عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبریں موصول ہونے کے بعد بھی ایسے کون سے مستند زرائع ہیں کہ بغیر کسی ملاقات کے بھی آپ یقین کر بیٹھے ہیں؟ عمران خان کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ انہی کی تحویل میں ہیں۔ اس سے قبل عمران خان پر جان لیوا حملہ ہو چکا ہے کئی منصوبے بن چکے آنکھ ضائع ہوچکی۔ عمران خان نے واضح طور پر اپنے ڈاکٹرز تک رسائی کے لیے ہر فورم استعمال کرنے اور آواز اٹھانے کی بات کی تھی۔ خدارا سب مل کر ہر فورم کا استعمال کریں۔بشری بی بی کی بھی آنکھ کا وہی ایشو بنا اور اب دوسری انکھ بھی متاثر ہو رہی ہے کیا یہ سب اتفاق ہے؟
چند ہفتے قبل آپ کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے لیے حالات ایسے بنائے جائیں گے کہ آپ نہ امن کے لیے آواز اٹھا سکیں گے نہ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلا پائیں گے، اس لیے جلدی کیجئے۔ اگست کے آغاز سے متعدد واقعات ان خدشات کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ پارٹی سے گزارش ہے کہ اتحادیوں سے بات کرکے ستمبر کی بجائےاسی مہینے قومی جرگہ بلائے؛ ہمارے پاس وقت کم ہے ہر گزرتا دن مزید جنازوں کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ بھی گزارش ہے کہ امن تحریک کے ساتھیوں، نام نہاد دہشت گردی میں شہید اور زخمیوں،کشمیر کے مظلوموں، بلوچستان کی خواتین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی جرگے میں بلائیں۔ قومی جرگے کو لسانی بنیادوں پر محدود کرنے کے بجائے اس کو پاکستانی قوم کے ہر مظلوم محروم اور پسے ہوئے طبقے کا جرگہ بنا کر اتحاد کا پیغام دیں تاکہ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔
پولیس سے آج پھر گزارش ہے کہ گزشتہ کئی واقعات کی تفصیل قوم کے سامنے رکھیں ورنہ یونہی آپ کے بھی جنازے اٹھتے رہیں گے۔قوم کو اگاہ کرو کہ کیسے انکو لایا گیا،کیسے آپ کو اکیلے چھوڑا گیا، کیوں آپ کے جوان ایسی بے بسی میں شہید ہوئے پورا واقعہ سامنے رکھ دو اس میں آپ کی بھی بہتری ہے اور قوم بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی یہ گارنٹی میں اپ کو دیتا ہوں، آپ اس ڈرٹی گیم کو ایکسپوز کریں۔ پولیس والے شہید ہوئے تو سی ٹی ڈی کو فوج نے یہاں تک کہا کہ آپ فوج سے اپیل کریں کہ پولیس ناکام ہوگئی ہے اور پختونخواہ حکومت آرٹیکل ۲۴۵ کے تحت فوج سے مدد مانگ لے۔ کمال نہیں ہوگیا؟
انشاءاللہ امن پاسون میں اب تیزی آئے گی اور یہ سلسلہ صرف سوات تک محدود نہیں رہے گا ۔دہشت گردی کی نئی لہر کی یہ کوششیں ۲۰۲۲ سے بار بار ہوئیں لیکن ہماری قوم نے اسے خود ناکام بنایا تھا اور حالیہ کوشش کو بھی انشاءاللہ عوامی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔
