مدینہ منورہ میں وہ مقدس منظر، جہاں قدم خود بخود جھک جاتے ہیں اور دل ادب و عاجزی سے بھر جاتا ہے۔
قائدِ ملتِ اسلامیہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب، مسجدِ نبوی ﷺ میں روضۂ رسول ﷺ کے بالکل سامنے نہایت عاجزانہ انداز میں بارگاہِ رسالت ﷺ کی طرف بڑھتے ہوئے۔
ایک بات واضح ہے ہماری طرف سے کہ ہم ملک سے وفاداری اور غداری کے لیے حکمران کو معیار تسلیم نہیں کر سکتے۔ تمہاری وجہ سے ملک ٹوٹا ہے، اسی سال اس ملک کے پورے ہو رہے ہیں۔ تمہاری وجہ سے ہم اوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔ اپنے اسی سال کا محاسبہ کیجیے۔ ہر زمانے میں تم تھے، یا تم جیسے اگر فکر تھی تو وہ بھی تمہارا مفاد تھا، تو وہ بھی تمہارا، اور جو آج ہم تنزّل میں گرے ہیں، وہ تمہارے اس اسی سالہ فکر و نظر اور اسی سالہ مفاداتی سیاست کے نتیجے میں ہم پہنچے ہیں یہاں تک۔
اس کو اَنا کا مسئلہ کیوں بناتے ہو؟ یہ ملک کوئی صرف تمہارا ہے؟ یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔
جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔
میں اس سے کیوں ڈروں؟ میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردات تو تبدیل کر لو۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا سکھر میں خطاب
چند روز اور مری جان
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
مولانا فضل الرحمن فیض احمد فیض کی نظم پڑھتے ہوئے۔ @MoulanaOfficial
تازہ ترین
آج اسلام آباد میں
قائد ملت اسلامیہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سے شاھین جمعیت محافظ ختم نبوت حضرت مولانا حافظ حمد اللہ صاحب کی خوشگوار ملاقات ۔۔
45 ھزار روپے والے کی موبائل سم بند کردی جاتی ھے اور دبئی لیکس آئی جس میں جنرلز ،ججز اور بیوروکریسی کی جائیدادیں سامنے آئیں،آپ کو توفیق ھوئی کہ ان کو پکڑتے بلکہ ایف بی آر کو شٹ اپ کال دی گئی کہ اس طرف دیکھنا بھی نہیں۔