عام آدمی کی معیشت، اعدادوشمار سے نہیں چولہے سے ناپی جاتی ہے!
پٹرول 350 روپے فی لیٹر،
ٹماٹر 5 کلو = 1200 روپے،
پیاز 5 کلو = 1300 روپے،
انڈے 250 روپے درجن،
کھلا دودھ 180/240 روپے فی کلو،
ڈبے والا دودھ 380 روپے فی کلو،
دہی 250 روپے فی کلو،
چینی 160 روپے فی کلو،
دال چنا 250 روپے فی کلو،
دال مونگ 280 روپے فی کلو،
آٹا 160 روپے فی کلو،
اور کوکنگ آئل تقریباً 550 سے 620 روپے فی کلو۔
ان نرخوں میں ایک 4 سے 5 افراد کے عام گھرانے کا صرف ماہانہ راشن تقریباً 30 سے 35 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
اور یہ صرف راشن ہے۔
بجلی، گیس، پانی، پٹرول، گھر کا کرایہ، بچوں کی اسکول فیس، علاج معالجہ، بیمار داری اور دیگر روزمرہ اخراجات ابھی باقی ہیں۔
بجلی 70 روپے یونٹ
پٹرول 350 روپے لیٹر
گیس 600 روپے کلو
حکومت معاشی ترقی، شرحِ نمو اور دیگر اعدادوشمار پیش کرتی رہے، لیکن عام آدمی کے لیے معیشت کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس کی آمدن میں گھر کا چولہا کتنی آسانی سے جل رہا ہے۔
اگر آمدن کے مقابلے میں بنیادی ضروریات مسلسل مہنگی ہوتی جائیں اور قوتِ خرید کم ہوتی رہے، تو کاغذ پر دکھائی جانے والی معاشی ترقی عام آدمی کی زندگی میں کسی بہتری کا احساس پیدا نہیں کر سکتی۔
معیشت کی اصل کامیابی تب ہے جب عام آدمی کو مہینے کے آخر میں صرف بلوں اور راشن کی فکر نہ ہو، بلکہ زندگی گزارنے کی گنجائش بھی باقی رہے۔
۔
منقول لیکن متفق
Empty Plates, Hungry Eyes! Have the Voices Speaking Up for Palestinian Children Gone Silent?
Palestinian Children Face Hunger and Desperation as the World’s Attention Fades | 24 News HD
ہاتھوں میں برتن، آنکھوں میں بھوک!
فلسطینی بچوں کے لیے آوازیں اٹھنا بند ہوگئیں؟
#Palestine #Gaza #GazaChildren #HumanitarianCrisis #Humanity #Family #Tragedy #ViralVideo
یہ ہے وہ بچہ جس کو سہولتیں دینے کے لیے بیورو کریسی اور حکومت IMF سے عوام کے نام اور ترقی کیلئے قرضے لیتی ہے۔ جس سے ان کی عیاشیاں چلتی ہیں۔
ملاحظہ فرمائیں💔
53 چیزیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی پناہ مانگی
1. قرض سے۔ [بخاری: 6368]
2. برے دوست سے۔ [طبرانی کبیر: 810]
3. بے بسی سے۔ [مسلم: 2722]
4.جہنم کے عذاب سے۔ [بخاری: 6368]
5. قبر کے عذاب سے۔ [ترمذی: 3503]
6. برے خاتمے سے۔ [بخاری: 6616]
7. بزدلی سے۔ [مسلم: 2722]
8. کنجوسی سے۔ [مسلم: 2722]
9. غم سے۔ [ترمذی: 3503]
10. مالداری کے شر سے۔ [مسلم: 2697]
11. فقر کے شر سے۔ [مسلم: 2697]
12. ذیادہ بڑھاپے سے۔ [بخاری: 6368]
13. جہنم کی آزمائش سے۔ [بخاری: 6368]
14. قبر کی آزمائش سے۔ [بخاری: 6368]
15. شیطان مردود سے۔ [بخاری: 6115]
16. محتاجی کی آزمائش سے۔ [بخاری: 6368]
17. دجال کے فتنے سے۔ [بخاری: 6368]
18. زندگی اور موت کے فتنے سے۔ [بخاری: 6367]
19. نعمت کے زائل ہونے سے۔ [مسلم: 2739]
20. الله کی ناراضگی کے تمام کاموں سے۔ [مسلم: 2739]