آخری اور اہم ترین گزارش اس کو عوام تک پہنچانے میں میری مدد کریں میں بار بار اپنے حالیہ پیغامات میں یہ دہرا رہا ہوں لیکن شاید پاکستان کے باقی علاقوں کو اس تباہی کی سمجھ نہیں۔ فوج عوام کو لشکر بنانے کے لیے دباو دے رہی ہے۔ پچھلی مرتبہ آپریشن کے وقت فوج نے اپنی نگرانی میں امن کمیٹیز بنائیں، بہت سارے علاقوں میں امن کمیٹی کے اہم ترین لوگوں نے فوجی چھتری تلے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظلم کیا۔ بہت سارے بے گناہ فوج کی تحویل میں دئیے گئے جن میں متعدد کی اموات ہوگئیں، کسی کا گھر توڑا گیا کسی کو قتل کروایا گیا۔ فوج چلی گئی اور ان لوگوں کی ذاتی دشمنیاں بن گئیں گزشتہ کچھ عرصے سے خصوصاً حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے وہی امن کمیٹی کے لوگ ہیں۔اب سوچیں کہ امن کمیٹیز کے اتنے عرصے بعد بھی دشمنیاں چلی آرہی ہیں تو فوج جب پوری قوم کو بندوق اٹھانے کا کہہ کر لشکر بنانے کا حکم دے رہی ہے تو اس کا کیا اثر ہوگا؟ پھر لشکر بنا کر وہ لڑے بھی کس سے لانے والوں سے یا آنے والوں سے؟ پھر ریاست کی پالیسی تبدیل ہوگی تو ہر شہری جو لشکر کا حصہ بن چکا ہوگا، یہ دشمنی ذاتی نہیں قوموں اور نسلوں تک جائے گی۔ اس لیے میری قوم سے درخواست ہے کہ خدارہ ان کی گیم کو ایکسپوز کریں۔ اس سے پہلے کہ معاملات مکمل طور پر ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں اور ہماری اگلی ایک دہائ بھی انہی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتے گزرے۔
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا ، قیاس آرائیوں اور تبصروں میں ہی عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی جاتی رہی۔ ایک بار پھر عمران خان سے متعلق تشویشناک خبریں ہیں۔ اب سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت سے بھی نہیں پوچھ سکتے کہ تم کیا کرنے والے ہو کیونکہ وہ 27 ستمبر والا کارڈ نکال کر دکھا دیں گے۔
کافی سارے ری پوسٹس اور قوٹ ٹویٹس دیکھے ہیں۔ “ پی ٹی آئی کے لوگ“ تو آپ سے اظہار یکجہتی ہی کررہے ہیں۔ کچھ نادان اور ناسمجھ ضرور ہیں جنہیں اختلاف ہو تو اس کا اظہار کرنا نہیں آتا۔ اگلا بندہ کن حالات میں کیا کررہا ہے سمجھ نہیں آتی۔ ان کو اگنور کریں ، میوٹ کریں ، برداشت کریں۔ آپ جیسے لوگ پہلے ہی کم ہیں۔
سعودی عرب ، پاکستان ، ترکی میں دفاعی معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق ایک ملک پر حملہ تینوں پر تصور ہوگا۔ پوچھنا یہ ہے کہ یہ خودکش حملے ، بی ایل اے کے حملے اور ٹی ٹی پی کے حملے پر بھی لاگو ہوتا ہے؟ مزید سوال یہ ہے کہ اپنے لوگوں کو تحفظ نہ دے پانے والے دوسرے ممالک کو کیسے تحفظ کا لارا لگا رہے ہیں؟
ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا ، بھٹو کو پھانسی دی۔ بینظیر ناتجربہ کار تھی۔ کچھ سیاسی مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ ایک دن خاموشی سے ملک سے باہر چلی گئی۔ فوجی جرنیل کو طویل حکومت کرنے کے لیے ملک میں سکون چاہیے ہوتا ہے۔ اسی طرح مشرف نے نواز شریف کو ڈیل آفر کی ، نواز شریف ملک سے چلا گیا۔ مشرف نے آٹھ سات سال لگا لیے۔ باجوہ نے شریف خاندان کو خاموش رہنے کا کہا تو مریم نواز کا سوشل میڈیا چھ مہینے کے لیے بند رہا۔ باہر جانے کی آفر آئی تو نواز شریف خصوصی جہاز میں دوسری دفعہ ملک سے فرار ہوگیا۔
