بریکنگ نیوز 🚨شہزاد اقبال کا دبنگ تجزیہ۔ کھل کر بہادرانہ انداز میں خان کے اوپر ہوئے مظالم پر گفتگو کر رہے ہیں۔ آج کل چھائے ہوئے ہیں 🔥🔥
نو مئی کے فیلس فلیگ آپریشن کے بعد جو کچھ ہوا ہم سب نے دیکھا، ایک ایک کرکے پی ٹی آئی کے جو سنئیر رہنما ہیں وہ جیل گئے، اُن کو آپشن دیا گیا یا جیل بھگتو یا کیسسز بھگتو یا پریس کانفرنس کرو۔ جو ٹاپ لیڈر شپ تھی اُس میں سے اکثریت جو ہے وہ عمران خان کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے حکم پر چھوڑ کر چلے گئے۔ انہوں نے کہنا مان لیا ٹھیک ہے بھائی جیل نہیں، مقدمات نہیں، ہم پریس کانفرنس کریں گے۔ اور اُس میں شیری مزاری نے سب سے پہلے پی ٹی آئی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اسکے بعد اسد عمر، فواد چودھری، علی زیدی، عمران اسمعیل اور پنجاب کے کئی رہنما تھے۔ شاہ محمود قریشی نے نہیں چھوڑا، چوہدری اعجاز صاحب نے نہیں چھوڑا، عمر سرفراز چیمہ صاحب، ڈاکٹر یاسمین صاحبہ، عالیہ حمزہ، یہ کچھ ایسے رہنما تھے جنہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم جیل میں رہیں گے لیکن ہم جو ہیں اپنے لیڈر، اپنے محسن کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ باقی ہے انہوں نے پریس کانفرنس کی اور پارٹی چھوڑ دی۔ شیخ رشید صاحب اچانک ایک دم سے ٹی وی چینل پر نمودار ہوگئے اور انہوں نے کہا میں عمران خان سے راہیں جدا کر رہا ہوں۔ عثمان ڈار کا بھی اسی طرح انٹرویو آگیا، صداقت عباسی بھی غائب تھے، یہ تینوں رہنما وہ تھے جو غائب تھے، اور ایک دم سے ہمیں انکا انٹرویو نظر آیا اور کہے رہے ہیں کہ ہم پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ کہاں تھے اتنے ٹائم سے کس کے پاس تھے کون انکو لے کر آیا؟ کسی کو نہیں پتہ۔ پھر اس سے مزید پارٹیاں بنائی گئیں۔ استحکام پارٹی علیم خان سے بنوائی گئی، اسکے علاوہ پی ٹی آئی نظریاتی پارٹی پرویز خٹک سے بنوائی گئی وہ بھی پارٹی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ تو یہ سارا سلسلہ ہوا نو مئی کے بعد۔ بالکل ایسا لگ رہا تھا کہ پی ٹی آئی کا چیپٹر کلوز ہوچکا ہے۔ اور پھر عمران خان کے خلاف جھوٹے کیسز کا نہ روکنے والا طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ توشہ خانے ون کیس میں عمران خان کو 3 سال کی سزا سنائی گئی۔ اسکے علاوہ اور بھی کیس بنے، سائفر کا کیس بنا اُس پر بھی سزا ہوئی، عدت کا شرمناککیس بنایا گیا اُس پر بھی سزا دی گئی۔ لیکن ان سب زیادتیوں کے باوجود عمران خان صاحب کی مقبولیت میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا، وہ پہلے سے بھی کئی گناہ زیادہ مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور تین سال سے بہادری کے ساتھ جیل کاٹ رہے ہیں، کوئی کمپرومائز ابھی تک نہیں کیا۔
