فوجی عدالتوں کے متعلق پاکستان کا آئین بہت واضح ہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ لندن پلان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے 9 مئی کا فالس فلیگ آپریشن کیا گیا جس میں بدقسمتی سے یہ معصوم شہری پھنس گئے۔ یہ لوگ جن میں ایک 17 سالہ طالب علم اور ایک 75 بوڑھا ریٹائرڈ فوجی افسر شامل ہیں محض اپنے احتجاج کے حق کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی فوجی عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں حالانکہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے۔ شہباز گل
@SHABAZGIL
#ملٹری_ٹرائل_نامنظور
بریکنگ ! جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کو ذاتی حیثیت سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی حمایت کر دی ! چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے ایک شخص جو وکیل ہی نہیں وہ کیا معاونت کریگا ! جسٹس اطہر من اللہ بولے ہم کیسے عمران خان کو عدالت تک رسائی دینے سے انکار کر سکتے ہیں؟