حکومت کی قربانی دے دی۔ نہیں یہ غلط بیانیہ ہے۔
حکومت سے تو اب جانا ہی تھا۔ خان کی پہلی ملاقات پر حکومت سے ہٹنا پڑنا تھا۔ پورے سال کا حساب یاد کرنا پڑے گا۔
حکومت قربان نہیں ہوئی۔ خان کا مینڈیٹ قربان ہوا ہے۔ بغیر لانگ مارچ کئیے۔ بغیر احتجاج کئیے۔ خان کا آخری قلعہ قربان کر دیا گیا ہے۔
یہ حق صرف خان کا تھا۔ کہ وہ اپنی حکومت کیسے قربان کرے۔ یا نہ کرے۔ جن کو آج سمجھ نہیں کوئی بات نہیں کل سمجھ آ جائے گی۔ جس دن خان کا پیغام باہر آیا اس دن سمجھ آ جائے گی۔
تنقید کرنے والوں کی نییت بری نہیں۔ اس لئے ہر تنقید سر آنکھوں پر۔
مغوی،لاپتا،وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نےاسمبلی توڑنےسےانکار کردیاہے2دن کوشش کی گئی کہ استعفی دے دو،پھرکہاگیا کہ اسمبلی توڑنےکی ایڈوائس پردستخط کرولیکن سہیل آفریدی نےانکارکردیا
قومی اسمبلی کا اجلاس3دن اس لیےنہیں بلایاگیا کہ اغواکاروں کو یقین تھا کہ استعفی لےلیں گے
بتیس ہزار فٹ پر مستری اور معشوق اعلٰی
تو پھر نیچے صفدر میاں کیوں ذلیل ہورہے ہیں؟
دو مرد ایک عورت۔۔۔
ویسے اگر ایبٹ آباد والے ڈاکٹر کو بھی ساتھ شامل کرلیں تو تین مرد اور ایک عورت کی کہانی بن جائے گی!
“The elected Chief Minister of a province being rendered a missing person brings me back to the first missing person of this country, our founding father, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah.”
Javed Hashmi
#Pakistan#SohailAfridi#QuaidEAzam@JavedHashmiJH
بریکنگ نیوز 🚨دھماکے دار خبر آگئی 🔥🔥
آفریدی قوم کی اہم سٹیٹمنٹ آگئی، آگ بھڑک اُٹھی۔قبائل کے تمام ڈسٹرکٹ میں جرگہ کرنے کا فیصلہ۔ ایمرجنسی اور گورنر کے خلاف ایک بڑا احتجاج کیا جائے گا۔ بھرپور مزاحمت ہوگی۔
32300 فٹ کی بلندی پر جذبات کے جوبن اور غلبے میں کچھ وعدے کئیے گئے ہیں۔ بلاول زرداری وہاں نہیں تھے لیکن انکے بارے فیصلہ کیا گیا ہے۔ وعدہ لیا گیا۔ وعدہ دیا گیا۔
آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔
کس نے سوچا تھا پچاس برس پہلے مولانا مودودی کا لگایا ہوا یہ ننھا منا سا پودا ،، اوہ سوری پرانی کیسٹ چل گئی ۔
کس نے چار سال پہلے سوچا تھا کہ فوج کے زندوں مردوں کی کوئی عزت نہ بچی ہوگی۔ فوج کی اہلیت اور حب الوطنی کے پردے چاک ہوجائیں گے اور شریف زرداری خاندان کی قابلیت اور جمہوریت پسندی کے۔ ہر گزرتا دن ان کے لیے نئی اذیت نئی ناکامی لائے گا۔ ایک بندوق کی طاقت کب تک بچائے گی؟
تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے لیکن سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو گرفتار کرنا ایک انہونی بات ہے اسمبلی قائم ہے ٹوٹی نہیں اس کو کس لیے گرفتار کیا گیا ہے؟
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سپیکر ہاؤس سے گرفتار، سپیکر ہاؤس میں توڑ پھوڑ کر، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کر کے سپیکر بابر سلیم سواتی کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے جانا کھلی دہشت گردی ہے، یہ عمل صوبائی خودمختاری، پارلیمنٹ اور جمہوریت پر براہ راست حملہ ہے، سپیکر بابر سلیم کے بھتیجے کمال سلیم سواتی کا پیغام
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
🚨 خیبر پختونخوا کی حکومت ختم ہو گئی ہے۔ اب فوج اور آئی ایس آئی “یوم نجات” منائیں گے۔ انتخاب آپ کا ہے: یا تو لانگ مارچ جاری رکھیں اور قانون کی حکمرانی و جمہوریت کے لیے قربانی دیں، یا پھر جو آگے آنے والا ہے اسے قبول کر لیں۔ اگلا قدم سندھ حکومت کو تحلیل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد پورے نظام کو فیل ہوئے قرار دے دیا جائے گا، اور عاصم منیر اگلے 15 سال کے لیے آپ کا نیا بادشاہ ہوگا۔ عملاً پاکستان ایک آمریت بن جائے گا۔
آج یوتھیوں نے دل جیتے ہیں۔ نا کوئی رو رہا ہے۔ نا کوئی افسردہ ہے۔ نا کوئی ہمت ہارنے دل توڑنے والے باتیں کررہا ہے۔ کوئی میلٹ ڈاون نہیں ہے۔ سب کی آنکھیں کھلی اوردشمن کے اندر پیوست ہیں۔ یہی بالکل یہی والا جذبہ چاہیے۔
جمہوریت کے لئیے سیاہ دن۔ مجھے لگتا تھا ہمارے جنرلز اتنی بڑی غلطی نہیں کریں گے۔ وہ شائید تاریخ سے سبق سیکھیں گے۔لیکن انہوں نے ثابت کیا کہ وہ پاکستان توڑنا چاہتے ہیں۔
تحریک انصاف کے لئے ہار نہیں جیت کا دن ہے- غم نہ کریں انشاللہ آپکو جلد احساس ہو جائے گا کہ عوام کہاں کھڑی ہے
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
عمران خان ملک بچانا چاہتا ہے اس لئے سارے ظلم کے باوجود شیخ مجیب کی طرح کا ایک بھی نعرہ نہیں لگایا۔ اور عاصم منیر ہر صورت یحی خان بننا چاہتے ہیں۔
اللہ پاکستان کی خیر کرے۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر ایک دفعہ پاکستان کا قبضہ ہاتھ سے نکل گیا اور آئین و قانون کی حقیقی حکمرانی آ گئی تو پھر دہشتگردی، اسمگلنگ ،کاروبار، سیاست، سارے دھندے بند ہو جائیں گے اور نہ صرف ناجائز مراعات کے بغیر حلال تنخواہوں میں گزارا کرنا پڑے گا بلکہ ہر جرم کا حساب بھی دینا پڑے گا، اسی لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ اس وقت پوری بدمعاشی کے ساتھ ننگی ہو کر پاکستانی عوام پر حملہ آور ہے۔