2016 میں بننے والی پنجاب کی جدید 'ڈولفن فورس' آج شدید بحران کا شکار ہو کر بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی۔ آئی جی پنجاب نے مبینہ طور پر اس فورس کو ختم کر کے اہلکاروں کو تھانوں میں تعینات کرنے کی تجویز دی ہے۔ جتنی بھی موبائل پیٹرولنگ فورس بنائی گئیں انکا یہی حال ہوا۔ نام مختلف تھے کام ایک ہی تھا اور بغیر منصوبہ بندی اور مناسب حد تک تحقیق اداروں کی بنیاد رکھنا اور پھر انکی ساللانہ کارکردگی کا قطعی جائزہ نہ لینا ، افسران کا غیر منطقی انتخاب اور غیر تربیت یافتہ عملہ،بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم، انسپیکشن کا عدم انعقاد، افسران کی عدم توجہ، انتظام اور انصرام سے ناواقفیت، بہتر پوسٹنگ کیطرف دھیان۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
کہاں تک سنو گے, کہاں تک سناؤں.....؟؟
سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے لوگوں کو میٹھے پانی کی فراہمی کیلئے 46 کروڑ روپے کی لاگت سے 54 کلومیٹر کی پائپ لائن بچھانے کاکام سال 2010 میں شروع کر کے سال 2020 میں مکمّل کیا گیا لیکن اس تاخیر کی وجہ سے درمیان کے 6 کلومیٹر کا پائپ زنگ لگنے سے گل گیا اور یوں پانی فراہم نہیں کیا جا سکا- پھر سال 2023 میں پانی کی پائپ لائنز کے مزید منصوبے بنے اور ان میں مذکورہ لائن کے 6 کلومیٹر حصّے کو نئے پائپ سے تبدیل کرنے کو بھی شامل کر دیا گیا- مزید 3 سال گزر چکے ہیں لیکن پائپ کے اس حصّے کو دوبارہ ڈالنے کے دور دور تک کوئی آثار نہیں-
قصّہ مختصر, سندھ کے عیاش حکمرانوں نے دبئی میں تو اپنی رئیل اسٹیٹ کے ڈھیر لگا لیئے لیکن نگر پارکر کے عوام کو 16 سال گزرنے کے باوجود پینے کا پانی نہیں پہنچا سکے-
نالائقی, نااہلی اور کرپشن سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنانے کی ایسی مثالیں پوری دنیا میں کہیں نہیں ملیں گی-
یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگ جو اپنی ہی نہتی عوام پر گولیاں برساتے رہیں، قوم انہی کے کاروبار کو پروموٹ کرتی رہے۔ کاروبار ان کا کام ہی نہیں ہے۔ قانونی طور پہ سرکاری نوکر کاروبار کر ہی نہیں سکتا۔
لہذا ہر محب وطن پاکستانی، عسکری مصنوعات کا نہ صرف مکمل بائیکاٹ کرے بلکہ ان کا بھی بائیکاٹ کرے جو ان مصنوعات کی خرید و فروخت اور استعمال کرتے ہیں۔
🚨اہم گفتگو
مجھے ڈونلڈ ٹرمپ سے بہت امید تھی کیونکہ وہ عمران خان کے بڑے اچھے دوست تھے لیکن پاکستان کے کرمنل مافیا حکمرانوں نے جن کے نزدیک عزت قانون اور اپنی خودداری کی کوئی اہمیت نہیں انہوں نے ٹرمپ کو نوبل انعام، کرپٹو کرنسی ، پاکستان کی قدرتی معدنیات کی رشوت دی وہ بھی خاموش ہو گئے دنیا کے نامور کرکٹرز اور چیدہ چیدہ سیاستدانوں کے علاوہ دنیا میں آواز کوئی نہیں بلند کرتا جب ہم سے کوئی عمران خان کا پوچھتا ہے بات کرتا ہے تو ہمیں بہت حوصلہ ملتا ہے لیکن ایک دفع پوچھنے کے بعد آگے بڑھ جاتی ہے میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے کسی لیڈر کو اس بات کی realization ہونی چاہیے کہ پاکستان کو ان کرمنلز مافیاز حکمرانوں سے نجات دلانا دنیا کے لیے اچھا ہو گا۔
قاسم خان کا انٹرویو
مظہر عباس اسٹیبلشمنٹ کے چودہ طبق روشن کرتے ہوئے
کم سے کم صحافت کا کچھ حق تو ادا کیا!
