سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
مزاکرات کی ناکامی کا اعلان
ہم نے خان صاحب کے وژن کے مطابق ملک کی خاطر بات چیت کی ہر کوشش کر کے دیکھ لی لیکن بات پیش کش سے آگے نہیں بڑھ سکی اس لیے اس مرتبہ لائحہ عمل اور احتجاج میں delay نہیں ہو گا ۔
عبوری چئیرمن گوہر علی خان
آج وقت پر آنے کے باوجود،علیمہ خان کی غیر موجودگی میں بھی کوئی ملاقات نا کرائی گئی۔ اسکا جواب اب کس سے لیں؟
بہنیں اپنی کوشش کر رہی ہیں،کارکن انکے ساتھ ہے۔
قیادت اپنی ذمہ داری نبھائے اور سب مل کر عمران خان کی اسپتال منتقلی اور رہائی کے لئیے لائحہ عمل دیں۔
علیمہ خان خیبرپختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی سٹریٹ موومنٹ کریں گی یہ ہمارا پلان ہے وقت سے پہلے کچھ بھی نہیں بتا سکتے لیکن جتنا ظلم ہو چکا ہے اب کچھ نہ کچھ تو ہو گا۔۔ نورین خان کی گفتگو. مکمل ویڈیو 👇
https://t.co/L0oDy1wMZB
پہلے بھی جو ہوا وہ بھی غلط موجودہ بھی جو ہو وہ بھی غلط اور جو اج ہو رہا اس کی مثال ہی نہیں ملتی
5 اگست کو عمران خان کے قید کو تین سال مکمل کیا صرف ایک دن کا احتجاج رپورٹر
کل پارلیمنٹ پارٹی کی میٹنگ ہے پھر پولیٹیکل پارٹی کی انشاءاللہ احتجاج کے حوالے سے سب کچھ اپ کے سامنے ا جائے گا برسٹر گوہر
عمران خان نے تو 2013 کے انتخابات کے حادثے کے بعد ہی کہہ دیا تھا:
"میں تو برداشت کر لوں گا، آپ نہیں کر پاؤ گے"ـ
اب اپنی موجودہ زندگی دیکھ لیں اور سوچیں کہ کیا ہر آنے والا مہینہ، سال آپ کی زندگی میں بہتری لا رہا ہے یا نا اُمیدی؟
#StreetMovementForJustice
پی ٹی آئی رہنما ماجد ستی قتل کیس،عدالت نے فرخ کھوکھر سمیت تین ملزمان کو سزائیں سنادیں،ملزم فرخ کھوکھر کو عمر قید،10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم، مقدمہ میں نامزد ملزم وسیم کو عدالت نے بری کرنے کا حکم دے دیا، ماجد ستی کو 8 اگست 2022 کو راولپنڈی کے علاقے سکستھ روڈ پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا
عمران خان کی رہائ کے لیے جو بھی آج تک تحریک چلی ہے فرنٹ سے بھر پور کوریج کی ہے
4 اکتوبر ہو یا 24 نومبر
چاہے شیلنگ ہو ، گولیاں چلی ہوں اور اس کی پاداش میں گھروں میں چھاپے پڑے ، گھر والوں کو حراساں کیا گیا بہنوں کے موبائل لے گئے جو آج تک واپس نہیں کیے گئے گھر والوں سمیت میری گرفتاری متعدد مرتبہ ہوئی لیکن پیچھے نہیں ہٹا
اب انشاءاللہ جو بھی عمران خان کی رہائی کی تحریک لیکر چلے گا انشاءاللہ پہلے کی مرتبہ اس دفعہ بھی فرنٹ سے کوریج ہو گی اور بھر پور ہو گی
پاکستانیوں ایک مرتبہ سوچے اور عمران حان کی جگہ اپنے اپ کو رلھے اور سوچے اگر اپ یہاں ہوتے 24 گھنٹے قیدی تنہائ میں اپنے سیل سے باہر جانے کی اجازت نا ہو تو میں یقین سے کہتا ہو اپ اپنا سر دیوار سے ٹکر مارے گے 🥹
عمران حان پاکستان کیلئے میرے اور اپ کے لئے تین سال سے یہ ازیت والا قید
خبر یہ ہے کہ
خیبر پختون خواہ کے بعد علیمہ خان اب پنجاب کا رخ کر رہی ہیں
پنجاب کی عوام تیار رہے اس بار خان کی بہنوں نے احتجاج کی کال دینے کا فیصلہ کرلیا ہے
اب دما دم مست قلندر ہوگا قیادت گئی بھاڑ میں
انگلیوں کو زیتون کے تیل سے مساج دیں کیونکہ آج رات 8 بجے سٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے ٹرینڈ ہوگا۔ خان کی رہائی کا واحد راستہ مزاحمت۔
آج رات 8 بجے تیاو ہو سب 🧐
گزشتہ دو سالوں سے تحریکِ انصاف کی قیادت اور سابق صوبائی حکومت کو مسلسل گالیاں دینے والا اور پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے والا @YousafSaeedPTI آخرکار اپنی اصل جگہ پہنچ گیا۔
خدیجہ شاہ کے کہنے پر اس نے کئی پارٹی خواتین کیخلاف غلط پوسٹیں کیے تھے۔
مستقبل آپ لوگوں کا ہے ہمارا نہیں ہے، ظلم کے خلاف کھڑے نا ہوئے تو ایک ایک کر کے سب کی باری آئے گی،
جب ارشد شریف کا قتل ہوا تو ہم نے صحافیوں سے کہا تھا، کہ ایک دن کے لیے تمام صحافی اپنے پروگرامز کا بائکاٹ کر دو، انہوں نے نہیں کیا تو ایک ایک کر کے پھر سب کی باری آئی، علیمہ خان