٰ، گورنر، اور صوبے جیسا انتظامی ڈھانچا ملا۔
ان اصلاحات کی وجہ سے گلگت بلتستان کے بہت سے لوگ پیپلز پارٹی کو سیاسی حقوق، شناخت کے اعتراف، اور خود حکمرانی سے جوڑتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے جب حقوق کے نیریٹو کو استعمال کیا تو تو لوگوں کو اعتماد کرنے کی وجہ موجود تھی۔