کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے سات طالبعلموں میں سے چھ کراچی یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں۔ ان میں ایم فل اسٹوڈنٹ خلیل بلوچ بھی شامل ہیں، جنہیں یونیورسٹی کے احاطے سے رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے جبری حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں سے نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے کوئٹہ اور کراچی جیسے شہروں کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ مالی مشکلات، رہائش کے مسائل اور بے شمار مسائل کے باوجود صرف اس امید پر تعلیم جاری رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔ مگر یہاں انہیں کتابوں اور کلاس رومز کے بجائے کسی کو رات کی تاریکی میں ہاسٹل سے اٹھا لیا جاتا ہے، تو کسی کو دن دہاڑے یونیورسٹی کے احاطے سے غائب کر دیا جاتا ہے۔
محض شک کی بنیاد پر کسی نوجوان کو اٹھا لینا، اسے مہینوں بلکہ برسوں تک غیرقانونی حراست میں رکھنا، اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنانا، اور پھر اگر کبھی بازیاب بھی کر دیا جائے تو یہ انصاف نہیں، بلکہ ایک برباد زندگی کی واپسی ہوتی ہے۔
جبری گمشدگی سے واپس آنے والا نوجوان صرف جسمانی قید سے آزاد ہوتا ہے، مگر اس کا ذہن اور روح عمر بھر اس اذیت کی قید میں رہتے ہیں۔ شدید نفسیاتی صدمہ، خوف اور ٹراما اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ نہ پہلے کی طرح اپنی تعلیم جاری رکھ پاتا ہے اور نہ ہی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ پاتا ہے۔
کاؤنٹر انسرجنسی کے نام پر جب نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کی جاتی ہیں، سوال یہ ہے کہ طاقت کے استعمال پر فخر کرنے والے قانون نافذ کرنے والے ادارے آخر کب یہ سمجھیں گے کہ وہ صرف لوگوں کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ نہیں بنا رہے، بلکہ نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں
تعلیمی اداروں کو طلبہ کے لیے محفوظ مقامات ہونا چاہیے، نہ کہ جبری گمشدگیوں کے مراکز، اگر ان طالبعلموں پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ بصورتِ دیگر انہیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
#ReleaseBalochStudents
آج بارہ دن مکمل ہو چکے ہیں جب کراچی میں میرے رہائش گاہ پر بغیر کسی سرچ وارنٹ کے غیر قانونی چھاپہ مارا گیا
میرے گھر کی تلاشی لی گئی، وہاں موجود افراد کو ہراساں کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا، جبکہ میرے گھر سے کتابیں، دستاویزات اور دیگر قیمتی سامان بھی چوری کرکے اپنے ساتھ لے جایا گیا۔
میں نے اس کارروائی پر سندھ حکومت اور بلاول بھٹو سے جواب طلب کیا، مگر بارہ دن گزر جانے کے باوجود مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ یہ خاموشی محض نظراندازی نہیں بلکہ اس غیر قانونی کارروائی کی سیاسی سرپرستی اور جوابدہی سے فرار کی علامت ہے۔ کراچی پولیس، جو خود اس کارروائی کا حصہ تھی، نہ کوئی وضاحت دے رہی ہے نہ کسی قسم کی تحقیقات کر رہی ہے، اور نہ ہی متاثرہ خاندان کے ساتھ کوئی تعاون کر رہی ہے۔
جون 29 کی رات 1 بجے کراچی میں میرے رہائش گاہ پر، ایک ایسے فلیٹ پر دھاوا بولا گیا جہاں کئی برسوں سے صرف خواتین رہائش پذیر ہیں اور گھر میں کوئی مرد موجود نہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا بے شرمی کے ساتھ زبردستی گھر میں داخل ہونا، لوگوں کو ہراساں کرنا، تشدد کرنا، پورے گھر کی تلاشی لینا، اور کتابیں، دستاویزات اور قیمتی سامان بھی ساتھ لے جانا صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے۔
بار بار گرفتاری کی کوششیں، مسلسل ہراسانی، گھروں پر چھاپے، خاندانوں کو اجتماعی سزا دینا، لوگوں کو ان کی آبادیوں اور کمیونٹیز میں مجرم بنا کر پیش کرنا، اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوششیں کسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ ایک خوفزدہ ریاست کا طرزِ عمل ہیں۔
