وزیراعلی پنجاُب مریم نواز کا اچھا اقدام
اگر آپ سے کوئی پٹواری ، گردآور ، تحصیلدار ، پولیس کا سپاہی ، منشی ، محرر ، اے آیس آئی یا ایس ایچ او یا کوئی اور ملازم رشوت مانگتا ہے تو اپنے موبائل فون سے ہیلپ لائن 1350 پر کال کریں ، انشاللہ وہ سرکاری کرپٹ ملازم اپنے انجام کو پہنچے گا.
1350 پر کال کر کے کرپٹ عناصر پکڑوائیں پٹواری ہو یا جو بھی ہو جنھوں نے رشوت لی ان کا بھی بتائیں یہ ہیلپ لائن فری ہے 1122 کی طرح۔
مریم کو بتائیں۔۔۔
فوری 10 ہزار روپے کی مالی امداد پائیں۔
"مریم کو بتائیں" پلیٹ فارم کے ذریعے مستحق افراد کو 10,000 روپے تک کی فوری مالی امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری!
مستحق افراد جاز کیش کےذریعے سے وصول ہونے والے پن کوڈ یا شناختی کارڈ کے ذریعے رقوم حاصل کر سکتے ہیں۔
مريم کو بتائیں فوری امداد پائیں
گھر بیٹھے رجسٹریشن اور درخواست دینے کا طریقہ جانیں۔
حکومتِ پنجاب کے "مریم کو بتائیں" پروگرام کے ذریعے مستحق شہریوں کے لیے مالی امداد اور خصوصی افراد کے لیے معاون آلات کی فراہمی کا سلسلہ جاری
اس فلاحی پراجیکٹ کے تحت مستحق خاندانوں کو 10,000 روپے تک کی مالی امداد منتقل کی جاتی ہے، جبکہ خصوصی افراد کو ان کی درخواست پر الیکٹرک ویل چیئرز، تھری وہیلر الیکٹرک بائیکس اور آلہ سماعت جیسے معاون آلات ان کے گھر کی دہلیز پر فراہم کیے جاتے ہیں۔
اگر آپ اس پروگرام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو اپنے موبائل سے 1000 پر مفت کال کر کے نمائندے کے ذریعے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں یا گوگل پلے اسٹور سے "Maryam Ko Batayn" ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔
"مریم کو بتائیں" پروگرام کیسے کام کرتا ہے اور درخواست دینے کا طریقہ کار کیا ہے؟
مکمل تفصیلات جانیں گورنمنٹ آف پنجاب کی اس خصوصی وڈیو میں👇🏻
https://t.co/z0XY1oImbN
آپ آرمی چیف بھی ہو، چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہو، فیلڈ مارشل بھی ہو اس سے ہمارا کوئی اعتراض نہیں لیکن جو اختیارات پارلیمنٹ کے ہونے چاہیے وہ مقتدرہ کے ایک آدمی کو دے دئے گئے اور مزید اگر کسی فیصلے کی ضرورت ہوگی تو وفاقی حکومت کرے گی یعنی پارلیمنٹ کو اس سے نکال دیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان
#JUIF #MolanaFazlurRehman
بریکنگ نیوز🚨اصل حقیقت سامنے آگئی، شوکت خانم کا بیٹا چھا گیا۔عادل راجہ کا تہلکہ خیز انکشاف۔ عمران خان نے جرنیلوں کی ڈیل کو دردی کی ٹوکری میں پھینک دیا 🔥🔥
عمران خان پر پریشر تھا کہ وہ ڈیفنس سروسز ایکٹ اور خاص طور پر نئے صوبوں کے پلان پر لچک دکھائیں، اور ایک پیغام بھجوائیں فکر نہ کرو سب کچھ ہو جائے گا۔ عمران خان نے صاف منع کردیا، انہوں نے کہا کوئی سرنڈر نہیں ہوگا، میں تمہارے سامنے نہیں جھکوں گا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، صوبوں پر یا عاصم منیر کو خدا ماننے پر عمران خان نہیں جھکیں گے۔
عمران خان کے علاج سے متعلق تین ججز کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے ردی کی ٹوکری پھینک کر ججز کے منہ پر طمانچہ مارا ہے،
ایک دفعہ پھر اس ملک کے " ان ٹچیبل" نے ثابت کیا کہ وہ آئین و قانون سے بالاتر ہیں،
ہمارے خلاف عدالت ، ایف آئی اے یا کوئی اور ادارہ حکم دیتا ہے تو ایک گھنٹے میں اس پر عملدرآمد ہو جاتا ہے ، پندرہ منٹ میں پولیس پہنچ جاتی ہے،
عمران خان کے علاج کے لیے عدالتوں نے دو دنوں کا وقت دیا مگر جو خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا،