21. عافیت کے پلٹ جانے سے۔ [مسلم: 2739]
22. ظلم کرنے اور ظلم ہونے پر۔ [نسائی: 5460]
23. ذلت سے۔ [نسائی: 5460]
24. اس علم سے جو فائدہ نہ دے۔ [ابن ماجہ: 3837]
25. اس دعا سے جو سنی نہ جائے۔ [ابن ماجہ: 3837]
26. اس دل سے جو (اللہ سے) نہ ڈرے ۔ [ابن ماجہ: 3837]
27. اس نفس سے جو سیر نہ ہو۔ [ابن ماجہ: 3837]
28. برے اخلاق سے۔ [حاکم: 1949]
29. برے اعمال سے۔ [حاکم: 1949]
30. بری خواہشات سے۔ [حاکم: 1949]
31. بری بیماریوں سے۔ [حاکم: 1949]
32. آزمائش کی مشقت سے۔ [بخاری: 6616] کے
33. سماعت کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
34. بصارت کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
35. زبان کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
36. دل کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
37. بری خواہش کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
38. بد بختی لاحق ہونے سے۔ [بخاری: 6616]
39. دشمن کی خوشی سے۔ [بخاری: 6616]
40. اونچی جگہ سے گرنے سے۔۔ [نسائی: 5533]
41. کسی چیز کے نیچے آنے سے۔ [نسائی: 5533]
42. جلنے سے۔ [نسائی: 5533]
43. ڈوبنے سے۔ [نسائی: 5533]
44. موت کے وقت شیطان کے بہکاوے سے۔ [نسائی: 5533]
45. برے دن سے۔ [طبرانی کبیر: 810]
46. بری رات سے۔ [طبرانی کبیر: 810]
47. برے لمحات سے۔ [طبرانی کبیر: 810]
48. دشمن کے غلبہ سے۔ [نسائی: 5477]
49. ہر اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کرے۔
[ابو یعلی: 4473]
50. کفر سے۔ [ابو یعلی: 1330]
51. نفاق سے۔ [حاکم: 1944]
52. شہرت سے۔ [حاکم: 1944]
53. ریاکاری سے۔ [حاکم: 1944]
حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے نبی اور رسول ہیں،
آپ کو اللہ تعالیٰ نے معصوم پیدا فرمایا،
نہ آپ کو شیطان بہکا سکتا تھا اور نہ ہی دنیا کی کسی چیز کا خوف!
آپ صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کی تعلیم کے لیے یہ دعائیں مانگ کر امت کو سکھایا کہ ان چیزوں سے پناہ مانگیں،
اے اللہ!! رب العالمین!! ہم ہر اس چیز سے تیری پناہ مانگتے ہیں جس سے تیرے پیارے حبیب ﷺ نے پناہ مانگی۔۔
آمین یارب العالمین۔۔۔۔
سجدے کی حالت میں دماغ کا جائزہ لیا تو فائدوں نے سائنسدانوں کی آنکھیں کھول دیں
جب نمازی سجدے میں جاتا ہے تو اسکا سر نیچے زمین کو چھو رہا ہوتا ہے اور دھڑ ذرا اونچا ہوتا ہے۔ ہمارے تو ایمان کا حصہ ہے کہ اس حالت میں انسان اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ سجدے میں جانے کے صرف روحانی ہی نہیں بلکہ جسمانی فائدے بھی ہیں۔ جب انسان اس حالت میں ہوتا ہے تو اسکا دماغ کچھ حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ عام طور پر جب ہم کھڑے ہوتے ہیں تو دل کو دماغ کی طرف خون پہنچانے کےلئے اضافی زور لگانا پڑتا ہے۔ لیکن جب سجدے کی حالت میں سر نیچے کو ہوتا ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے دماغ اور سرکی طرف خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔ جس سے دماغ کے سامنے والے حصے کو تازہ آکسیجن سے بھرپور خون پہنچتا ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جو انسان کی نہ صرف شخصیت بناتا ہے بلکہ اسے فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے ساتھ ہی ساتھ دباؤ اور تناؤ بھی کم کرتا ہے۔ یوں نماز میں رب کے سامنے اپنا سر جھکانے سے آپ اعصابی نظام کو ری فریش کرتے ہو اور دماغ کو صحت مند بناتے ہو۔ شائد اسی لئے ہم سجدے میں تسبیح کرتے ہیں کہ *"پاک ہے میرا رب جو سب سے اعلیٰ ہے"*
ایران نے حملہ کیوں کیا ؟ سچ کیا ہے ؟
۱۔ امن معاہدے کے مطابق شق پر مبنی یہ طے پایا تھا کہ تمام جہاز ایران سے رابطے میں رہتے ہوۓ ایران کی Navigation میں آبناۓ ہرمز سے گَزریں گے۔
۲۔ یہ بات معاہدے میں ایسے عیاں ہے جیسے دن اور رات۔
۳۔ امریکہ نے ایران کو نیچا دکھانے کے لئیے آبناۓ ہرمز میں ایک نیا راستہ تشکیل دیا جہاں امریکی حکومت جہازوں کو بنا ایران کی شمولیت اور Navigation کے بار بار گُزار رہی تھی۔
۴۔ امریکہ کو سات مرتبہ تنبیہ کی گئی مگر غٗرور ہمیشہ اندھا کردیتا ہے
۵۔ اسکے علاوہ ساٹھ دن تک امن کے دوران جب تک ایک مستقل معاہدہ طے نہیں پاتا کوئ بھی امریکی جنگی بحری جہاز ایرانی سمندر میں داخل نہیں ہوسکتا۔
۶۔ جب ہر شِق کی خلاف ورزی ہوگی۔ تنبیہ کو مذاق سمجھا جائیگا تو ایران امریکہ کو پھول پیش کریگا یا امریکہ سرپرستی میں آبناۓ ہرمُز سے گُزرنے والے جہازوں کو سلامی دیگا ؟
پرپیگینڈے اور حقیقت میں فقط اتنا سے فرق ہوتا ہے۔
آباد رہیں۔ آمین۔
سستا پیٹرول خرید کر مہنگا ترین بیچ رہے ہیں سستی گیس مہنگی بیچ رہے بجلی کے بل میں فکسڈ ٹیکس ہے ایک یونٹ اوپر جانے پر چھ مہینے کی سزا ہے یہ سب عوام کی جیب سے لے کر اراکین اسمبلی کو تاحیات مفت بجلی کے بل پاس کر رہے ہیں
لعنتیں کردار
وہ انگریز جج جس نے اذان اور مندر کے گھنٹے کا سچ جان لیا!
انگریز کے دور میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر مقدمہ کیا کہ ان کی مسجد ہمارے مندر کے سامنے ہے اور یہ عین ہماری عبادت کے وقت گھنٹی بجاتے وقت، اذان دینے لگتے ہیں۔
انگریز جج نے سوچا کہ معاملہ خود جا کے دیکھتا ہوں۔ اگلے دن وہ مندر گیا اور وہاں ہندو کو کہا گھنٹی بجاؤ، اس نے گھنٹی بجا دی۔ پھر وہ سامنے مسجد گیا وہاں مسلمان کو کہا اذان دے، مسلمان نے کہا میں اذان نہیں دے سکتا ابھی اس کا وقت نہیں ہے۔ وہ پھر مندر گیا اور کہا گھنٹی بجاؤ اس نے پھر بجا دی۔
اگلے روز جج نے فیصلہ سنا دیا کہ ہندو فسادی ہے وہ اپنی مرضی سے گھنٹی بجاتا ہے جبکہ مسلمان اپنے مقررہ وقت پر اذان دیتا ہے
عوام جیو کا بائیکاٹ کیوں نہیں کررہی ہے ۔ آج چیک کیا تو ضبط ڈرامہ جس میں مسجدنبوی ﷺ والی تصویر سارہ اعجاز خان نے پھینکی ۔ اسی ڈرامے پر 7 ملین ویوز آئے ہوئے ہیں تازہ قسط پر
یہی ویوز ان چینلز کو مزید حوصلہ دیتے ہیں ۔ عوام تھوڑی سی شرم پیدا کرے اور ان کے ڈرامے دیکھنا بند کردے
دنیا کا سب سے بڑا معجزہ: نوبل پرائز بنگلہ دیش کو ملا، لیکن اصل حقدار پاکستان کا بیٹا نکلا!