عاصم منیر اور اس کے ٹولے کی بھی یہی کوشش یا توقع تھی کہ عمران خان ملک سے باہر چلا جائے یا خاموش ہوکر بنی گالہ بیٹھ جائے اور یہ سکون سے حکومت کریں۔ کیونکہ جب تک سیاستدان مزاحمت کررہا ہے ، کم یا زیادہ وہ جرنیل کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔ عمران خان کی کمیونیکشن بند ہے ، پیغامات نہیں آرہے ، اسکے باجود کبھی کم کبھی زیادہ تحریک انصاف مزاحمت کررہی ہے۔ لانگ مارچ ہوئے ، جلسے اور ریلیاں ہوئیں ، نفرت آمیز تقاریر بھی ہوجاتی ہیں ، سوشل میڈیا ویسے ہی آنچ دھیمی نہیں کرتا۔
عاصم منیر کی بدقسمتی کہ کمزور اور بھی ہے اور بزدل بھی۔ خواہش کے باوجود سامنے آکر اقتدار پر قبضہ نہیں کرپارہا۔ کبھی آئینی ترمیم کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے ، کبھی سسٹم کو ناکام ٹھہرا کر اپنے لیے گنجائش کی لابئنگ بنا رہا ہے۔ بدقسمتی در بدقسمتی کہ بلوچستان ، پختونخواہ ، کشمیر میں بھی اسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ عاصم منیر کو سب سے زیادہ خوف بھی تحریک انصاف سے ہے۔ بی ایل اے لاہور میں آکر حکومت نہیں کرنا چاہتی۔ کشمیری سینٹ میں مخصوص نشستیں نہیں مانگ رہی۔ عمران خان وہ پیرالل فورس ہے جس کے اقتدار پر عاصم منیر نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔
عاصم منیر کی شدید خواہش ہے کہ عمران خان باہر جائے یا بنی گالہ خاموش ہوکر بیٹھ جائے کہ تحریک انصاف کے مزاحمتی بیانیے کی کمر ٹوٹ جائے۔ بینظیر دو دفعہ جلاوطن ہوگئی ، نواز شریف دو دفعہ چلا گیا۔ جن چیزوں سے یہ دونوں خوفزدہ ہوکر گئے عمران خان اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ موازنہ ایک جیسوں کا بنتا ہے۔ باچا خان یا کسی صوبائی رہنما و علاقائی رہنما یا کسی پھتے ماجھے گامے کی جیل کا عمران خان کی جیل سے کوئی مقابلہ نہیں۔ فوجی جرنیل کو جو سپیس بینظیر اور نواز شریف نے بار بار دی وہ عمران خان مہیا نہیں کررہا۔ بس اتنا سا فرق ہے۔
2/2
شہدا کے لواحقین سوال پوچھیں کہ آپ کی ہی بچھائی گئی بساط پر مہرے بن کر کب تک عام شہری سے جوانوں تک قربان ہوتے رہیں؟ آپ کی طاقت کی ہوس کی بھینٹ کیوں چڑھیں ہمارے بچے؟ سوال پوچھیں کہ خود ہی دہشت گردوں کو لانے کی پالیسی کیوں بنائی؟ آج کیوں پولیس کو بھی آپ پر اعتماد نہیں رہا؟
جس شہید کے اہل خانہ کو آگے کرکے شہدا کے نام پر اپنی طاقت بڑھانا چاہتے وہ بھی سوال اٹھائیں کہ دہشت گردوں کی ایک ایک تشکیل کی آمد کے وقت ان کے لیے روٹ لگا کر، انتظامیہ کو صرف نظر کرنے کی ہدایات جاری کرکے، اب ان نت نئے ناموں ”فتنتہ الہندوستان”، ”خوارج” وغیرہ سے کس کو بے وقوف بنا رہے ہو؟
پوچھیں کہ امن کا سفید پرچم لہو رنگ کرنے والوں کیا پاکستانی قوم دیکھ نہیں رہی کہ تم کا طرف کھڑے ہو؟
امن کی ہر آواز کو غدار اور شیڈول فور میں ڈال کر تم نے دہشت گردوں کا ساتھ نہیں دیا؟
۲۰۲۳ میں بھی ۸۰ کے دہائی کی دوغلی پالیسی اپنانے والو! تمہاری ہوس کو اور کتنوں کا لہو چاہئے؟
امن کے نام سے تم خوفزدہ ہو کیونکہ امن ہوگا تو سیکورٹی کے نام پر قبضے کا کاروبار جو بند ہوگا۔ خود لا کر خود بسا کر اب قوم کو ہی لشکر بنانے کے لیے دھمکا رہے ہو، محدود لوگوں کی امن کمیٹیز بنا کر جو ظلم کروایا اور ذاتی دشمنیاں بنوائیں وہ کافی نہیں کہ اب قوم کو بندوق اٹھانے کا درس دے رہے ہو؟
کیوں قوم لڑے اور لڑے بھی تو کس سے آنے والوں سے یا لانے والوں سے؟
میرے پاکستانیو!
