"زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو"
قومی ترانوں کے پیچھے انہوں نے ہمیں لگائے رکھا قومی ترانوں کے، اور یہ خود پراپرٹی ڈیلر بن گئے،جس ملک کی آرمی پراپرٹی ڈیلر بن جائے، وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرتا۔ان کا کام بارڈروں پہ تھا بارڈروں پہ، یہ بارڈر پر جانے کے بجائے یہ اپنی عوام کو مارنے کے لیے آئے ہیں۔ہمارے ٹیکسوں پہ پلتے ہیں یہ لوگ، ہم یہ اپنے بچوں کا خون دے کے ان کو ٹیکس دیتے ہیں،جہاں پراپرٹی دیکھتے ہیں وہاں ڈی ایچ اے بنا لیتے ہیں یہ لوگ۔۔!!
ملک کی موجودہ صورتحال پر عوام کا غصہ اور بے چینی واضح ہے،لوگ اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔یہ آواز کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے عوامی احساس کی ترجمانی ہے۔خاموشی اختیار کرنے کے بجائے حق اور سچ کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے۔عوام کا شعور اور اتحاد ہی حقیقی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے،وقت کا تقاضا ہے کہ اس آواز کو دبانے کے بجائے سنا جائے۔۔!!
#ContemptOfCourt
لیاقت علی خان کے ق کے پیچھے کون تھا کبھی نہیں پکڑا گیا ذوالفقار علی بھٹو کا ق کس نے کیا کبھی سزا نہیں ہوئی
اس ملک میں طاقتور مجرم کبھی نہیں پکڑا جاتا
عمران خان کے تاریخی الفاظ اگر مجھے کبھی کچھ ہوا تو انصاف عوام نے دلانا ہے
عمران خان کے علاج سے متعلق تین ججز کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے ردی کی ٹوکری پھینک کر ججز کے منہ پر طمانچہ مارا ہے،
ایک دفعہ پھر اس ملک کے " ان ٹچیبل" نے ثابت کیا کہ وہ آئین و قانون سے بالاتر ہیں،
ہمارے خلاف عدالت ، ایف آئی اے یا کوئی اور ادارہ حکم دیتا ہے تو ایک گھنٹے میں اس پر عملدرآمد ہو جاتا ہے ، پندرہ منٹ میں پولیس پہنچ جاتی ہے،
عمران خان کے علاج کے لیے عدالتوں نے دو دنوں کا وقت دیا مگر جو خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا،
اگر عدالتیں ان " ان ٹچیبل" کو کٹہرے میں نہیں لا سکتیں تو انہیں مظلوموں کو بھی سزا سنانے کا کوئی حق نہیں،
اگر ظالموں اور طاقتوروں کو سزائیں نہیں سنائی جا سکتی تو عدلیہ سے گزارش ہے کہ جن کمزور لوگوں کو قید کیا ہے انہیں بھی آزاد کر دیں,
یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ملک میں کمزور کے لیے ایک قانون ہو اور طاقتور کے لیے دوسرا قانون ہو,
عمران خان نے حقیقی آزادی کی جو جد و جہد شروع کی ہے اسکا
مقصد کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون ہے,
عدالتوں کو سوچنا ہوگا کہ یہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں، کسان پریشان ہے ، صنعتکار سرمایہ ملک سے باہر منتقل کر رہا ہے,
اگر انکا فیصلہ ہے کہ انہوں نے طاقتور کو بچانا ہے تو ہم اس فیصلے سے باغی ہیں,
نوجوانوں نے ملک کا فیصلہ کرنا ہے ، انہیں اپنے مستقبل کے لیے کھڑا ہونا ہے,
پی ٹی آئی خواتین پر ظلم و جبر کیا جا رہا ہے ، عمران خان کی بہنوں کی بے توقیری کی گئی،اب ان کے پاس عورت کارڈ کا پتا بھی ختم ہو گیا,
عمران خان سے ہم جنون کی حد تک عشق کرتے ہیں، ہم خان کی بہن کے ایک ایک آنسو کی قیمت چکائیں گے،
27 تاریخ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا ، اب20 نہیں 40 لاکھ لوگ لے کر جائیں گے،
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا ہنگو میں ابوبکر صدیق چوک میں اسٹریٹ موومنٹ شرکاء سے خطاب!