کیا آپ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے محمد یونس اور ان کے گرامین بینک کو غریبوں کو چھوٹے قرضے دینے پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا؟ بظاہر یہ بہت بڑا فلاحی کام تھا، لیکن پردے کے پیچھے کی حقیقت آپ کو حیران کر دے گی۔
نوبل پرائز اور سود کا چکر!بنگلہ دیش کا گرامین بینک غریبوں کو قرض تو دیتا تھا، لیکن اس پر 20% سے 28% تک بھاری سود (Interest) وصول کیا جاتا تھا۔ غریب قرض کی اصل رقم سے زیادہ سود کے چنگل میں پھنس جاتا تھا۔ لیکن دنیا نے اس سود پر مبنی نظام کو سراہا اور نوبل پرائز دے دیا۔
اب دیکھیے پاکستان کا اصل معجزہ: ڈاکٹر امجد ثاقب اور "اخوت"پاکستان کے سابق سی ایس ایس افسر ڈاکٹر امجد ثاقب نے سرمائے دارانہ نظام کے اس شکنجے کو چیلنج کیا۔ انہوں نے 2001 میں صرف 10 ہزار روپے سے "اخوت فاؤنڈیشن" کی بنیاد رکھی۔ ان کا طریقہ کار بینکوں جیسا نہیں بلکہ "مواخاتِ مدینہ" (مدینہ کے بھائی چارے) پر مبنی ہے۔
200 ارب روپے سے زائد کی تقسیم: صرف 10 ہزار روپے سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 220 ارب روپے سے زائد کے بلا سود قرضے تقسیم کر چکا ہے، جس سے پاکستان کے کروڑوں غریب خاندان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔
0% سود (Zero Interest): اخوت غریبوں کو کاروبار، شادی اور گھر کے لیے بالکل مفت اور بلا سود قرضے دیتا ہے۔
سو فیصد (100%) واپسی کی شرح: دنیا کے بڑے بڑے بینک جن کے قرضے ڈوب جاتے ہیں، وہاں اخوت کا لون ریکوری ریٹ 99.9% (تقریباً 100 فیصد) ہے! غریب خود عزتِ نفس کے ساتھ پائی پائی واپس کرتا ہے۔
کوئی عدالت نہیں، کوئی پولیس نہیں: اخوت کسی غریب کو قرض واپسی کے لیے ہراساں نہیں کرتا، بلکہ مساجد اور گرجا گھروں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر شخصی ضمانت پر قرضے دیے جاتے ہیں۔
صرف قرض ہی نہیں، مفت یونیورسٹی بھی!ڈاکٹر امجد ثاقب کا سفر صرف قرضوں تک نہیں رکا۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی فیس سے پاک یونیورسٹی "اخوت کالج یونیورسٹی" قائم کی۔ اس یونیورسٹی میں پاکستان بھر کے غریب اور مستحق طلبہ کو نہ صرف بین الاقوامی معیار کی تعلیم بالکل مفت دی جاتی ہے، بلکہ ان کے رہنے، کھانے اور ہاسٹل کے تمام اخراجات بھی اخوت خود اٹھاتا ہے۔
سوچنے کی بات!سود پر قرض دینے والے کو دنیا نے نوبل پرائز دیا، لیکن اللہ کے نظام (بلا سود قرضِ حسنہ) پر چل کر کروڑوں خاندانوں کو غربت سے نکالنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب کا کام اس سے ہزار گنا بڑا ہے۔ اگرچہ انہیں ایشیا کا سب سے بڑا اعزاز ریمن میگسیسے ایوارڈ مل چکا ہے، لیکن ہمارا اصل فخر ان کا یہ بے لوث نظام ہے۔آئیں پاکستان کے اس سچے ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کریں۔ کمنٹس میں "ماشاءاللہ" لکھیں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کر کے دنیا کو پاکستان کا یہ خوبصورت اور مثبت چہرہ دکھائیں!
#DrAmjadSaqib #AkhuwatFoundation #PakistanPride #InterestFreeLoans #HumanityFirst