@GSbhindar قرار چاہئـــــــے کس کو اس اضطراب کــے بعد
جو دسترس میں نہ آیا وہ دل نشیں ھــے یہاں
جبین شوق پہ سجدوں کـــــــے داغ ھیں لیکن
ڈبوئے خون میں ہر شخص آستیں ھـــــے یہاں
زندگی اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری
بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک
اب کوئی فیصلہ ہو بھی تو مجھے کیا لینا
میں تو کب سے ہوں سرِ دار سزا ہونے تک
احمد فراز
یہ حسد ہے کہ محبت کی اجارہ داری
درمیاں اپنا بھی سایہ نہیں دیکھا جاتا
تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے
بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا
یہ ترے چاہنے والے بھی عجب ہیں جاناں
عشق کرتے ہیں کہ ہوتا نہیں دیکھا جاتا