یا تو یہ تسلیم کریں کہ اس وقت کی بدامنی ریاست کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ تھی، یا مان لیں کہ عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، 1300 سے زائد کارکن شہید ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت ختم ہوئے 14 سال بعد بھی آج صرف اے این پی کے کارکن اور رہنما ہی دہشت گردوں کے نشانے پر کیوں ہیں؟
نثار باز خان
رکن صوبائی اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #NisarBaazKhan | #ANPPakhtunKhwa
اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں شریک ہیں۔
اجلاس میں وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور سول سروس اصلاحات سے متعلق متعدد اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں متعلقہ حکام سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں گریڈ 1 سے گریڈ 22 تک خالی آسامیوں، خصوصی پے اسکیلز، پراجیکٹ پوسٹس اور براہِ راست تقرریوں کی مکمل تفصیلات طلب کی گئیں۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت میں خالی آسامیوں کا درست اور بروقت ریکارڈ برقرار رکھنے کے نظام، ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کے آئندہ اجلاسوں، سرکاری امور میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، سول سروس ریفارمز 2026، کارکردگی کی بنیاد پر ترقیوں، کلسٹر بیسڈ سی ایس ایس امتحانات، نیشنل ایگزیکٹو سروس اور سرکاری ملازمین کے سروس ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
اجلاس میں چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے سی ایس ایس امتحان میں عمر کی حد اور کوششوں میں اضافے سے متعلق سینیٹ کی سفارشات پر پیش رفت، محکمانہ ترقیاتی امتحانات، آسامیوں کی بروقت فراہمی، سی ایس ایس نتائج میں غیر معمولی تاخیر اور تقرریوں کے عمل کو تیز بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی وضاحت طلب کی گئی۔
#ANP | #AimalWaliKhan
ڈیئر عمران،
آپ کے وزیراعلیٰ نے آپ کے کارکنان کو 27 تاریخ کی ایک اور امید دے دی ہے، لہٰذا فی الحال تو آپ کو 27 ستمبر تک اندر ہی رہنا ہوگا۔
ادھر آپ کے نامزد کردہ لوگ آپ کی غیر موجودگی میں پختونخوا کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ آج تو خود جنید اکبر نے بھی یہ اعتراف کر دیا کہ عمران خان کے نام پر لوگ ارب پتی بن گئے ہیں۔
میں پھر وہی بات دہراؤں گا کہ شاید سیاست میں آپ سے زیادہ بدقسمت کوئی اور نہیں۔ آپ نے جن لوگوں پر اعتماد کیا، آج وہی اقتدار، اختیارات اور وسائل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جبکہ آپ تنہا جیل میں ہیں۔ آپ کا ایک ایک وزیر، مشیر اور قریبی ساتھی اپنی سیاست اور اپنی دولت بنانے میں مصروف ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب نے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر آپ کو اندر رکھنے کی قسم اٹھائی ہے۔
پاکستانی تاریخ میں صرف ایک بار ایک آمر جرنیل کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا اور اسے دستور توڑنے کی سزا سنائی گئی، تاہم آپ جانتے ہیں کہ نہ صرف اس آمر کا مقدُمہ عمران خان حکومت نے لڑا بلکہ سزا دینے والے ٹریبینول ہی کو ثاقب نثار کی عدالت کے ذریعے کالعدم قرار دے دیا گیا۔
یہ سزا ہو جاتی تو پاکستان کے دستور کو توڑنے کی خواہش کرنے والے جرنیلوں کو عبرت ہوتی، لیکن یہ پی ٹی آئی نے جمہوریت اور دستور کے بجائے تب اقتدار اور جرنیلی اشیرباد کا ساتھ دیا۔
آج دستور کم زور اور جرنیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ تاہم کوئی مضبوط جمہوری قوت موجود نہیں، جو ملک کو دوبارہ جمہوری پٹری پر لوٹائے۔
اس وقت ن لیگ سمیت تمام حکومتی جماعتیں بہ ظاہر فوج کی ایکسٹیشن ہیں اور جمہور یا جمہوریت سے کوسوں دور ہیں۔