جس دن سے ہم ایشوز اور ایونٹس پر ریکٹ کرنے کے بجائے اور کسی کے مرنے پر دو جذباتی ٹویٹس، فیس بک، وٹس ایپ سٹیٹسز لگانے کے بجائے ان سانحات کو روکنے کا سامان کرنے لگیں تب شاید یہ لوگ ہمیں انسان سمجھنے لگیں۔ ان کو اتنا خون اتنے عرصے اور خصوصا پچھلے چار سال میں پلایا گیا ہے کہ یہ اب عفریت بن کر آدم بو آدم بو چلاتا مزید خون مانگتا پھر رہا ہے۔ مزید خون کی اس طلب میں اور کس کس کا گھر اجڑے گا؟ اور کتنے مریں گے؟ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ بچا رہے گا اس لیے فیصلہ کیجئے کہ قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا یہ سلسلہ روکنا ہے، یہ پاگل پن روکنا ہے۔
کبل، دیر، وزیرستان، ہنگو میں شہادتیں، بلوچستان میں شہادتیں۔ کسی کو علاقہ چھوڑنے کا حکم، تو کہیں فصل تیاری سے قبل کاٹنے کا حکم!!!
جو ڈرون،لڑاکہ طیاروں، دھماکوں، میڈ اپ دہشت گردی کی پہنچ سے دور ہیں ان کے لیے ریاست ہر پر امن اجتماع کو نشانہ باندھ کر مقتل گاہ بنانے کے لیے تیارہے۔
میرے پاکستانیو!
روزانہ بنیادوں پر آئی ایس آئی پی آر کی پریس ریلیزز آ رہی ہیں کہ فلاں جگہ ”کامیاب“ آپریشن کیا، پریس کانفرنسز میں ڈھائی دہشت گردوں کے مدمقابل ایک شہادت کو کارکردگی بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ روز ہماری پولیس کے جوانوں اور شہریوں کی شہادتوں کی خبریں چلتی ہیں اور یوں سیکورٹی سٹیٹ کے نام پر جرنیلوں کی طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے۔ ہم ایشوز اور ایونٹس پر ریکٹ کرنی والی قوم، ہم واقعات کو حادثات اور پھر سانحات کے بدلنے کے انتظار میں بیٹھی قوم بس اسی دن اسی ایشو پر ریکشن مانگتے ہیں پھر ایک اور سانحہ ایک اور جنازہ ایک اور آپریشن ایک اور بم دھماکہ، ایک اور ڈی چوک، ایک اور مرید کے، ایک اور راولا کوٹ۔ اور اگر کوئی ایک واقعے، ایک پالیسی کی نشاندہی کرے، دہرائے، بارہا بتائے، تاریخ کا سبق یاد دلائے تو جرنیل تو غدار قرار دیتے ہی ہیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جن کو روز نیا مواد چاہیے وہ کہتے ہیں پرانا چھوڑو اب بتاؤ۔
ڈرون پر ٹویٹ کرو، شہید پر بات کرو۔
بیماری کی جڑ پر کیوں بات نہ کروں؟
اصل وجہ پر کیوں بات نہ کروں؟
میں اگر کہوں کہ دو دفعہ تو قوم کے ساتھ مل کر ان کو نکالا یہی جرنیلی اکاونٹس کہیں گے کہ وہ چھوڑو جو آج حالات خراب ہیں اس کا بتاو، اُس کا کیا؟
کیا ہماری اجتماعی یاداشت اتنی کمزور ہے یا تیز تر خبروں کی دوڑ میں ہم کل کی بات بھی بھولتے جا رہے ہیں؟
چند عسکری ٹاوٹس کے ذریعے اتنا کہا جاتا ہے کہ لمبی بات نہیں، پرانی بات نہیں ابھی کا بتاو، ہمارے نادان دوست بھی اسے بیانیے کا نشانہ بن کر ایشوز پر ریکٹ کرنے تک محدود ہوگئے ہیں اور اسی بیانیے کی آڑ لے کر جرنیل اپنی ڈالری جنگ کی خواہش اور میڈ اپ دہشت گردی سے لے کر نہتے لوگوں پر گولی چلانے تک کے سوال سے بچ نکلتے ہیں۔
میرے پیارے پاکستانیو!
