مصطفےٰ کمال کی پریس کانفرنس شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق کے معصوم بچوں کو اپنی گھناؤنی سیاست میں گھسیٹنے کی انتہائی شرمناک کوشش ہے۔
مصطفےٰ کمال اگر سچا ہے تو ڈاکٹر عمران فارق شہید کے قتل میں قائد تحریک الطاف حسین کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کرے ورنہ غیرت ہے تو شرم سے ڈوب مرے
نثار پنہوار کو تین ماہ غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، نہ کوئی واضح الزام، نہ کوئی قانونی کارروائی۔ رہائی کے بعد صرف آٹھ دن کی خوشی نصیب ہوئی اور پھر ہمارا گھر دوبارہ اجاڑ دیا گیا۔ اس بار صرف نثار پنہوار نہیں، بلکہ ان کے بیٹے محسن پنہوار کو بھی اٹھا لیا گیا۔ آخرہمارا قصور کیاہے؟
تین ماہ کی اذیت کم تھی جو آج پھر ہمارے پیاروں کو ہم سے دور کر دیا گیا۔ اس نا انصافی کی وجہ کیا ہے آخر ؟ آخر یہ ظلم کب رکے گا؟ یہ صرف دو نام نہیں، یہ دو زندگیاں ہیں، نثار پنہوار اور محسن پنہوار کے ساتھ ہو رہی زیادتی برداش کے قابل نہیں۔#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
تین ماہ غیرقانونی حراست میں رکھنے کے بعد ایم کیوایم کے سینئر رکن نثار احمد پنہور کو پانچویں مرتبہ ان کے صاحبزادے محسن پنہور کے ہمراہ اغوا کرکے لاپتہ کردیا گیا
یہ عمل کھلا غیرآئینی وغیرقانونی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے
ارباب اختیار انکی فوری بازیابی کیلئے نوٹس لیں
ایم کیوایم کےبانی وقائدجناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے رہنماؤں نثار پنہور اور انور خان ترین کو ان کی رہائی پر فون کرکے مبارکباد پیش کی۔ نثارپہنور اور انور خان ترین سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں ساتھیوں نے جس جرات و ہمت، عزم وحوصلے اور ثابت قدمی سے اپنی جبری گمشدگی کے عرصے کوبرداشت کیا وہ دیگر تحریکی ساتھیوں کےلئے ایک مثال ہے کہ وہ بھی آپ کی طرح جرات وہمت، عزم و حوصلہ اور بہادری کے ساتھ ایسی آزمائش کا سامنا کریں اور تحریکی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لئے خود کومیدانِ عمل میں آنے کے لئے تیار کریں۔
جناب الطا ف حسین نے نثارپہنور اور انور خان ترین کی رہائی پر ان کے اہل خانہ کو بھی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آپ کے گھروالوں نے بھی اس عرصے میں تمام ترذہنی کرب و اذیت برداشت کرتے ہوئےجس صبر وحوصلے کا مظاہرہ کیااس پر میں انہیں بھی مبارکباد اورخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آپ کے گھر والوں کا صبروحوصلہ تمام ساتھیوں کے اہل خانہ کےلئے بھی ایک مثال ہے۔
الطاف حسین
12 دسمبر 2025ء
🚨 81 دن! یہ غیر قانونی حراست نہیں، آئین کا قتل ہے!
آج سابق MNA نثار پنہور اور انور ترین کی جبری اور غیر قانونی قید کو 81واں دن ہو چکا ہے۔ تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، مگر ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔
ریاست جواب دے!
#ReleaseNisarPanhwar#ReleaseAnwarTareen
22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے معافی مانگ لی تھی لیکن 9 مئی کے واقعے پر عمران خان نے لاتعلقی نہیں کی تھی۔
ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے کیس کا موازنہ کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگار مظہر عباس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ
@MazharAbbasGEO
شہیدوں کے لواحقین کو یادگارشہداء اور شہداء قبرستان جانے تک کی اجازت نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#MQMMartyrsOurHero
دنیا کے کسی معاشرے، مذہب اورآئین وقانون کے مطابق کسی بھی شہری کوماورائے عدالت قتل کردینے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ سیکوریٹی فورسزکا کسی بھی شہری کوکسی بھی الزام میں گرفتارکرنے کے بعد عدالت میں پیش کرنے کے بجائے قتل کرنے کا عمل ماورائے آئین اور غیرقانونی ہے۔
قتل قتل ہوتا ہے خواہ کوئی سویلین کرے یاکسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کااہلکارکرے،وہ قتل میں شمارہوگا اور قانون کے مطابق قاتل کو سزا دی جانی چاہیے۔
یہ انتہائی افسوسناک اورالمیہ ہےکہ پاکستان میں مہاجروں، اندرون سندھ، صوبہ بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا میں بےشمار شہریوں کوماورائے عدالت قتل کیاگیالیکن ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کو قانون کے مطابق کوئی سزا نہیں دی گئی۔آخر پاکستان میں آئین اورقانون کی بالادستی کیوں نہیں کی جاتی؟
