@Its_ShanzaSays اگرسب کچھ عوام اورپاکستان کےلئیےکررھےہیں توکرلینی چاہئےڈیل۔کیونکہ اگران حالات میں عوام ہی نارہی توپھرکیافائدہ جیل میں رہنےکا۔عوام توپوری طرح بزدل ھوچکی ھے۔
اصل کھیل دوسےتین دن کےبعدشروع ھوگا۔بہت سےکھلاڑیوں کوپتاھےکہ ان کامستقبل کیاھے۔
اب بس ایک ہی بندہ ھےجواس گیم کوٹھیک سےکھیل سکتاھےاوروہ بہت جلدمیدان میں آنےوالاھے
ہم سب کو اس مسئلے پر ایک ہونا ہوگا اور اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ صرف باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا—اب وقت ہے کہ ہم X (Twitter) سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کو ٹرینڈ بنائیں، خاص طور پر وہ لوگ جن کے اکاؤنٹس کے ویوز زیادہ ہیں تاکہ کوئی عملی قدم اٹھایا جا سکے۔
میٹر کا کرایہ 1000 روپے تک لیا جا رہا ہے، جبکہ میٹر حکومت فری نہیں دیتی بلکہ اس کی پوری رقم پہلے ہی ادا کر کے لگوایا جاتا ہے۔ پھر یہ کرایہ کس بات کا؟ اس کے علاوہ الگ سے ٹیکسز بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
ایک حالیہ بجلی کے بل کی مثال دیکھیں:
فی یونٹ قیمت: 37.44 روپے
کل یونٹس: 9
اصل بل بنتا ہے: 336.96 روپے
لیکن ٹیکسز: 1548.04 روپے
کل بل: 1885 روپے
کیا یہ انصاف ہے؟
اگر ہم سب نے اس پر آواز نہ اٹھائی تو خاموشی کو ہماری رضامندی سمجھ لیا جائے گا، اور آنے والے وقت میں مزید ٹیکسز بھی لگا دیے جائیں گے۔
سب لوگ اس پوسٹ کو شیئر کریں، ری پوسٹ کریں اور متعلقہ اداروں اور حکومتی اکاؤنٹس کو ٹیگ کریں تاکہ یہ مسئلہ اوپر تک پہنچے۔
کوپیڈ
#ElectricityBill #Wapda #PunjabGovernment #MaryamNawaz #CMPunjab