اگر یہ غنڈے اور بندوق ہاتھ میں تھامے، طاقت کے زور پر ہمارے گھروں کے تالے توڑ کر، زبردستی اندر گھس کر، لوگوں کو خوفزدہ کر کے، اور ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو مجرم بنا کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری آواز خاموش کر دیں گے، تو یہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ طاقت اور بندوق کے زور پر بدمعاشی تو کی جا سکتی ہے، مگر اس سے نہ اپنی بات منوائی جاسکتی ہے اور نہ ہی خاموش کیا جا سکتا ہے، بلکہ ایسے اقدام سے صرف انکی حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ ہماری پُرامن آواز سے اس قدر خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ اسے دبانے کے لیے کسی بھی پست اور غیر قانونی ہتھکنڈے سے گریز نہیں کریں گے۔
اور یہ اقدامات ہماری آواز کو نہیں، بلکہ ان کے جبر، خوف اور ناکامی کو بے نقاب کر رہے ہیں۔
زیارت میں پنجابی فوج کے پالتو طالبان کے حملے میں شہید ھونے والے افراد کے وارثان کا کوئٹہ میں دھرنہ جاری ہے اور سنجاوی سے تعلق رکھنے والے اکبر شیرانی شہید کی لاش اس قدر مسخ کردی گئی تھی کہ اہلخانہ شناخت کرنے کے قابل نہ رہے
یہ جو دھشتگردی ہے
اسکے پیچھے وردی ہے
#StopStateTerrorism
کژہ پنگہ کا علاقہ TTP اورفوج کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں،جبکہ فوج کی جانب سے عام عوام کےگھروں پر کاپٹروں ڈرونز کےذریعے بمباری ہو رہی ہے
بچوں اور عورتوں کی چیخ و پکار سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھروں پرکاپٹروں ڈرونز سے بم گرائےگئے ہیں متعدد افراد کے زخمی ہونے اور جانی نقصان کاخدشہ ہے
حق کیلئے کھڑے اپنی عزت بچانے کئلئے پشتون افغان دولت خان ترین پر بلوچستان میں ایف ائی ار درج کردیا حکومت اس کو پوری طورپر واپس لیا جائے اسطرح کاروائیوں کی ہم مذمت کرتے ہیں پوری قوم دولت ترین کے ساتھ کھڑے ہیں
له تېرو شپږو میاشتو راهیسې زموږ د غورځنګ دوه پیاوړي مشران نورالله ترین او حنیف پشتین، لا هم بې درکه دي. دوی د صوبایي حکومت لخوا رابلل شوې جرګې نه د بېرته راتګ پر مهال ادارو پورته کړل خو تر اوسه نه کوم عدالت ته وړاندې شوي او نه یې هم د حال احوال معلومات شته.
دوی اوس هم په 1/2
75 سالہ سوداگری، امن کے نام پر منافقت، اغیار کی جنگیں روکنے والے اپنوں کے قاتل، پشتون و بلوچ لہو کے عوض ڈالر سمیٹنے والوں کا نیا روپ
منافقت کی عالمی منڈی اور لہو رنگ پشتونخوا آج وہ لوگ جو ڈالر کی چمک اور
1/1
Dear people of AMERICA, we know this war is not your war with IRAN, and we will not forget your support over the past month!
With us, the missiles!
With you, the streets!
Do not doubt that all of us, together, will defeat the stupid, war-mongering Yellow Pig!
GOD BLESS US ALL!
وزیرستان سے معدنیات سے بھرے بھرے ٹرک جارہے ہیں لیکن عوام کے لئے کوئ امن نہی اگر آپس میں ان لوگوں کا کوئ پریشانی آجائے تو کمیشنر کرفیو لگا کر معدنیات نکال دیتے ہے
جہاں وسائل وہاں مسائل یہ بات یاد رکھنا ہوگا ورنہ خود سرچ کرے
Afghanistan claims that Pakistani strikes targeted a hospital in the capital Kabul, reportedly killing hundreds of people. Meanwhile, Pakistan says the operation targeted military sites.
Tensions between the two countries have been rising after a series of cross-border attacks.
ایک ہی سکے کے دو رخ۔
کل اسرائیل ڈیفنس فورس (IDF) نے ایران میں ایک اسپتال کو ائیر اسٹرائیک کرکے تباہ کیا، اور ابھی کچھ دیر قبل پاکستان آرمی نے کابل، افغانستان میں ایک ہزار بستر کے اسپتال کو ائیر اسٹرائیک کرکے تباہ کردیا۔
اسرائیل ڈیفنس فورس ہو یا پاکستان آرمی، ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
#ImranKhanMedicallyHostage
Reports from Afghanistan say that hundreds were killed and injured after the Pakistani army attacked a drug rehabilitation center in the capital, Kabul.