یہ لاشوں کی گنتی آپریشن کے اعداد و شمار اور ہر جنازے پر کندھا دینے والوں کے سوال کے بجائے ان کی ہر پریس ریلیز اور ہر ٹی وی ٹِکر پر سوال اٹھائیں کہ کیوں ہماری زندگیوں کا سودا کرنے کی پالیسی بنائ؟
دہشت گردی آئی نہیں لائی گئی۔
دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے اور لا کر بسائے گئے۔
یہ دعوی نہیں گزشتہ چار ساڑھے چار سال کا میرا ہر بیان، ہر ٹویٹ اور بتائی گئی تفصیلات سے واضح ہے۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے یہ آگ جو آج گھر گھر تک آ گئی ہے اسی کی نشاندہی میں کر رہا تھا۔ پاکستان کے ہر چوک، چوراہے میں چیخ چیخ کر بتاتا رہا کہ لگے گی آگ تو آئینگے گھر سبھی زد میں۔ آپ کو بتایا کہ اپنی زندگی داو پر لگا کر مالاکنڈ کا امن اپنی قوم کے ساتھ بحال تو کر لیا لیکن یہ جرنیل فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ پھر وار کریں گے۔ مئی/جون ۲۰۲۲ میں پی ڈی ایم کی حکومت بنتے ہی اس کا ساماں کرلیا گیا تھا۔ دوبارہ پھر ان کو لایا گیا۔ سوال پوچھا کہ نکالنے کے بعد کیا آپ بارڈر محفوظ نہیں کر سکتے تھے؟بارڈر پر لگی باڑ کے باوجود پھر کیسے آئے؟ لیکن خاموشی سے اسی پالیسی کا تسلسل جاری رہا۔ میں ہی غدار۔ میں ریاست کا مجرم۔ میرے پوسٹر لگا کر اس پر غداری کا نعرہ چسپاں کروایا۔ مقدمے ایسے کہ سزا موت۔ سر کی قیمت الگ۔ ایک مرتبہ پھر انہیں اپنے لائے ہوں کو واپس بھیجنے پر مجبور کیا تو وہ ریاست جو دہشت گردوں کی موجودگی سے ہی انکاری تھی ان کو واپس لوٹا کر، ان کے جانے پر پریس ریلیز جاری کرکے کریڈیٹ لینے لگی کہ بس تھوڑے سے تھے، بروقت کاروائی سے نکال دیے حالانکہ حقیقت میں جب قوم اٹھ کھڑی ہوئ اور پولیس نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرلیا تو ان کا فقط اتنا کردار تھا کہ گاڑیاں لا کر انہیں سیف ایگزیکٹ مہیا کیا۔
پھر جب نو مئی کا بہانہ کرکے پی ٹی آئی اور ہم سب کو کرش کیا جا رہا تھا اس وقت جنوبی اضلاع میں انہیں دوبارہ داخلہ مہیا کیا گیا اور یوں ہر سمت آگ پھیلائ گئی۔ ڈرون، لڑاکا طیارے، ٹارگٹ کلنگ، دھماکے۔۔ کب تک بند کمروں کے فیصلوں سے عام شہری سے لے کر فوج اور پولیس کے جوان تک شہید ہوتے رہیں گے؟ ہاں وطن پر جان نچھاور کرنے کا عزم کیا ہے مگر تم پہ مرنے کے لیے تو نہیں جنے گئے تھے یہ بیٹے۔
1/2
اٹھا لیا گیا تو کئی ہفتوں یا مہینوں تک کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ نا تو وکیل سے رابطہ کروایا گیا اور نا ہی اہلخانہ سے ۔ اس دوران سختیوں اور پابندیوں کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کافی وقت کے بعد پہلی مرتبہ گھر فون کرنے کی اجازت ملی۔ بتایا گیا کہ دو تین منٹ کی اس فون کال کے دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کرنی۔ مہینوں بعد ہیلو کی آواز نے زار و قطار رلا دیا۔
“ جنید بول رہا ہوں آپ ٹھیک ہیں ؟ میں بھی ٹھیک ہوں “
تیسرا سوال آپ کی جان نکال دے گا۔
“ عمران خان رہا ہوگیا ہے ؟”
سیاسی گفتگو نہ کرنے کی پابندی تھی۔ خلاف ورزی پر آپریٹر نے کال منقطع کردی۔ جنید جہانگیر کی زبان میں لکنت ہے اللہ نے وہ کسر دماغ میں پوری کردی ۔ دو تین دفعہ اس سے ملاقات ہوئی تھی ۔قدیمی ٹوئٹر والے سبھی لوگ اسے جانتے ہیں۔ پرانے دور کا سلیبرٹی۔ سلمان رضا فرنٹ سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک نہیں رہا لیکن انتظامی امور میں ٹیم ورک میں سلمان رضا نے تحریک انصاف کے لیے بہت کام کیا۔
کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بہت لوگوں سے پوچھا۔ ان کیساتھ مسئلہ کیا ہوا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف آفیشلز نے اپنی گردن چھڑانے کے لیے ان کا نام دیا اور یہ امارات میں دھر لیے گئے۔ کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ انکی کچھ پوسٹس اماراتی حکومت کے راڈار میں آئیں جو ان کے لیے یہ مسئلہ بن گیا۔ جتنے منہ اتنی کہانیاں ۔ کچھ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف انکے لیے کچھ نہیں کررہی۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کافی سفارت کاروں ، سابق وفاقی وزراء اور بیک ڈور چینلز کی مدد سے انکی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ سے انکار ہوا۔
سلمان رضا بال بچے دار ہے۔ انکی اہلیہ کی پوسٹس دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ جنید کے خاندان والے بھی روتے پیٹتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں معلوم ہوا کہ ان کو مختلف طرح کے طبی مسائل ہے۔ بغیر بے ہوش کیے سلمان رضا کی ایک سرجری بھی کی گئی۔ ان کی صحت بھی دن بدن گررہی ہے۔
اب شاید دو تین سال ہوچکے۔ کتنی ہی عیدیں ان دو خاندانوں کی سسکیوں میں گزری ہوں گی۔ بوڑھے ماں باپ دن میں کتنی ہی مرتبہ روتے ہوں گے۔ ان بوڑھے والدین کی بہنوں اور اہلیہ کی بچوں کی سسکیاں اور بددعائیں عرش ہلائیں گی ، ہم یہ سب بے غیرتیاں کرنے والوں کے لیے زمین ہلاتے رہیں گے۔ ایک دن جنید گھر فون کرے گا اور پوچھے گا “ اس کا کیا بنا” اسے بتائیں گے “ وہ آگیا ہے “ ہم سوشل میڈیا کی طاقت سے عمران خان سے جو پہلا کام لیں گے وہ جنید اور سلمان کی رہائی کا لیں گے۔
ڈی جی آئ ایس پی آر صاحب!
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میں نے سوال آپ پر اٹھایا ہو اور جواب مجھے دوسری جانب سے ملا ہو۔ اپریل ۲۰۲۳ میں بھی یونہی آپ پر سوال اٹھانے کا جواب مجھے میرے گاؤں میرے لوگوں کو لہولہان کرکے ملا تھا اور آج پھر کبل سوات میں ہونے والے امن پاسون پر حملے اور امن کا سفید جھنڈا لی کر نکلنے والے ہمارے معصوم شہریوں کو لہولہان کیا گیا ہے۔
امن پاسون کا اعلان ہوتے ہی امن تحریک کے پرانے ساتھی اور اولسی پاسون کے خلاف جو کریک ڈاون ہوا اس سے واضح تھا کہ امن کے نام سے کس کو نفرت ہے۔ آج کے امن پاسون کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی تو دھماکہ کروایا گیا۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جو قوم میڈ اپ دہشت گردی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنا امن قائم کر چکی ہے اس دفعہ ان کے اجتماعات پر دھماکے اور فائرنگ سے خوف پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔
کئی دفعہ مالاکنڈ سے ریاست کی چھتری تلے دہشت گردوں کو بسانے کی کوشش کو ہم نے ناکام بنایا۔ پچھلے سال سے پھر کوشش جاری تھی اور کچھ عرصہ قبل میں نے پوری تفصیل بیان کی کہ بیس دہشت گردوں کی سوات، پندرہ شانگلہ، دس بونیر اور اس طرح دیر تشکیل ہوگئی ہے۔ سات مہینے پہلے پختونخواہ حکومت کو بھی آگاہ کیا۔ کتاب میں ان کو باجوڑ سے روٹ لگا کر لے جانے اور پھیلانے کی پوری تفصیل لکھ دی۔ سوات میں پرسوں جو خیبر پختونخواہ پولیس کے جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس واقعے کی تفصیلات اتنی خطرناک ہیں کہ متعلقہ لوگ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں کہ ”گیم بڑی لگ رہی ہے کچھ کہیں گے تو مارے جائینگے“۔ مارے جانے کا ساماں تو ریاست کر چکی ہے بس فیصلہ یہ کرنا ہے آپ نے کہ پھر سے بے گھر ہونا ہے، ایک ایک کر کے نشانہ بننا ہے یا اسی طرح ان کو نکال باہر کرنا ہے جس طرح ہم پہلے کئی بار کر چکے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس نے کھل کر اس ڈبل گیم پر اعتراض اٹھایا سوات اور مالاکنڈ پولیس سے گزارش ہے کہ پردہ پوشی چھوڑیں، دیکھ لیجئے آج پھر آپ نشانہ بن گئے۔