جو کچھ محسن نقوی نے کہا وہ انکی ذاتی رائے نہیں تھی۔
محسن نقوی تو کاکروچ بھی اپنی مرضی کے لانا چاہتے ہیں۔
اس ملک میں نظام عوامی نمائندوں کا مسئلہ ہے ۔ ان لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے جنکو سیاست میں حصہ لینے کی آئینی اور خود انکے کوڈ میں اجازت نہیں ہے۔
جس ملک میں وزیراعظم کو اختیار نہیں، عدالت معزول، سیاست معزول، سیاست دان معزول ہو۔ چیف جسٹس اپنی مرضی سے عدالت نہیں جا سکتا۔ میڈیا آزاد نہیں ہے،
وہاں بااختیار بلدیاتی اداروں کی بات ہو رہی ہے۔ پہلے آپ خود طے کریں کہ آپ اس ملک میں کونسا نظام چاہتے ہیں ۔
چند سال پہلے آپ ہائبرڈ سسٹم لائے اب وہ بھی آپکو اچھا نہیں لگ رہا۔ کیا ہم غیر جماعتی فارمولے کی طرف جا رہے ہیں۔
جب تک آپ آئین کی سپرمیسی کو نہیں مانیں گے۔ جس عدلیہ نے ملک کا آئین توڑا اسکو آپ نے نہ صرف لیگل پروٹیکشن دی بلکہ کہا آپ چاہیں تو آئین میں مزید ترامیم بھی کر لیں۔
79 میں بھٹو کی پھانسی کے بعد غیر جماعتی انتخابات کروائے آپ نے تو انھیں بھی پاور نہیں دی۔آپ نے سیاسی نظام کو برادریوں میں تقسیم کیا۔ پھر آپ برملا کہتے ہیں کہ یہ اتحاد آپ بنواتے ہیں ۔ مہران بینک کا اسکینڈل سب کے سامنے ہے چار بینکوں سے پیسے جمع کر کے نمائندے منتخب کروائے گئے یہ سب سیاسی جماعتیں نہیں کرتیں ۔
غیریقینی کی صورتحال ہی پاکستان کا مسئلہ ہے۔آپ ملک میں استحکام آنے ہی نہیں دیتے ۔سیاست کو گالی بنا دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتی ۔ کسی کے لیے آپ بارہ مئی چھوڑا ہوا ہے کسی کے لئے نو مئی ۔ مقدمات سے آپ کنٹرول کر رہے ہیں۔ آپ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے معامالات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی بحث چھیڑ تے ہیں ۔
پشاور میں انصاف یوتھ ونگ کا اجلاس جس میں 5 اگست کے جلسے کے لیے لائحۂ عمل تیار کیا جا رہا تھا اور پولیس نے چھاپہ مروا کر اسے بند کر دیا
اندازہ لگائیں کہ PTI یوتھ ونگ کی میٹنگ کو پشاور پولیس سبوتاثر کر رہی ہے اور سہیل آفریدی وزیراعلی ہیں
پاکستان نے 2022 سے 2026 تک 13275 ارب روپے آئی پی پیز کو دیے ہیں جن میں 7286 ارب روپے کیپسٹی چارجز کی مد میں ہیں یہ بہت بڑی اماؤنٹ ہے جو کہ بجٹ کا 1/3 بنتی ہے ! زاہد گشکوری ۔۔
بریکنگ نیوز 🚨خُوف کا بت ٹوٹ گیا، ڈی جی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو شاہزیب خانزادہ نے منہ توڑ جواب دے دیا۔ جیو نیوز پر بیٹھ کر اپنے پروگرام میں بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی اسٹبلیشمنٹ کے متعلق تاریخی گفتگو پڑھ کر سنا دی اور قائد نے ایک جونیئر فوجی آفسر کو کیسے شٹ اپ کال دی؟ سارا احوال بتا دیا 🔥🔥
قائد اعظم نے ایک پیغام اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے بھی دیا، 14 جون 1948 میں کوئٹہ کمانڈ کالج کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو آئین کا مطالعہ کریں، جس میں لکھا ہے کہ ایگزیکٹو اتھارٹی پاکستانی حکومت کے سربراہ سے شروع ہوتی ہے جو اس وقت گورنر جنرل ہے۔ اس لیے آپ کے پاس جو بھی احکامات آتے ہیں، وہ بنا ایگزیکٹو اتھارٹی کی منظوری کے نہیں آ سکتے ہیں اور یہی قانونی طریقہ کار ہے۔ اس سے پہلے اگست 1947 میں قائد اعظم محمد علی جناح سے جب فوج کے ایک جونیئر افسر نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ فوج کے اعلیٰ عہدوں پر غیر ملکی تعینات ہیں، ان غیر ملکی افسران کے بجائے ہمیں موقع دیا جائے اور مقامی افسران کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جائے، تو اس پر قائد اعظم نے غصے میں جواب دیا کہ مت بھولیں، فوج عوام کی ملازم ہے۔ ملکی پالیسی آپ نہیں، ہم سویلینز بناتے ہیں، ہم چیزیں طے کرتے ہیں اور آپ کا کام ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔ پاکستانی فوج عوام کی فوج ہے، فوج اتنا ایگزیکٹو کا حصہ نہیں جتنام عوام کا حصہ ہے۔ پاکستانی فوج بیرونی خطروں کا واحد دفاع ہے، اسے سیاسی کیوں بنائیں؟ پالیسی سویلینز بنائیں گے، فوج عمل کرے گی۔ آج سے 76 سال پہلے قائد اعظم نے واضح کر دیا تھا، مگر پھر کیا ہوا؟ قائد اعظم کی ان باتوں پر کسی نے عمل نہیں کیا۔ ملک میں چار مارشل لا آئے، جمہوری حکومتوں کے تختے الٹے گئے اور مارشل لا کے ذریعے اس ملک میں جمہوری حکمرانوں سے زیادہ آمروں نے حکمرانی کی اور 78 سال سے ملک میں سویلین اور عسکری قیادت میں تعلقات ابھی تک معمول پر نہیں آ سکے ہیں اور آج بھی جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کی بے بسی کی بات ہوتی ہے۔
علیم ڈار کرکٹ ایمپائر نگ سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد خاموش اپنی زندگی گزار سکتا تھا لیکن علیم ڈار نے انسانیت کی خدمت کرنا اپنا فریضہ جانا اور اس کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں
بریکنگ نیوز 🚨شہزاد اقبال کا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے چینل جیو نیوز پر بیٹھ کر ڈی جی اور محسن نقوی کو منہ توڑ جواب 🔥🔥
یہ وہی اسٹیبلشمنٹ ہے ناں جس کا بیانیہ یہ تھا کہ اگر عمران خان کی حکومت برقرار رہی تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا، ہم برباد ہو جائیں گے۔ پھر اسی اسٹیبلشمنٹ نے ایک اور جھوٹا بیانیہ بنایا کہ اگر عمران خان جیل سے باہر آ گئے تو ملک میں عدم استحکام پیدا ہو جائے گا اور ترقی رک جائے گی۔ پھر پوری قوم کو اسی اسٹبلیشمنٹ نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم اس لیے ضروری ہیں کیونکہ عدلیہ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ وہ بھی کر کے دیکھ لیا، مگر اب فرمایا جا رہا ہے کہ پورا نظام ہی غلط ہے اور اسے تبدیل ہونا چاہیے۔
عمر ایوب نے "استحکامِ پاکستان کانفرنس" میںDG-PMLN کو آئینِ پاکستان کا اصل سبق پڑھاتے ہوئے آئین کا آرٹیکل 7 پیش کر دیا:
ریاست عوام اور ان کے منتخب کردہ ادارے ہیں—فوج، ایجنسیاں یا دیگر ادارے ریاست نہیں بلکہ اس کے اوزار
ہیں۔
"ریاست سے مراد مجلسِ شوریٰ (سینیٹ اور قومی اسمبلی)، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، صوبائی اسمبلیاں، اور وہ تمام مقامی ادارے ہیں جو ٹیکس عائد کر سکتے ہیں۔
"اگر ایک گھر میں چوکیدار اٹھ کے کہے کہ میرے پاس ڈنڈا ہے، اس لیے بجلی، گیس کا بل اور کچن بھی میری مرضی سے چلے گا اور مالک بھی میں ہوں—تو وہاں آئین اور قانون ختم ہو جاتا ہے۔ فوج، پولیس، اور ایجنسیاں ریاست کی خدمت گار ہیں، مالک نہیں!"
@OmarAyubKhan