عمران خان کے پاکستانیوں نے کمال کر دیا اوورسیز پاکستانیوں نے کمال کر دیا
اتنی بڑی تعداد میں لوگ ائے ہیں
اس نظام کو گرانا سخت ضروری ہے اس ظالم نظام کو۔۔
"ستائیس ستمبر والا لانگ مارچ اب چار اکتوبر کو ہے آپ لوگوں نے نکلنا ہے چار اکتوبر کو پاکستان کی تقدیر اور تاریخ دونوں بدلے گی ان شاء اللہ۔
یہ جو مسخرے،جوکر اور ٹی وی چینلز پر ٹاؤٹ لگے ہوئے ہیں گورنر راج گورنر راج میں لعنت بھیجتا ہوں اس کرسی پر جو مجھے میرے مقصد سے پیچھے ہٹائے
ایک لوٹا جو تحریک انصاف چھوڑ گیا تو اس وقت عمران خان نے کہا تھا کہ " وہ شخص چھوٹا ہوتا ہے جو کرسی اور عہدے کے پیچھے بھاگتا ہے ، اپنا کردار اتنا عظیم کرو کہ وہ کرسی تقاضا کرے کہ مجھے یہ شخص چاہیے " ہمیں نہ عہدہ چاہئے نہ کرسی چاہئے ہمیں بس ملک میں آئین،قانون و انصاف ،جمہوریت اور حقیقی آزادی چاہیے،"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
"عمران خان جیل میں سے بھی جیت چکا ہے، یہ نظام دنیا جہان کی غلامی کر کے بھی ہار چکا ہے۔ صرف اعلان باقی ہے۔ ڈٹ جاؤ، جب پوری قوم متحد ہو جائے تو اسے کوئی نہیں ہرا سکتا۔" خرم زیشان
@khurramzeeshan
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
تین سال مسلسل فسطائیت، تمام ریاستی مشینری کا زور، گولی، ٹینک، ویگو ڈالے اور بوکھلاہٹوں کا یہ عالم!
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی عمران خان کی قوم نکلے گی!
جب ہجوم قوم بنتے ہیں تو طاقت کے ایوان یونہی لرزتے ہیں۔
میری والدہ کہتی تھی عمران لکھتا بہت اچھا ہے یہ بڑو ہو کر شاعر یا مصنف بنے گا، عمران خان دس سال کی عمر میں بھی کتاب اور آرٹیکل لکھتا تھا۔
عمران خان کا والدہ کے ساتھ بہت زیادہ محبت اور لگاؤ تھا اس لیے عمران خان نے والدہ کی وفات کو بہت زیادہ محسوس کیا تھا
علیمہ خان کی گفتگو ❤️
ویڈیو میں سڑک پر لگائے جانے والے کیل دیکھیں، اس کا کیا مطلب ہے؟ خیبر پختونخوا کا بارڈر جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں پر کیل لگائے گئے ہیں۔ تو اس کا مطلب خیبر پختونخوا کے عوام یہ سمجھیں کہ خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔
جس طرح مسلسل پچھلے ایک مہینے سے یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ ہمیں انڈیا سے خطرہ نہیں ہے، باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ جس طرح مسلسل کچھ وزرا یہ بات کر رہے تھے کہ خیبر پختونخوا کے لوگ دہشت گرد ہیں، جنگلی ہیں، تو کیا یہ ہم سمجھیں، خیبر پختونخوا کی عوام یہ سمجھے کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے؟
اس ویڈیو کے باقی حصے میں آپ نے دیکھا کہ ایک صوبے کے سرکاری لوگ دوسرے صوبے میں گھس کر یہاں کے سرکاری لوگوں کے ساتھ گتھم گتھا ہو رہے ہیں، تو ہم اس کا کیا مطلب سمجھیں؟ کیا یہاں پر کسی اور صوبے کی پولیس، کسی اور صوبے کی ایڈمنسٹریشن لانچ ہونے جا رہی ہے؟
ان شاء اللہ تعالیٰ یہ ان کی چالیں ناکام ہونگی، یہ کیلیں، ان کے تابوت پر آخری کیل ثابت ہونگی، ان شاء اللہ تعالیٰ، کیونکہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور ہم بچائیں گے پاکستان کو۔ وزیراعلی سہیل آفریدی کی خیبرپختونخوا اور پنجاب کے بارڈر پر انتظامیہ کی جانب سے جاری بدترین بندشوں کو سامنے رکھتے میڈیا سے گفتگو
“ جس دن اپوزیشن احتجاج نہ کرے اس دن بتانا” !
عمران خان کے دور میں اپوزیشن ہر روز احتجاج کرتی تھی !
لیکن عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ ان پر کریک ڈاؤن کرو راستے بند کر کنٹینرز لگاؤ پکڑ دھکڑ کرو چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرو ایم پی اے ،ایم این اے کو سول کپڑوں میں گھیر کر اسکی گاڑی پر فائرنگ کر انھیں اغوا کرو۔ مہنگائی مارچ کے نام پر جب مریم نواز بلاول زرداری مولانا اپنی جلیساں لیکر حکومت گرانے نکلے تھےتب بھی عمران خان نے انکے راستے پر خندقیں نہیں کھدوائیں ۔ نہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری صوبوں سے منگوائی نہ کوئی آنسو گیس نہ شیلنگ نہ گولی ۔ بلکہ وہ پورے اعتماد سے کہتا تھا:
“ جس دن اپوزیشن احتجاج نہ کرے اس دن بتانا”
مگر آج عمران خان کا سامنا ایسے گھٹیا اور کم ظرف دشمن سے ہے جس نے آئینی، قانونی، اخلاقی،انسانی ہر حد پار کر لی ہے کیونکہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انکا اقتدار پر قبضہ ناجائز ہے۔
ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
27ستمبر فیصلہ کن لانگ مارچ
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
عمران خان نے پیغام جاری کر دیا ہے
عمران خان کا قوم کے نام اہم پیغام جاری کر دیا ہے 27 ستمبر کے لیے
ویڈیو دیکھ کر رکنی نہیں چاہئے 🔥🔥💯
واحد حل صرف سڑکوں پر فیصلہ ہونا ہے جتنی جلدی سمجھ جائیں قوم ملک کے لیے بہتر ہے💯🔥
یہ کنٹینرز حکومت نے خود لگائے ہیں حکومت نے راستے خود بند کیے ہیں، حکومت نے تحریک انصاف جو چاہتی تھی وہ خود ہی کر دیا ہے ۔حکومت راستے کھولے گی تو تحریک انصاف اسلام آباد چلی جائے گی ورنہ وہیں بیٹھی رہی گے ۔اسٹیبلشمٹ نواز شریف اور زرداری سے تو ڈیل کر لیتی تھی ،اب کی بار بات چیت عمران خان سے ہو گی لانگ مارچ کی تاریخ واپس لینے کا اختیار سہیل آفریدی کے پاس بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔
عمران ریاض خان۔