Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
🚨 ڈاکٹر عظمی عمران خان کا پیغام دیتے ہوئے آبدیدہ
میں نے عمران خان کو بتایا کہ " ساری قوم آپ کے ساتھ ہے ، عمران خان نے بار بار کہا کہ جا کہ بتاو انھیں کہ وہ میرے ساتھ ظلم کررہے ہیں۔۔؟
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے ��تل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک ک��انڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو ��اکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار ��ر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
جو صاحب تمام اہم اداروں کی ڈوریاں تھامے بیٹھے ہیں، اگر ان میں ذرا سی بھی اخلاقی جرات اور غیرت باقی ہے تو پہلے اپنے تمام عہدوں سے مستعفی ہوں، قوم ک�� سامنے اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگیں اور پھر میرٹ یا اصلاحات کا وعظ دیں۔ خود نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر کرسیوں سے چپکے رہنا اور ساتھ ہی س��ٹم کی ناکامی کا ڈھونگ رچانا—اب قوم کو مزید بیوقوف بنانے کی یہ کوششیں بند ہونی چاہئیں
عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خا�� کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے کشمیر تک، اسلام آباد سے مریدکے تک جیسے اپنے لوگوں پر انہی کی حفاظت کے لیے مہیا کی گئی بندوقوں سے، انہی کے پیسوں سے خریدی گئی گولیوں سے، انہی کا خون بہا کر، انہی کے دیس کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ جیسے خیبر پختونخواہ سے بلوچستان تک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگ کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو۔
"میرے پاکستانیوں ! اگر آپ چُپ کرکے یہ ظلم سہتے رہے اور انصاف کے لیے نہ کھڑے ہوئے تو پھر یہ نہ سمجھنا کہ وہ اللہ اوپر سے ہماری مدد کرے گا اور ہم خود کچھ نا کریں۔ اللہ قرآن میں کہتا ہے ‘وہ کبھی اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود کچھ نہ کرے’"عمران خان
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے ک�� خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا ��اسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی ��لامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک پرامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟
ایک انسان جن کی وجہ سے آپ کو شہرت اور وزارت ملی اور بدلے میں آپ نے کیا دیا ؟ ایک محب وطن پاکستانی بے گناہ جیل میں ہو تو ان کی بہنیں باہر آکر ان کے حق کے لیے آواز اٹھائے تو یہ کونسی موروثی سیاست ہو گئی؟ آگے بڑھ کر ساتھ نہیں دے سکتے حوصلہ نہیں دے سکتے تو خاموش تو رہ سکتے ہیں !
کام وہی ہے جس میں یوتھیوں کو ملکہ حاصل ہے۔ آٹھ فروری دوہرانا ہے اور نسبتا کم حلقوں میں دوہرانا ہے۔ تحریک انصاف کے امیدواران اور انکے نشانات کو ریپیٹ موڈ پر ڈال دیں۔
قومیں قربانیاں دے کر بنتی ہیں۔ امریکیوں کے جوتے پالش کرکے قومیں نہيں بنتیں۔
عمران خان کی کمال کی تقریر
۔۔۔۔۔۔۔
عمران خان کی اس تقریر کا ایک ایک لفظ سچ ثابت ہوا۔ ایرانیوں نے قربانیاں دیں پہلے سے بھی طاقتور قوم بن کر ابھرے۔ ساری دنیا مان گئی۔ سب احترام کرتے ہیں۔
دوسری طرف کچھ ملکوں کے حکمران اب بھی جوتے پالش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جیسے امریکہ مہربان ہو کر انہيں عظیم قوم بنا دے گا۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی ع��ئد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
وہ صرف ایک ایس ایچ او نہیں تھے، عوام کی آواز تھے۔
آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کی سچائی، خلوص اور عوام سے جڑا ہوا کردار ہمیشہ زندہ رہے گا۔
شہید ایس ایچ او جمیل خان — فرض، وقار اور قربانی کی روشن مثال۔
اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔ آمین 🤍
Reports suggest Mr. Imran Khan may be suffering from central retinal vein occlusion. Although we cannot independently verify this, we are deeply concerned and request that a team from Shaukat Khanum Hospital be granted immediate access to participate in his care.
#SKMCH
رپورٹس کے مطابق عمران خان (central retinal vein occlusion) سے متاثر ہیں۔ اگرچہ ہم اس کی خود آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن ہم شدید تشویش کا شکار ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کی ایک ٹیم کو فوری طور پر ان کے علاج میں شامل ہونے کی اجازت دی ج��ئے۔
#SKMCH
قائد حزب اختلاف و سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پشتونخوا ملی عوامی پ��رٹی کے چئیرمین مشرمحمود خان اچکزئی کا 8 فروری کے حوالے سے اہم پیغام.
#February8thShutterDown