کھل کر پچھلی دفعہ ڈی ایس پی کو گولی لگنے اور پھر مٹہ کے پہاڑوں میں پولیس کے اغوا کی کہانی قوم کے سامنے رکھیں۔ ۲۰۲۳ میں کبل سی ٹی ڈی پولیس لائن پر ہونے والے حملے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں جس کو شارت سرکٹ کہہ کر دبایا جارہا تھا۔ پرسوں جو شہادت ہوئی جس کا ذکر آپ نے بند کمرے میں کیا قوم کے سامنے وہ حقیقت رکھیں ورنہ یونہی فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اداروں کے کہنے پر امن کی آوازوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ روکیں کیونکہ ان کی پالیسی تو بدل جائے گی بے گھر ہم نے ہونا ہے۔ قیمت ہم نے مل کر ادا کرنی ہے۔ سوال پوچھیں کہ آخر یہ چھپن چھپائی یہ لانا، بسانا، جنازے اٹھانا اس سے کونسا ملک کا مقصد حاصل ہو رہا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں۔ جھوٹ بولنے اور ہمارے جنازوں کے اعداد و شمار دکھانے کی بجائے ایک دفعہ سچ پر مبنی بریفنگ دے کر اپنی پالیسی بدلیں۔ اور کان کھول کر سن لیں کہ آج کا یہ ترقی یافتہ مالاکنڈ ریجن یہ سیاحت ترقی اور امن کا گہواہ مالاکنڈ ہم نے ۲۰۱۳ کے بعد سے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور کسی کو اس کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے چاہے وہ آنے والے ہوں یا لانے والے!
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
We have absolutely no reliable information on Imran Khan’s health. Imran Khan have never had any blood pressure issues. His normal blood pressure has always been on the lower side since he does regular exercise for several hours a day. So this disinformation being spread on Imran Khan has all the markings of the agency disinformation cell. Are they trying to set the stage for something more serious to happen to him? All those claiming credible sources are effecting their own credibility!
اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں شہباز شریف سے زیادہ نکما شاید اس دنیا میں کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس ملک میں عدلیہ تک ختم کر دی تاکہ شہباز شریف کو کوئی چیلنج نہ آئے۔ عمران خان کو جیل میں ڈالا، پی ٹی آئی کی قیادت کو جیل میں ڈالا، بیرونِ ملک لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات بنائے، مگر پھر بھی اس نکمے شہباز شریف سے کچھ نہ ہو پایا۔ پانچ سال میں کچھ ڈلیور نہیں کر سکا۔ اس لیے اب اسے لپیٹنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ کے بعد عرض ہے
فوج کے ایس آئی ایف سی میں سرمایہ کاری کے دعوے ناکام
فوج کے گرین انیشیٹو جیسے منصوبے ناکام
فوج عوامی رائے عامہ بدلنے میں ناکام
فوج سارا الیکشن مینج کرنے کے باوجود الیکشن جیتنے میں ناکام
فوج ملک میں امن و امان بحال کرنے میں ناکام
فوج معیشت کو بہتر کرنے میں ناکام
فوج چوروں کے ٹولے کی ساکھ بہتر کرنے میں ناکام
فوج نے سی پیک کو عملا بند کردیا ہے
فوج خاموش ہے بھارت نے سندھ طاس معطل کررکھا ہے
فوج خاموش ہے بھارت تیزی سے ڈیمز بنا رہا ہے
فوج نے افغانستان اور سنٹرل ایشیا سے تجارت بند کررکھی ہے
فوج کی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت جمود کا شکار ہے
فوج کی پالیسیوں کی وجہ سے ایکسپورٹس لگاتار گر رہی ہیں
فوج کی پالیسیوں کی وجہ سے انٹرسٹ ریٹ بڑھ رہا ہے
فوج نے امارات سے تعلقات تباہ کردیے ہیں
فوج ایران کے خلاف پارٹی بن گیا ہے
فوج ڈالرز کے عوض سعودی عرب کو کرائے پر چڑھا دی گئی