اگر عدالتیں ان " ان ٹچیبل" کو کٹہرے میں نہیں لا سکتیں تو انہیں مظلوموں کو بھی سزا سنانے کا کوئی حق نہیں،
اگر ظالموں اور طاقتوروں کو سزائیں نہیں سنائی جا سکتی تو عدلیہ سے گزارش ہے کہ جن کمزور لوگوں کو قید کیا ہے انہیں بھی آزاد کر دیں,
یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ملک میں کمزور کے لیے ایک قانون ہو اور طاقتور کے لیے دوسرا قانون ہو,
عمران خان نے حقیقی آزادی کی جو جد و جہد شروع کی ہے اسکا
مقصد کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون ہے,
عدالتوں کو سوچنا ہوگا کہ یہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں، کسان پریشان ہے ، صنعتکار سرمایہ ملک سے باہر منتقل کر رہا ہے,
اگر انکا فیصلہ ہے کہ انہوں نے طاقتور کو بچانا ہے تو ہم اس فیصلے سے باغی ہیں,
نوجوانوں نے ملک کا فیصلہ کرنا ہے ، انہیں اپنے مستقبل کے لیے کھڑا ہونا ہے,
پی ٹی آئی خواتین پر ظلم و جبر کیا جا رہا ہے ، عمران خان کی بہنوں کی بے توقیری کی گئی،اب ان کے پاس عورت کارڈ کا پتا بھی ختم ہو گیا,
عمران خان سے ہم جنون کی حد تک عشق کرتے ہیں، ہم خان کی بہن کے ایک ایک آنسو کی قیمت چکائیں گے،
27 تاریخ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا ، اب20 نہیں 40 لاکھ لوگ لے کر جائیں گے،
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا ہنگو میں ابوبکر صدیق چوک میں اسٹریٹ موومنٹ شرکاء سے خطاب!
اگر یہ مان بھی لیا جائےکہ عمران خان کو شفا اسپتال اس لئے نہیں لیکر گئے کہ وہاں پر لوگوں کا ہجوم ہو گیاتھا تو بھر ڈاکٹر فیصل سلطان کو پمز کیوں نہیں بلایا گیا؟ انہیں کس نے شفا میں بٹھائے رکھا؟سپریم کورٹ کے فیصلے میں حکم دیا گیا تھا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان بھی خان کا طبی معائنہ کرینگے
مقتدرہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمران خان کو قید تنہائی میں رکھے ہوئے ہے، اس سے ٹینشن اور اضطراب ہوتا ہے، ٹی وی اور کتابیں تک نہیں دیتے، اضطراب سے دماغ اور دل پر اثر ہے۔ بلڈپریشر کا اوپر نیچے ہونے خطرناک ہے۔ عظمیٰ خان
اس رجیم کے کرداروں کو اس خطرناک کھیل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کا امتحان ہے کہ اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرائے۔
#ContemptIfCourt
عمران خان کا کوئی بلڈ ٹیسٹ نہیں ہوا صرف آنکھوں کا چیک اپ کیا گیا اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا جب میں نے ان سے پوچھا خان صاحب کونسی میڈیسن لے رہے تو کہتے مجھے نام یاد نہیں میں نے فائلیں چیک کیں میں نے کہا میڈیسن آپ نے دی ہیں آپ کے ریکارڈ میں نہیں ہے؟ یہ کیا طریقہ ہے؟ اتنا غلط طریقہ ؟
ڈاکٹر عظمیٰ خان
"ایک بات یہ کی جارہی ہے کہ بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو دی گئی انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔ سپریم کورٹ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ جو میڈیکل ریکارڈ ہسپتال میں پیش کیا جائے گا کیا آپ اس پر سیاست کریں گے؟ ہم نے صرف یہ انڈرٹیکنگ دی تھی کہ میڈیکل ریکارڈ صرف خاندان اور ذاتی ڈاکٹرز کے پاس رہے گا سیاسی جماعت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہم اس پر کوئی سیاست نہیں کریں گے۔ ہم نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی کوئی ریکارڈ پیش ہی نہیں ہوا وہ میڈیکل بورڈ بنا ہی نہیں جس میں ڈاکٹر عظمیٰ نے شامل ہونا تھا"۔
سلمان اکرم راجہ
