اس لڑکی کے ہاتھ اور آواز کانپ رہی ھے لیکن پھر بھی وہ اپنے بھائی کے لئے میدان میں کھڑی ھے۔
اس لیے کہتے جہاں بات بھائیوں کی آ جائے وہاں بہنوں میں ہمت آ ہی جاتی ھے۔
"ارتھ ائیر ٹنل سسٹم"
فار ہیٹنگ/کولنگ
شدید ترین گرمی اور سردی کا
دنیا کا سب سے سستا حل۔
حکومت کے کام یہ ہیں کہ
وہ انقلابی فیصلے کرے۔
فوری طور پر "بلڈنگ کوڈز"تبدیل کرے۔
انسولیشن یا اس طرح کے
"ارتھ ائیر ٹنل سسٹمز" اور ہر گھر میں شجرکاری کو لازمی قرار دے۔
تاکہ توانائی کی 75% سے زائد بچت ہو۔۔
حکومت کے یہ کام نہیں کہ
صرف پٹرول پر ٹیکس بڑھا بڑھا کر عوام کو نچوڑے۔اور حکومت چلائیں۔
اس طرح تو کوئی بھی جاہل حکومت چلا سکتا ہے۔
(اسد آر چوہدری)
کیا آپ کو معلوم ہے کہ فیکٹری ری سیٹ کے بعد بھی آپ کا ذاتی ڈیٹا دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے؟ دیکھیں، چند آسان اقدامات کے ذریعے آپ اپنی پرائیویسی کا تحفظ کیسے یقینی بنا سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے عوام کے لئے ویڈیو
اگر آپ میڈیسن کھائے بغیر صرف تین دن میں کمر درد، بلڈ پریشر، شوگر، سینے کا درد، معدے کا مسئلہ اور سانس کی تکلیف دور کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر کی ان ہدایات پر عمل کریں۔
اچھی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے
ایک عرب شخص سے پوچھا گیا:
"آپ کو بیٹیاں زیادہ پسند ہیں یا بیٹے؟"
اس نے فوراً جواب دیا:
"بیٹیاں!"
پوچھا گیا: "کیوں؟"
وہ مسکرا کر بولا…
میں ایک ایسا انسان ہوں جسے کھانا بہت پسند ہے…
جب میں بچہ تھا، میری ماں اپنے ہاتھوں سے مجھے کھانا کھلاتی تھی…
پھر میں بڑا ہوا…
تو میری بیوی محبت سے لذیذ کھانے پیش کرنے لگی…
پھر میری بیٹی پیدا ہوئی…
جب بھی مجھے کوئی لقمہ پسند آتا
وہ خود اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دیتی…
پھر میرا بیٹا پیدا ہوا…
خدا کی قسم!
جب بھی کوئی لقمہ مجھے پسند آتا
وہ فوراً اٹھا کر خود کھا لیتا تھا…
پھر اس نے کہا:
"اسی لیے مجھے بیٹیاں زیادہ پسند ہیں…"
حقیقت یہ ہے:
بیٹی اپنے حصے کی خوشی بھی باپ پر قربان کر دیتی ہے…
جبکہ بیٹا اکثر اپنے حصے سے آگے نہیں سوچتا…
بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں…
جو باپ کے دل کو نرم اور گھر کو جنت بنا دیتی ہیں…
اگر آپ کے گھر بیٹی ہے
تو سمجھ لیں اللہ نے آپ پر خاص کرم کیا ہے…
میرے نبی کی حدیث ہے کہ
مسواک استعمال کرو
جو ممی ڈیڈی ماحول پیزا برگر کھانے والے ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں یہ ویڈیو ان کے لیے ہے میرا خیال یہ ویڈیو دیکھ کے اب اپ ٹوٹھ پیسٹ نہیں
مسواک استعمال کریں گے
مشتاق احمد یوسفی صاحب لکھتے ہیں:- میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا تھا کہ اطلاع ملی: کوئی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا: بھجوا دیجیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور شلوار قمیض پہنے، گریبان کے بٹن کھولے، گلے میں ٹیلکم پاؤڈر لگائے ایک صاحب اندر داخل ہوئے۔
ہاتھوں میں مختلف قسم کی مُندریاں اور کانوں میں رِنگ پہنے ہوئے وہ نیم کالے صاحب اندر آئے، سلام کیا اور سامنے بیٹھ گئے۔ ان کا ڈیل ڈول اچھا تھا، اس لیے میں نے خود کو قابو میں رکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔ اُس نے محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا، پھر ٹیبل پر جھک کر بولا ’’میں بھی ایک مراثی ہوں‘‘۔ میں بوکھلا گیا، کیا مطلب؟
