Officer rtd ministry of communication , Masters in Mass communication ,interest in Oil & Gas Exploration , Labour Administration,Trade union & social media
کیا آپ بھی لمبے عرصے تک جوان رہنا چاہتے ہیں، مضبوط ہڈیاں اور لمبے گھنے بال ،تخم بالنگا حسن اور صحت دونوں کا ضامن ہے
قدرت نے اپنے بیش بہا خزانوں میں انسانوں کے لئے بے شمار انمول تحفے چھپا رکھے ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان خزانوں کو دریا فت کریں اور ان سے فائدہ اٹھائیں،
تلسی کے پودوں سے حاصل ہونے والے سیاہ بیج جنہیں عام طور پر تخم بالنگا کہا جاتا ہے، اس کے اصل نام سے ناواقف لوگ اسے تخ ملنگا بھی کہتے ہیں۔
تخم بالنگا اومیگا تھری فیٹی ایسڈ، آئرن، فائبر، کیلشیم، اینٹی آکسیڈینٹ کےعلاوہ پروٹین سے بھی بھرپُور ہوتا ہے۔ اس بیج میں شامل اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء ذیابیطس کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں اور جلد کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔
یونائیٹڈ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ایگری کلچر کے مطابق 26 گرام تخم بالنگا میں 120 کیلوریز، 5 گرام چکنائی، 14 گرام کاربوہائیڈریٹس، 14 گرام ڈائیٹری فائبر،تقریباً 4 گرام پروٹین اور صفر شوگر ہوتی ہے۔ تخم بالنگا کا دن میں ایک مرتبہ استعمال روزانہ کی جسمانی ضرورت کے مقابلے میں18فی صد تک کیلشیم مہیا کرتا ہے۔
تیزابیت کم کر کے معدے کی گرمی کم کرتا ہے
تخم بالنگا کو عموماً مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ ج��م کی خشکی اورمعدے وآنتوں کی خشکی کو بھی دور کردیتا ہے اس کا جیل آنتوں اور جگر کو تقویت بخشتا ہے۔ اس کے استعمال سے معدے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور تیزابیت میں کمی آتی ہے۔ تخم بالنگا میں موجود اومیگا تھری کھانا ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے اور یہ پیٹ اور آنتوں کی صفائی کرتا ہے، نیند اور مدافعتی نظام کو مزید بہتر کرتا ہے۔ ہائی کولیسٹرول سے محفوظ رکھتا ہےا ور دماغ کو تقویت بخشتا ہے۔
بڑھتی عمر کے اثرات روکتا ہے، جلد کو جوان رکھتا ہے
تخم بالنگا کا تیل جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا، تخم بالنگا کا تیل جلد کو درست رکھتا ہے۔ اس میں ایسے اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جو چہرے اور ہاتھوں پر بڑھتی عمر کے اثرات کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں موجود ایلفا لیپوٹک ایسڈ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے، یہ چہرے پر جھریوں اور لائنوں کو بننے سے روکتا ہے۔
جسم کی چربی گھلانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں
تخم بالنگا میں ایلفا لیپوٹک ایسڈ زیادہ ہوتے ہیں جو ان میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ فیٹی ایسڈز جسم میں موجود چربی جلانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ ان بیجوں میں فائبر بھی ہوتے ہیں جن سے شکم سیری کا احساس زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے، اس لیے طبیعت زیادہ کھانے کی طرف مائل نہیں ہوتی۔ وہ کھانے جن میں فائبر زیادہ ہوتی ہے معدہ کو بھرا رکھتے ہیں اور وزن کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
شدید گرمی میں ٹھنڈک کا احساس
تخم بالنگا کے بیجوں کو لیموں پانی یا شربت میں ملا کر اس لیے پیا جاتا ہے کہ شدید گرم موسم میں ٹھنڈک کا احساس ہو اور لو لگنے کے مضراثرات سےحفاظت ہو۔ یہ جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مددگار ہے۔
قبض اور گیس سے نجات
چند روز تک ایک گلاس دودھ میں تخم بالنگا کی کچھ مقدار بھگو کر روزانہ رات کو سونے سے پہلے پی لیا جائے تو آنتیں متحرک ہو جائیں گی اور قبض اور گیس کی شکایت دور ہوجائے گی۔
یہ بیج معدے اور آنتوں کی صفائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ان میں ایسی چکنائیاں ہوتی ہیں جو گیس خارج کرنے اور کھانا ہضم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔
