دنیا بھر سے 21 معروف کرکٹرز عمران خان کے علاج کے لیے خط لکھ رہے ہیں اور پاکستان کے موجودہ اور سابقہ کرکٹرز اتنے بزدل ہیں کہ کوئی ایک بھی آواز نہیں اٹھا رہا ، عمران خان کی رہائی کے بعد سب لائن بنا کر بنی گالہ کا طواف کررہے ہوں گے
BREAKING NEWS: 22 Former international cricket captains have once again written a letter to Pakistan PM over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in February and this one comes after Pak allegedly didn’t completely comply with SC directions.
They have laid down 3 demands:
1. That the medical board directed by the Supreme Court — including Mr Khan's own doctors — be permitted to complete a full and independent assessment of his health, particularly the reported loss of vision in his right eye.
2. That the weekly family visits reinstated by the Court be honoured without interruption or administrative delay.
3. That whatever the outcome of that medical assessment, the treatment recommended by it be provided without delay.
Three Indians - Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains.
#ImranKhan
کمشنر راولپنڈی کا اعترافی بیان جس میں انہوں نے یہ تسلیم کرتےہوئے مستعفٰی ہونے کا اعلان کیا کہ انہوں نے انتخابی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کی،جس کے نتیجےمیں محض راولپنڈی ڈویژن میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 13 نشستوں سے محروم کیا گیا۔
ان کا یہ بیان ملک بھر میں انتخابی نظام کے ساتھ کئے جانے والی نہایت منظّم چھیڑ چھاڑ کی ایک ہوشربا روداد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی ایسی نشستیں جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی، کو جعلی سازی اور دھوکے دہی سے ہروایا گیا اور عوام کو ان کے جائز مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ساکھ، اس کی بہتری اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے فارم 45 کی روشنی میں نتائج جاری کرتے ہوئے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے میں ملوث افراد کیخلاف مؤثر اور بامعنی عدالتی کارروائی کابھی مطالبہ کرتی ہے۔
On Independence Day, let us reiterate Quaid-e-Azam’s message:
𝐓𝐇𝐄 𝐀𝐑𝐌𝐄𝐃 𝐅𝐎𝐑𝐂𝐄𝐒 𝐀𝐑𝐄 𝐓𝐇𝐄 𝐒𝐄𝐑𝐕𝐀𝐍𝐓𝐒 𝐎𝐅 𝐓𝐇𝐄 𝐏𝐄𝐎𝐏𝐋𝐄, 𝐍𝐎𝐓 𝐓𝐇𝐄 𝐌𝐀𝐊𝐄𝐑𝐒 𝐎𝐅 𝐍𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍𝐀𝐋 𝐏𝐎𝐋𝐈𝐂𝐘..
Pakistan belongs to its people. Their democratic will must prevail, the Constitution must remain supreme, and every institution must operate strictly within its constitutional limits.
#جناح_کا_جانشین_عمران_خان
79 سال پہلے ہم نے ایک ملک حاصل کیا تھا مگر کیا ہم واقعی آزاد ہوئے؟
14 اگست 1947 کو ایک غلام قوم نے آزادی کا جشن منایا۔ آزاد وطن کا خواب حقیقت بنا مگر آزادی کا وہ خواب جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانی دی آج بھی نامکمل ہے ۔۔!!
#جناح_کا_جانشین_عمران_خان
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
(۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا مگر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین سنسر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حقیقت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“