وہ تھوڑا قریب ہوئے اور بولے ’’مولا خوش رکھے، میں کافی دنوں سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا۔ سنا ہے آپ بھی میری طرح... میرا مطلب ہے آپ بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں؟‘‘ میں نے جلدی سے کہا، ہاں لیکن میں مراثی نہیں ہوں۔ وہ اطمینان سے بولا ’’اچھی بات ہے، میں نے بھی کبھی کسی کو اپنی حقیقت نہیں بتائی‘‘۔میرا خون کھول اٹھا۔ میں نے کہا عجیب آدمی ہو تم، تمہیں لگتا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ یہ دیکھو میرا شناختی کارڈ، ہم یوسفزئی ہیں۔ وہ کارڈ دیکھتے ہی چہکا ’’مولا خوش رکھے، وہی بات نکلی نا‘‘۔ میرا دل چاہا کہ اس کی گردن دبوچ لوں مگر وہ ڈیل ڈول میں میرے قابو آنے والا نہ تھا۔ وہ بولا مجھے نوکری چاہیے۔میں پہلے چونکا پھر غصے سے بولا یہ کوئی کمرشل تھیٹر کا دفتر نہیں ہے، تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہاں مراثی بھرتی کیے جاتے ہیں؟ وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا پھر بولا ’’یہاں نہ سہی، کسی دوسرے دفتر میں ہی کام دلوا دیں‘‘۔ میں سخت جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں مسکرا اٹھامیں نے آفس بوائے سے اُس کے لیے چائے منگوائی اور خود اس کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن اتر آئی۔ میں نے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا سنو، تمہیں اچھی نوکری مل سکتی ہے اگر تم مجھے ہنسا کے دکھا دو۔ وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگا۔ میں نے ہلا کر کہا بتاؤ، چیلنج قبول ہے؟اس نے کچھ دیر مندری گھمائی اور نفی میں سر ہلا دیا۔ میں حیران رہ گیا کہ مراثی ہونے کے باوجود ہار مان رہا ہے۔ میں نے وجہ پوچھی تو بولا ’’میں نے لوگوں کو ہنسانا چھوڑ دیا ہے‘‘۔ میں اچھل پڑا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے لمبا سانس لیا اور بولا ’’لوگ اب ہنسنا چھوڑ چکے ہیں‘‘۔میں نے قہقہہ لگایا اور کہا یہ تمہاری غلط فہمی ہے، دنیا آج بھی ہنستی ہے، مزاحیہ تحریریں پڑھتی ہے، ڈرامے دیکھتی ہے۔ وہ بولا ’’دنیا ہنستی نہیں، دوسروں کی ذلت پر خوش ہوتی ہے‘‘۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ اس نے جیب سے سگریٹ نکالی، اجازت لی، اور ایش ٹرے سامنے رکھ دی گئیاس نے سگریٹ سلگا کر کش لیا اور بولا ’’آپ کا منہ فلسطین کے لومڑ جیسا ہے‘‘۔ مجھے کرنٹ سا لگا، میں کرسی سے پھسل گیا، چہرہ سرخ ہو گیا۔ وہ بولا ’’آپ کا ایک دوست شہزاد ہے نا؟‘‘ میں نے کہا ہاں۔ وہ بولا ’’اس کی شکل بینکاک کے جمعدار جیسی ہے‘‘۔ یہ سن کر میں ہنس پڑا۔میں ہنستا رہا پھر کہا شرم کرو وہ میرا دوست ہے۔ اس نے سنجیدگی سے کہا ’’ایسی ہنسی آپ کو اپنے اوپر لگنے والی جگت پر کیوں نہیں آئی؟‘‘ میں چونک گیا، بات سمجھ آ گئی۔ ہمارے معاشرے میں وہی چیز ہنسی کا باعث بنتی ہے جس میں کسی کی ذلت ہو، اور ہم دوسروں کی تکلیف پر خوش ہوتے ہیں۔کوئی گر جائے، گاڑی خراب ہو جائے، کتا پیچھے پڑ جائے یا بس نکل جائے تو ہم ہنستے ہیں، مگر یہی ہمارے ساتھ ہو تو ہمیں غصہ آتا ہے۔ گویا ہنسنے کے لیے کسی کا ذلیل ہونا ضروری ہو گیا ہے۔ یہی رویہ زندگی کے ہر پہلو میں آ گیا ہے، ہمیں اپنے سکھ سے زیادہ دوسروں کے دکھ سکون دیتے ہیں۔کیا ہم واقعی ایک اذیت پسند قوم بن چکے ہیں؟ یہی سوال اس واقعے کے بعد ذہن میں گونجتا رہتا ہے، کہ ہماری ہنسی کا معیار کیا ہے اور ہم کس چیز پر خوش ہوتے ہیں۔
مشتاق احمد یوسفی صاحب کہتے ہیں کہ ۔۔۔ !
