@OfficialDGISPR@ImranKhanPTI@peaceforchange ہم ڈیجیٹل دہشت گرد نہیں بلکے اپنے ملک سے پیار کرنے والے لوگ ہیں ہمیں پاکستان سے آگے کچھ بھی نہیں اور آج ہم سب تلخیاں اور ناراضگیاں بھلا کر اپنی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان زندہ آباد 🇵🇰
میری عمر 86 برس ہے ۔۔۔۔ پاکستان میں 86 برس جینا بیغیرتی کی نشانی ہےکہ ان حالات میں ایک شخص 86 برس زندہ ہے ۔۔۔لیکن میں اپ کے لیے زندہ ہوں ۔۔۔
انور مقصود
لاہور میں قانون سے اعتماد اٹھنے کے بعد شہری نے اپنی عدالت لگا کر انصاف کر دیا
جو کچھ لاہور میں ہوا ہے اس کے زمہ دار حکمران ہیں
پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ایک نوجوان کو شہید کر دیا تھا، جس کے بدلے میں اس کے بھائی نے پولیس اہلکاروں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
پاکستان میں حالات اب اسی ڈگر پر جا رہے ہیں، کیونکہ وہاں کسی کو انصاف ملتا نہیں، اس لیے لوگ اب خود انصاف کرنے (قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے) لگے ہیں۔
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے قتل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک کمانڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو پاکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار کر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
یہ بات مراد سعید نے بھی کہیں تھی کہ جنازے اٹھانے سے بہتر ہے آواز اٹھا ،اور یہ بات اداکار محسن رضا گیلانی بھی کر رہا ،اس کاروان کا حصہ بننے کے لیے اس پیغام کو دوسروں تک فرض سمجھ کر پہنچائیں ✌️
”اسٹبلشمنٹ کیلئے تالیاں بجاؤ گے؟“
اگر #DGPMLN قوم کے جذبات کے بارے میں اپنے Boss کو کوئی بریف بھیجنا چاہتے ہیں تو وہ پشاور یونیورسٹی کے طلبہ کی یہ ویڈیو بھیج دیں۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خان کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے کشمیر تک، اسلام آباد سے مریدکے تک جیسے اپنے لوگوں پر انہی کی حفاظت کے لیے مہیا کی گئی بندوقوں سے، انہی کے پیسوں سے خریدی گئی گولیوں سے، انہی کا خون بہا کر، انہی کے دیس کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ جیسے خیبر پختونخواہ سے بلوچستان تک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگ کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو۔
🚨میں قرآن پر حلف دے کر بات کررہا ہوں کہ اڈیالہ میں میری عمران خان سے آخری ملاقات ہوئی تو عمران خان نے کہا کہ " اقبال پارٹی میری بات نہیں مان رہی "
اقبال آفریدی کا انکشاف
ایران کی دوران جنگ آرمی چیف شہید ہوگیے۔
یوکرائن نے دوران جنگ اپنا آج آرمی چیف بدل دیا۔۔
بھارت میں ریٹائر ہوکر دوران جنگ دوسرا نیا آگیا۔
اور یہاںصرف قومی سلامتی کے نام پر 6سال مدت ملازمت توسیع، عہدے،تاحیات استنثیٰ لے لیا جاتا ہے۔
ٹاؤٹ: آپ سیاست میں مداخلت کر رہی ہیں
علیمہ خان: پہلے یہ بتائیں میں خیبرپختونخوا گئی کیوں تھی کیا آپ کو نہیں پتہ کہ عمران خان کا علاج نہیں کروا رہے قید تنہائی ختم نہیں کر رہے تو فیملی عمران خان کے لیے آواز نہیں اٹھائے گی تو کون اٹھائے گا
سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
بریکنگ ۔ بریکنگ۔بریکنگ۔۔
مولانا نے فوج سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔۔۔
میرا مطالبہ ہے کہ جس فوج اور جس جنرل نے جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے اسکو معافی مانگنی ہوگی۔۔
،۔۔مولانا فضل الرحمان
اپنے شہداء کی توہین تذلیل اور تحقیر جو تم لوگوں نے کی ہے وہ کسی اور نے نہیں کی اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتے ہو کرنل شیر خان کا جنازہ ہم نے ہندوستان کے اصرار کے بعد وصول کیا ہے تم نے اپنے شہداء ہندوؤں کے حوالے کیے تم ان کے جنازے وصول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے تم نے اپنے شہداء کو ہندوؤں کے حوالے کیا اور وہاں سے ایک بیان آیا کہ ہم نے انہیں اسلامی طریقے سے دفن کر دیا ! مولانا فضل الرحمان
🚨عوام کی ڈیمانڈ پر ایچ ڈی کوالٹی میں مکمل ستلج فلم ۔🚨
ایچ ڈی کوالٹی میں مکمل دوبارہ دیکھیے ۔
وہ فلم جس کو مودی نے انڈیا میں بین کیا ۔جس کو نیٹ فلیکس سے اتار دیا ۔
کیونکہ رجیم چینج والے سارے لوگ چاہتے ہیں عوام کے ساتھ جو ناجائز سلوک ریاست اور حکومت کرتی ہے وہ کوئی نہ دیکھے ۔
دیکھا جائے تو اس وقت برصغیر کے تمام ممالک میں یہی حالات ہیں جو ستلج میں دیکھائے گے ہیں ۔
کیا ہمارے پنجاب یا باقی صوبوں میںُ بھی ایسے حالات ہیں جو انڈیا کی پنجاب میں دیکھائے گے ہیں ؟
اس کا حل کیا ہے ۔۔۔