ایم کیوایم کے خلاف کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں 19جون 1992ء کو اعلانیہ فوجی آپریشن شروع کیاگیا جو آج تک جاری ہے،اس آپریشن کے دوران ہمارے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا، ایم کیوایم کوئی مسلح گروہ نہیں جوفوج یا پولیس سے مقابلہ کرے، ایم کیوایم نے انصاف کے حصول کیلئے عدالتوں سےرجوع کیا لیکن ماورائےعدالت قتل کیے گئے شہیدوں کےلواحقین کی نہ تو عدلیہ کی جانب سے فریاد سنی گئی اورنہ ہی انہیں انصاف فراہم کیاگیا۔
اب پاکستان کے عوام بتائیں کہ مظلوم عوام اپنی فریاد لیکر کہاں جائیں؟ ان کے پاس صبر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں ہے۔
ایم کیوایم 9، دسمبرکو”یوم شہداء“ مناتی ہے،شہداء کے لواحقین اور کارکنان یادگارشہداپر جاکر فاتحہ خوانی کرتے تھے اورشہداقبرستان جاکران کی قبروں پر پھول چڑھاتے تھے،فاتحہ پڑھتے تھے،شہیدوں کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کا اہتمام کرتے تھے لیکن 22 اگست 2016ء سے شہیدوں کے لواحقین کوفاتحہ خوانی کے لئے یادگارشہداء اور شہداء قبرستان جانے تک کی اجازت نہیں ہے۔اگر شہداء کے لواحقین کواپنے شہداء کی قبروں پر حاضری دینے اورفاتحہ خوانی کیلئے شہداقبرستان اور یادگارشہداء جانے کی بھی اجازت نہ دی جائے تو یہ ان غمزدہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
آج 9، دسمبر2025ء اوریوم شہداء ہے اور شہداء کے لواحقین کو شہداء قبرستان اوریادگارشہداء جانے سے روکنے کیلئے گزشتہ روز شام سے ہی جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں واقع یادگارشہداء اور شہداء قبرستان یاسین آباد جانے والےتمام راستوں پر پیراملٹری رینجرزاورپولیس کی موبائیلوں کی بڑی تعداد نے گشت شروع کردیااورآج صبح سے ہی عزیزآباد میں یادگارشہدااور یاسین آباد میں شہداء قبرستا ن جانے والے علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے آنے جانے والے شہریوں کی تلاشی لی جارہی ہے،ان کےفون چیک کیے جارہے ہیں اورعلاقے میں خوف وہراس پھیلایاجارہا ہے۔ یہ انتہائی سفاکانہ عمل ہے کہ ملک میں امن پسند شہری اپنے شہداء کی قبروں پر نہیں جاسکتے، قبروں پرپھول نہیں چڑھاسکتے اور فاتحہ خوانی نہیں کرسکتے۔
ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران ہزاروں کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا۔اسی آپریشن کے دوران 5اور6 دسمبر1995ء کی رات رینجرز، پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس سرکاری ایجنسیوں کے اہلکاروں کی بہت بڑی تعداد نے کراچی میں میرے بڑے بھائی77 سالہ ناصر حسین اور28 سالہ بھتیجے عارف حسین کوگھرسے گرفتار کیا اور انہیں حراست میں لیکر میرے ایک ایک بھائی اوربہن کے گھرپر چھاپے مارے اوران کے گھروں کے تالے توڑ کرلوٹ مارکی۔میرے بڑے بھائی ناصر حسین اور بھتیجے عارف حسین کوتین روز تک بہیمانہ تشددکانشانہ بنانے کے بعدکراچی کے علاقے گڈاپ میں لیجاکرگولیاں مارکرشہید کردیاگیاجبکہ میرے بھتیجے کے سر کوکلہاڑی کے وارسے دوٹکڑے کئے گئے۔
میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کو اڈیالہ جیل میں چھ ماہ قید رکھ کروحشیانہ تشددکانشانہ بنایاگیا جس کے بعد وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ میرے بھائی، بھتیجے اوربہنوئی کا ایم کیوایم یاکسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ الطاف حسین کے رشتے دار تھے تو کیارشتہ دار ہونا ان کاجرم تھا؟
1/2
کراچی کے مختلف علاقوں میں بانی وقائد جناب الطاف حسین کیلئے خیرمقدمی بینرز اور وال چاکنگ سے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
ہر شہری کی پکار
#الطاف_حسین_ضروری_ہے
ناظم آباد انڈر پاس میں وال چاکنگ
ممتاز ماہر تعلیم ، ماہر لسانیات اور علم و ادب کی ممتاز شخصیت محترمہ سیدہ عارفہ زہرا آج ہم میں نہیں رہیں لیکن ان کی زبان سے پھوٹتا علم کا چشمہ علم کے پیاسوں کو سیراب کرتا رہے گا۔
فیض احمد فیض کا یہ کلام ان کے حسنِ انتخاب کا مظہر ہے۔
خدا سیدہ عارفہ زہرا کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا
مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا
ممتاز شاعر افتخار عارف کا مشہور و معروف اور حسبِ حال کلام آپ سب کی سماعتوں کی نذر