"عمران خان نے ایک بات بار بار مجھے کہی کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا مجھے یہ ٹارچر کررہے ڈاکٹرز کہتے طبیعیت خرابی کی وجہ humans contact نہ ہونا ہے۔ جیل کے ڈاکٹرز نے ان کو میری طبیعت خرابی کا بار بار بتایا لیکن کوئی سنتا ہی نہیں تھا ۔ دس اگست کو جو ڈاکٹرز آئے انہوں نے کہا کہ آپ کو جو قید تنہائی میں رکھا جارہا جو مینٹل ٹارچر کیا جارہا اس کی وجہ سے جو Anxiety ہو رہی تبھی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہورہا ہے۔ انہوں نے بار بار کہا میری قوم کو بتاؤ یہ انسان نہیں ہیں یہ ظلم کررہے ہیں بشری بی بی کے ساتھ ظلم کررہے"۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ
میرا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں لیکن انصاف کی خاطر میں سپریم کورٹ جج کا سیٹ کھو بیٹھا، بطور چیف جسٹس کافی مشکلات آئی، مجھے سپریم کورٹ کے جج بننے سے محروم کیا گیا، چیف جسٹس کو خط لکھا لیکن وہ جواب تک نہ دے سکا، پشاور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ابراہیم خان
میں نے قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کو پیار سے موقع دیا کہ آپ وضاحت دیں لیکن وہ ڈھیٹ ہو کر واپس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہیں جو میں نے کہا میں اُس پر قائم ہوں، اگر آپ اِس پر قائم ہیں کہ راولاکوٹ، کوٹلی اور میرپور کے عوام کشمیری نہیں تو یہ وزارت آپ کو چھوڑنا پڑے گی، بلاول بھٹو
قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس بنا تو موصوف کی خاطر ہم عمران خان کی حکومت سے لڑتے رہے جنرل باجوہ سے لڑتے رہے افسوس کہ اس شخص نے چیف جسٹس بننے کے بعد وہ کچھ کیا جس پر اسے تاریخ کبھی معاف نہیں کریگی
دکھ ہوتا ہے کہ کبھی صرف آپ کی تقریر سن کر ہم نے آپکو لیڈر لیڈر سمجھ لیا تھا۔
خود تو آپ لوگ کچھ کر نا سکے،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور عمران خان وہاں 8/10 کے کمرے میں سخت گرمی میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہے، اب اسکے گھر سے کوئی صرف ریلی کے لئیے باہر نکلا ہے تو آپ کو موروثیت یاد آگئی۔
حد ہے ویسے اتنا خوف۔
آپ لوگوں نے کچھ کیا ہوتا تو عورتوں کو یہ جنگ لڑنی ہی نا پڑتی،چھوڑیں موروثیت۔
کیا ریحان طارق کے اٹھائے جانے کی وجہ یہ پروگرام بنا ؟
جس میں وہ ڈکی کے کیس پر بات کر رہا ہے👇🏻
کون اتنا طاقتور ہے جو آئی ایس آئی کا اور ایم آئی کے نام پہ بندے ساتھ لیکر گھوم رہا تھا جسکا اتنا بڑا نیٹورک تھا جوتوہین مزہب کی بلیک میلنگ کا بڑا کردار تھا۔
جب ڈکی NCC کی حراست میں تھا تو اسے پتہ چلا کہ ڈکی کے پاس بہت پیسہ ہے وہ بھی ایک حاضر NCC کا افسر تھااس کا نام نہیں لے سکتا۔
کیونکہ خبروں میں آخری پوڈ کاسٹ کا ذکر ہو رہا ہے اور ریحان کے پیج کا یہ latest podcast ہے؟!
میرا ٹکٹ اسحاق ڈار نے 75 کروڑ میں فروخت کیا اور یہ پیسے اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار نے لندن میں پونڈز کی شکل میں لئے۔ مسعود خالد نے دو اعلی فوجی افسران پر بھی الزام لگایا کہ وہ بھی اس سودے میں شامل تھے 80 سالہ مسعود خالد نے ن لیگ سے علیحدگی اختیار کر لی
کیا رضا ڈار کے کرتوت پر اسحاق ڈار گرفتار ہوں گے؟
میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہر انسان اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے نہ کہ اُس کے ماں باپ یا رشتہ دار - لیکن جب ن لیگ چند لوگوں کے ذاتی فعل پر عمران خان کو گرفتار کر سکتی ہے تو اب اسحاق ڈار صاحب پر بات کیوں برداشت نہیں ہو رہی؟