یہ آزادی مارچ کی ویڈیو ہے جس کی قیادت قائد عمران خان خود کررہے تھے، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل ہوئے تھے
اب پھر وقت ہے کہ اگر عمران خان بحفاظت رہا کروانا ہے تو ایسی ہی تاریخی تعداد میں دوبارہ نکلنا ہوگا
شورشرابے ، چیک چاڑے اور کھینچا تانی کے اس موسم میں ہرگز مت بھولیں کہ عمران خان کو قید پاک فوج نے کیا۔ ملاقاتوں پر پابندی پاک فوج نے لگائی۔ علاج معالجے میں رکاوٹ پاک فوج ہے۔
قید کرنے سے پہلے؛ ہم عمران خان سے معافی منگوائیں گے ہم اس کو توڑ کر رکھ دیں گے
اب ؛ عمران خان بہن صرف یہ ضمانت دے کہ عمران خان کا پیغام باہر آکر نہیں بتائے گی
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ
اگر عمران خان کو ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو ہم سینیٹ اور قومی اسمبلی سے استعفے دے دیں گے ، محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا مشترکہ بیان
دیر آۓ درست آۓ 🔥
Reuters should explain its editorial standards for reporting on Pakistan. Its recent story portrays Gen. Asim Munir as taking action against Islamist hardliners and the misuse of blasphemy laws, which is an incorrect version of the facts. There is no such action; however, he is actually responsible for the killing of innocent Pakistanis during his broader crackdown on political dissent and civil liberties in Pakistan. The story was written by Pakistani reporters Asif Shahzad, Ariba Shahid, and Mubasher Bukhari. Reuters owes its readers independent, evidence-based journalism—not reporting that has become a military general’s propaganda machine. @Reuters
اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کا کندھا استعمال کرکے اپنے آپ کو بچاتی ہے اور کہتی ہے کہ ایک دوسرے کو گالیاں دو لیکن آرمی چیف، سیکٹر کمانڈر کا نام نہیں لینا،
قاسم خان سوری
بیرسٹر سلمان صفدر کی گفتگو 🚨
عدالت کے حکم پر میں دو مرتبہ عمران خان سے ملا، ایک ملاقات پر گیا تو سارا ٹائم اس بات پر گزر گیا کہ ان کی 85فیصد آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے۔
دوسری دفعہ جب ملاقات کے لیے گیا تو 65 منٹ کی ملاقات تھی تو 65 کے 65 منٹ اس بات پر ہی ختم ہو گئے کہ عمران خان نے اس بات پر بہت زیادہ شکوہ کیا کہ مجھے بلا وجہ لمبی قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے ۔ نہ میری فیملی سے ملاقات ہے نہ بچوں سے ، نہ سیاسی قیادت نہ وکلاء سے
27 ستمبر یعنی 2 مہینے کا وقت کیوں دیا گیا؟
کشمیر کا مسئلہ اس وقت تک نمٹایا جا چکا ہو گا۔ ستمبر کے اختتام تک فیلڈ مارشل اور انکے ساتھی ڈونلڈ ٹرمپ کے مڈ ٹرم انتخابات میں مدح سرائی کا اہم زریعہ بن چکے ہوں گے۔ خطے کی چنگی صورتحال بدل چکی ہوگی لہذا موجودہ رجیم کو کافی سپیس مل جائے گی۔ پھر کل کس نے دیکھا ہے؟
لانگ مارچ پہلے بھی ناکام ہوئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی تھی جیسا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کرو۔
بہرحال یہ 2 ماہ بھی گزر ہی جائیں گے۔