زمانہ طالبعلمی میں ایک مرتبہ اردو کے پیپر میں لفظ ” شدہ “ سے چار لاحقے لکھنے کو کہا گیا ۔
میں نے جواب میں لکھا
” شادی شدہ ، گم شدہ ، ختم شدہ ، تباہ شدہ “
اگلے روز استادِ محترم نے پیپرز چیک کر کے واپس دئیے تو مجھے لاحقوں والے سوال میں چار میں سے آٹھ نمبر ملے تھے ۔
میں نے استاد محترم سے فالتو نمبروں کے متعلق پوچھا تو مسکرا کر کہنے لگے ،
" پتر ۔۔۔ چار نمبر صحیح جواب کے ہیں اور چار صحیح ترتیب کے ۔۔۔“ 😅😂🫡
Don’t tell Pfizer
🚨 Stage 4 Cancer... GONE in 3 Months — Naturally!
A 73-year-old woman was told there was no cure. Stage 4. “Nothing we can do,” doctors said.
👉 But just 90 days later… her scans showed NO disease detected.
What changed?
Her son went down the research rabbit hole on X and found my posts on IP6 (Inositol Hexaphosphate), juicing, Mesima mushrooms, and Ivermectin.
Here’s what she did ⬇️
• 🥄 IP6: 2 scoops, twice a day on an empty stomach
• 🥕 24 oz carrot juice daily (+ some other juices)
• 🍄 A bit of Mesima mushroom & Olive leaf
• 💉 3 immunotherapy sessions (docs said it wouldn’t cure her)
• 💊 Ivermectin: added as support — we’re seeing more and more remarkable responses when it’s included 👏
⚡ No chemo. No radiation. No Fenben.
And guess what? The cancer disappeared.
This isn’t a one-off story. I’ve been receiving multiple reports of stunning cancer reversals using these exact protocols — especially IP6, juicing, and Ivermectin.
There are also published studies and case reports showing the same thing:
👉 These natural compounds have powerful anticancer effects.
People deserve to know this.
(But shhh… don’t tell Pfizer, or they might “regulate” them 😉)
Share, like, and follow my page. There is a need for every patient to know about this.
🚨معمولی لڑائی جھگڑے کے دوران ایک شخص سے قتل ہو گیا،معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا اور مقتول کے ورثا کو قصاص کا پورا حق حاصل تھا۔
🚨ایسے نازک لمحے میں قاتل کی کم سن بچیاں قرآنِ مجید اٹھائے مدعی کے گھر پہنچیں اور اپنے والد کی جان بخشنے کی اپیل کی۔
🚨مدعی خاندان نے قرآنِ کریم کو نہایت ادب و احترام سے تھاما، اس کی حرمت کو مقدم رکھا اور اسی واسطے پر قتل معاف کر دیا۔
🚨نہ کوئی مالی مطالبہ کیا گیا اور نہ کسی قسم کی شرط رکھی گئی۔
🚨بلکہ ان بچیوں کے سروں پر چادریں ڈالیں،
🚨انہیں تسلی دی اور اپنی طرف سے نقد رقم بھی عطا کی۔
🚨یہ واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔
🚨جب دلوں میں خوفِ خدا اور قرآن کی عظمت جاگ رہی ہو تو انتقام کی جگہ درگزر لے لیتا ہے،
🚨نفرت کے بجائے رحم جنم لے لیتا ہے۔
🚨ایسے ہی فیصلے معاشروں کو ٹوٹنے سے بچاتے اور انسان کو انسان کے قریب لاتے ہیں۔
ہم نہ بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے.
10مئی پاک بھارت جنگ کے دوران یہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس مسلسل پاک فوج پر تبرہ کر رہے تھے، یہی غدار، وطن فروش اور نطفہ نامعلوم آج بھی پاکستان دشمنی میں بھارت اور اسرائیل کے سنگ پاک فوج اور پاکستان پر مسلسل سنگ باری میں مصروف ہیں.
انہیں فراموش مت کیجئے
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر عمران
ریاض کو صاحبِ کردار ہونا چاہئے
اور ناظرین اس 56 سیکنڈ کے کلپ کو دیکھنے کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ عمران ریاض دورِ حاضر کا رئیس المنافقین ہے
کیس از ڈسمسڈ