تیزابیت اور سینے کی جلن
تخم بالنگا تیزابیت اور سینے کی جلن میں مفید ہے یہ کیونکہ پیشاب آور ہے اس لئے اس کے ذریعے زہریلے مادے جسم سے خارج ہو جاتے ہیں ۔ جسم میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کے جمع ہونے سے سینے میں جو جلن کی کیفیت محسوس ہوتی ہے ۔ پانی میں بھیگے یہ بیج اسے ٹھیک کرنے میں معاون ہیں۔
جلد اور بالوں کی حفاظت
تخم بالنگا کو پیس کر ناریل کے گرم تیل میں ملا کر خارش اور ایگزیما سے متاثرہ جلد پر لگانے سے آرام ملتا ہے۔ تخم بالنگا کھانے سے جسم میں کولاجن کی افزائش ہوتی ہے جو جلد کے پرانے خلیات کی جگہ نئے خلیات بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ ان بیجوں میں آئرن، وٹامن کےاور پروٹین بھی ہوتے ہیں جو بال گھنے، لمبے اور مضبوط بناتے ہیں۔
ہڈیاں مضبوط بناتا ہے
آج کل ہڈیوں کا بھربھرا پن اور ہڈیوں کی کمزوری ہر عمر کے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ تخم بالنگا میں کیلشیئم کافی مقدار میں پائی جاتی ہے۔ جو ہڈیوں کے وزن اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ اس میں موجود بورون نامی عنصر مینگنیز اور فاسفورس کو اپنے اندر جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یوں ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔ اس بیج میں زنک کی موجودگی مُنہ اور دانتوں کی صحت برقراررکھتے ہیں۔
جاری 👇۔
* پبلک سروس میسج *
*اگر بڑی عمر میں انگھوٹے کا نشان، تھمب پرنٹس یا فنگر پرنٹس مٹ جائیں تو اس کا علاج پیش خدمت ہے۔ انتہائی آسان طریقہ ہے، دوسروں تک پہنچانے کی زحمت ضرور کریں،*
بہت ہی دلچسپ واقعہ اور تحریر ھے یہ درست ھے کتا واقعی وفادار جانور ھے أج کے دور میں أپ اپنے ساتھ رہنے والے انسان کو وفادار نہیں کہ سکتے
جانوروں سے انسان کی وفاداری اور محبت انسیت انسان کی بہ نسبت ذیادہ ھے ، بلی بھی بہت پیار اور محبت کرنے والا جانور ھے
رات لاجواب تحریر نظروں سے گزری مجھے یقین ہے تمام باذوق افراد کو بیحد پسند آئیگی۔
ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح
اور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘
بستی کے باشندے شہنشاہ کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔
کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔
مدعی نے کہا۔
”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخ�� کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔
میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“
مدعا الیہ نے جواب میں ک��ا۔
”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “
سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“
”ہاں ہے!“
پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“
”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔
”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“
اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔
سردار نے شہن��اہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“
”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“
سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“
شہنشاہ نے کہا کہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بی��نے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ :
میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
جبکہ خریدنے والا کہتا کہ:
میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔
سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے؟
شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ:
ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“
”بادشاہ کی ملکیت!“ .??
سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”
کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“
”جی ہاں کیوں نہیں؟“
”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“??