صورتحال
عاصم منیر یا کسی بھی فوجی آمر کی اصل منزل اقتدار اپنے ہاتھ میں کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ زیادہ دیر کٹھ پتلیوں کے پیچھے نہیں چھپ سکتے۔ لہذا اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ عاصم منیر صدر مملکت یا چیف ایکزیکٹو یا کوئی بھی نیا عہدہ تخلیق کرکے اس ملک کا اعلانیہ سربراہ بننا چاہتا ہے۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔ ایوب خان ، ضیاء ، مشرف نے جب براہ راست اقتدار سنبھالا تو انہیں عوامی حمایت بھی مل گئی۔ یہ اگر پاپولر نہیں تھے تو پہلے دن اکثریت کو ان سے نفرت بھی نہیں تھی۔ عاصم منیر کے ساڑھے تین سالہ اقتدار نے اسے غیر مقبول بلکہ نفرت کا نشان بنا دیا ہے۔ عاصم منیر نے ڈنڈے کے زور پر ہی اقتدار چھیننا ہے اور ڈنڈے کی ناکامی کا اعتراف فوج خود کررہی ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ فوج جن کٹھ پتلیوں کے پیچھے چھپتی ہے یہ پردہ ہٹنے سے فوج براہ راست تنقید کی زد میں آئے گی۔ موجودہ صورتحال میں اس کا بوجھ بھی بہت زیادہ ہے۔ فوج اس بوجھ کو اٹھانے سے گھبرا رہی ہے۔
اگلا مسئلہ ہے ٹھنڈی ہواؤں کا۔ یہاں تو بغیر کچھ ہلے ٹھنڈی ہوائیں چلانے والوں کی کوئی کمی نہیں اب تو انہیں مواد ہی بہت میسر آگیا ہے۔ لہذا کوئٹہ سے چلنے والی ٹھنڈی ہوائیں اگلے کچھ روز کراچی کا موسم سرد رکھیں گی۔ اکثریت کی آنکھیں کھل چکیں۔ ایک جانور کی اولاد کی دیر سے کھلتی ہیں۔ لہذا کچھ لوگوں کے جیکٹیں پہننے کا امکان بہرحال موجود ہے۔ کچھ تبصرہ پاڑ پچھلے کئی مہینوں سے ستمبر میں سب ٹھیک ہونے کی ہوائیں چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی رہائی فوجی اقتدار کی شکست ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ عمران خان رہا ہو ، اقتدار میں آئے اور فوج کا موجودہ سیٹ اپ بھی چلتا رہے۔ فوج نے جہاں ناکامیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے وہیں پھدو دماغوں نے انتظامی یونٹس والی پریزنٹیشن کو ٹاکی مار لی ہے۔ یعنی فوج کا اقتدار چھوڑنے یا پسپا ہونے کا فی الوقت کوئی ارادہ نہیں۔
اگلا پوائنٹ ہے بیچارہ شریف و زرداری خاندان۔ یہ نا مزاحمت کرسکتے ہیں نا ہی فوج کو آنکھیں دکھا سکتے ہیں۔ رات کو الیکشن کمیشن یاسمین راشد ، افضال عظیم پاہٹ یا مہر شرافت کی سیٹ پر ری کاونٹنگ کا ایک نوٹیفکیشن نکالے تو صبح ہونے تک شریف خاندان یا جدے ہوگا یا پھر پنڈی میں سجدہ ریز ہوگا۔ یہ عمران خان یا تحریک انصاف نہیں۔ یہ مشکل سے بھاگنے اور اقتدار چوسنے والے لوگ ہیں۔ لہذا فوج انہیں جو کہے گی یہ کریں گے۔ شریف و زرداری نے فوج کا تھوکا ہوا اقتدار چاٹ لیا انہیں فوج کا ہگا ہوا کھانے میں بھی کوئی کراہت نہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سبھی اسمبلیوں کے اراکین کو فارم سینتالیس پنڈی سے جاری ہوا ہے رائیونڈ یا نوڈیرو سے نہیں۔ لہذا آنکھ کے اشارے کی دیر ہے کہ ان سب کا سب کچھ ان پر پلٹ دیا جائے گا۔ بلاول مسکین نے دن کی بڑھک کی شام کو صفائی دے ڈالی اور یہی ان کی کل اوقات ہے۔ تو واقعہ یہ ہے کہ ان مسکینوں کی جانب سے فوج کو کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں آنے والی۔
حاصل بحث یہ ہے کہ عاصم منیر کے اندر صدر مملکت بننے کی خواہش موجود ہے۔ شریف و زرداری خاندان انکے کسی منصوبے کے سامنے ہرگز رکاوٹ نہیں بنے گا اور جو بھی ہڈی پھینکی جائے گی اس پر صبر شکر کرے گا۔ عمران خان کو اس کشمکش کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جب تک فوج عوامی ردعمل سے خوفزدہ نہیں ہوگی نا ہی عمران خان رہا ہوگا اور نا ہی فوج سیاسی کردار سے پسپا ہوگی۔