ایڈیشنل/اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کی وہ لسٹ جسے پی ٹی آئی حکومت نے تعینات کیا تھا اور بار کونسل کے الیکشن میں"کسی مقصد کے لیے"مختلف اضلاع میں انہیں پریزائڈنگ افسر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا
لیکن اے این پی کے طارق افغان ایڈووکیٹ نے یہ نوٹیفکیشن چیلنج کیا اور وہ منسوخ ہو گیا
خیبرپختونخوا بار کونسل کے مکمل نتائج، اے این پی کے ملگری وکیلان 28 میں 13 نشستوں پر کامیاب، پی ٹی آئی آئی ایل ایف کے پانچ امیدوار کامیاب
1. پشاور: صوفیہ نورین (پی ٹی آئی)
2. پشاور: علی زمان (پی ٹی آئی)
3. پشاور: رفیق محمند (اے این پی)
4. پشاور: فضل واحد (اے این پی)
5. پشاور: خضر حیات (اے این پی)
6. پشاور: بابر یوسفزئی (اے این پی)
7. پشاور: محمد سعید (آزاد امیدوار)
8. چارسدہ: فراز خان (پی ٹی آئی)
9. نوشہرہ: فدا گل آفریدی (آزاد امیدوار)
10. مردان: زر باد شاہ (اے این پی)
11. مردان: اسفندیار (اسلامک لائرز فورم)
12. صوابی: مبشر شاہ (اے این پی)
13. بونیر/بٹ خیلہ: سعید حکیم (پیپلز پارٹی)
14. سوات: عنایت خان (اے این پی)
15. شانگلہ: فواد خان (جے یو آئی)
16. ایبٹ آباد: محمد علی خان (ن لیگی رجحان)
17. ایبٹ آباد: شاہ فیصل
18. مانسہرہ: وقاص رضا (پی ٹی آئی)
19. مانسہرہ: وقارالملک (جے یو آئی)
20. ہری پور: شاہد محمود (اے این پی)
21. ڈیرہ اسماعیل خان: احمد علی (اے این پی)
22. ڈیرہ اسماعیل خان: ہشمت (پیپلز پارٹی)
23. لکی مروت: فاروق صابر (پی ٹی آئی)
24. کرک: احمد فاروق خٹک (اے این پی)
25. کوہاٹ: عماد اعظم (اے این پی)
26. بنوں: شاہ حسین (اے این پی)
27. چترال: اکرام حسین (جماعتِ اسلامی)
28. دیر/باجوڑ: شاہ فیصل یوسفزئی (اے این پی)
عمران ریاض کو نا کبھی اٹھایا گیا نا کبھی اس کی زبان کاٹی گئی۔ فیملی سمیت کسی خاص کا مہمان رہا۔ موٹر سائیکل سے چکوال میں اربوں کی جائداد کا مالک کیسے بنا۔ شیر افضل مروت۔
کل سے کچھ لوگ ایمل خان @AimalWali پر بھونک رہے جب ایمل خان نے ٹویٹ کیا کہ "پختونخوا کا مطلب پاکستان"، یہ ویڈیو منظور کے ان فالورز کیلئے جو فیک اکاؤنٹس سے بھونکتے ہیں، ھم پختون ہیں اور پاکستانی ہیں، لر اور بر یو افغان کا مطلب یہ ہے کہ ھم ایک نسل سے ہیں
میں بار بار کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ یہ بندہ وکیل ہے اور اس کی قانونی سمجھ کا حال یہ ہے
کیا ایسے آدمی کو وکیل ہونا چاہیے؟
دوسری بات اس آدمی کی سیاسی سمجھ کا اندازہ لگائیے کہ یہ گروک سے پوچھ کر ایک سنجیدہ پروگرام میں معلومات بانٹ رہا ہے۔
کیا ایسے آدمی کو سیاست دان ہونا چاہیے؟
اس بندے کی سب سے پہلے تو قانون کی ڈگری واپس لی جائے اور اسے کم از کم دو ماہ تک اسے آئی ماڈلز پڑھائے جائیں تاکہ آئندہ یہ کتاب پڑھے، اے آئی سے علم نہ لے۔
پختون اگر ارشد شریف صاحب سے خفا ہیں تو اُسکی وجہ ماضی میں کی گئی اس طرح کی صحافت ہے ۔جسکا ایک نمونہ یہ ہے ۔۔۔اب کچھ لوگوں کو یہ بات بُری لگے گی ۔
لیکن
یہ سچ ہے کہ جب ہم صحافت چھوڑ کر ماوتھ پیس بنتے ہیں نا بس وہیں ہم پھنس جاتے ہیں ۔۔۔یہ ماضی میں بھی لوگوں کے ساتھ ہوا اور اب بھی ہو رہا ہے ۔۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اسے ہی کامیابی کا زینہ سمجھا گیا
مجھے یاد ہے کہ جب طورخم بارڈ پر شہید ایس پی طاہر داوڑ کی لاش پڑی تھی اور مسئلہ اُسکو وصول کرنے پر تھا تو کس طرح کے بیپر یا رپورٹنگ مین سٹریم میڈیا پر ہوئی ۔میں نے اپنے بیپر میں صرف اتنا کہا کہ اگر لاش دینے والے پختونخوا اسمبلی کے ایم پی ایز کی بجائے محسن داوڑ کو لاش دینا چاہتے ہیں تو دینے دیں۔وہ بھی تو پارلیمنٹ کا ممبر ہے ۔ایک شہید کی لاش پڑی ہے گھر والے انتظار میں ہیں اسمیں مسئلہ کیا ہے تو نیوز اینکر نے کہا بہت شکریہ فرزانہ علی اور پھر میری لائن کٹ گئی
یا پھر
خڑ کمر والا معاملہ تھا ۔۔بہت کچھ ہے کہنے کو
کہانی میں کئی پیچیدہ مراحل ہیں جسمیں رپورٹنگ کا جھکاو ایک جانب رہا ۔۔یہ حقیقت ہے اور اُسکو مان کر ہی آگے بڑھنا ہو گا ۔۔بصورت دیگر جوکل کر رہے تھے وہ آج والوں پر انگلیاں اٹھائیں گے اور آج والے کل والوں کو غدار ٹھہرائیں گے