”بالکل!“
”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“
”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“
”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔
”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔
اب تو بینچ سازی کسی ایک جج کہ ہاتھ میں نہیں ھے،انکو اصل تکلیف کچھ اور ھے جو خط لکھا ھے، اور وہ تکلیف یہ ھے جسٹس مظاہر نقوی کی درخواست پر بننے والے بنچ میں جسٹس منیب اور انہیں شامل کیوں نہیں کیا گیا، آخر اس بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی کیوں ہیں☺️
3/3
قران کریم کی أیات کو سیاق و سباق سے پڑھنا اور اسکے معنی کو درست سمجھ کر اسکی تفسیر کو جاننا لازم ھے أیت کے معنی تو وہی ہونگے البتہ تفسیر کو ہر پڑہنے والا یا بیان کرنے والا عالم ، مولانا اسکالر اپنی سمجھ /علم سے بیان کرتا ھے ،لہذا ہم تفسیر سے ذیادہ أیت کے معنی پر وزن /فوکس رکھیں
پنجاب پولیس کی اہلکار ڈاکٹر انوش جو اس وقت 9 مئی کی تحقیقات کر رہی ہیں،
وہ سر عام جھوٹ بولتی پائی گئیں کہ عمران خان نے کہا کہ اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو ��داروں پر حملہ آور ہو جاؤ۔
یہ عمران خان نے کہاں، کب اور کس کو کہا؟ اس کا ان کے پاس نہ کوئی جواب ہے، نہ ثبوت۔
ایسے الزام تراشیوں سے تھوڑی تحقیقات ہوتی ہیں؟
یہ تو سراسر ناانصافی ہے کہ اتنی خطرناک حد تک غلط بیانی کر کے بھرپور جانبداری کا مظاہرہ کرنے والی خاتون کو اس مسند پر بٹھایا جاۓ جہاں انصاف پہلی شرط ہے۔
خاور مانیکا کے انٹرویو نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ھے *~ ��مران خان کا بشری بی بی سے تعلق کیسے بنا؟ ~°اگر اسےھم پیری مریدی کے حوالے سے دیکھیں تو ہمارے ملک میں پیروں کا کردار بھی متنازعہ نظر اتا ھے دویم یہ کہ 28 سال کی لایف کو کوئ برباد نہی کرتا جب تک کہ باہر سے کوئ شہہ نہ ہو۔۔
خاور مانیکا ڈرامے نے نواز شریف کو مکمل طور پہ ننگا کر دیا! بھلا پوچھیں کیسے؟ پہلے تو سب کو پتہ چلا کہ چوھدری نظام دین اور نواز شریف میںُ اب اس حد تک گٹھ جوڑ ہے کہ پہلے خاور مانیکا کو حکومت نے گرفتار کر لیا، حکومتی طاقت استعمال کر کے بلیک میل کیا نواز شریف کی سیاسی ضروریات پوری کرنے کے لئے! پھر نواز شریف کے خاندانی چینل جیو پہ مانیکا کا شرمناک انٹرویو کرایا، پھر نواز شریف سے رہا نہیں گیا اور پوری نون لیگ اس گند میںُ جھونک دی! مگر کلاسک کامُ کیا جب اپنے آپ سے pointed leading question خود ساختہ سوال کروایا اور جواب میںُ ریاست مدینہ کی بات کر کے اپنے پسماندہ ذھن medieval mindset کو مکمل ننگا کر دیا! ریاست مدینہُ کوئی مذھبی اور ملا ریاست کا تصور نہیںُ تھا بلکہ ایک فلاحی ریاست کا تصور ہے، مگر patriarchal mindset تمام مذہب کو صرف عورت مرد کے تعلقات کی نظر سے دیکھتا ہے! اور اسی کسوٹی سے جانچتا ہے! کچھ تو explain اس وڈیو میں کیا ہے، کچھ ایک اور وڈیو میںُ کرونگا! https://t.co/eWKNxPjo5n via @YouTube