اسٹیبلشمنٹ اگلے الیکشن سے پہ��ے پاکستان تحریک انصاف کو بہت کمزور کرنا چاہتی ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی آپشن نہیں ہیں کیونکہ عوامی طاقت عمران خان کے پاس ہے اس لئے پرسنل لڑائی ختم کرنی چاہیے کسی کو جا کر عمران خان کو منانا ہو گا
نجم سیٹھی
اہم پیغام
فیس بک پر ہنسنے والی ایموجیز ( 😂 )کے سیلاب نے فوج کو بہت زیادہ زچ کردیا ہے۔ اس کے ہنگامی جوابات تیار کیے جارہے ہیں ۔ اس سے جان چھڑانے کے مختلف طریقے سوچے جارہے ہیں۔ اپنی ��یڈیوز ، ولاگز ، پوسٹس میں اسکی بار بار نشاندہی کریں۔ یہ عوامی ردعمل کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے۔ جتنے زیادہ لوگ اس ایکٹویٹی میں شریک ہوں گے فوج کے لیے انکو ٹارگٹ کرنا مشکل ہوجائے گا۔
اس ردعمل کو ووٹ بنا دیجیے ، اسے آئینہ بنا دیجیے ، اسے بائیکاٹ جیسی مہم بنا دیجیے۔ پاکستان میں 100 ملین یعنی دس کروڑ لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاکستان میں کل کاسٹ ہونے والے ووٹس سے بھی ڈبل تعداد ہے۔ ہر فوجی ، ہر افسر اسکے خاندان کا ایک ایک شخص فیس بک دیکھتا ہے۔ ان کو اپنے جذبات دکھائیں ۔ ٹریس ہونے کا خطرہ ہے تو متبادل اکاونٹس بنا لیں لیکن حصہ ضرور ڈالیں شکریہ۔
پاک فوج جس دن تسلیم کرلے گی کہ قوم کو اس سے نفرت ہوگئی ہے اس دن پاک فوج اس نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس نفرت ختم کرنے کا ایک ہی رستہ ہے جو سیدھا بیرکوں اور مورچوں کو جاتا ہے اور اس سڑک کا پہلا سٹاپ اڈیالہ ہے۔
جب تک فوج خود کو دھوکہ دیتی رہے گی ، خود سے جھوٹ بولتی رہے گی فوج کی ذلت بڑھتی چلی جائے گی۔ آج ہزاروں لاکھوں لوگ فوج پر ہنس رہے ہیں۔ جنازوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے۔ نہ فائر وال کام آئی ہے نہ چالیس نیوز چینلز کام آئے ہیں نہ آئی ایس پی آر کی اربوں روپے کی مہمات۔
یہ نفرت آسمان سے نہیں اتری ، کسی بھارتی، کسی جمائما ، کسی اوورسیز کسی یوٹیوبر کے کہنے سے نہیں آئی۔ یہ ذلت فوج نے بہت محنت سے کمائی ہے۔ فوج کے ساتھ جو ہورہا ہے اسکی ذمہ دار فوج ہے۔
اس نام نہاد ریاست نے ابوبکر کے خاندان کے بہت سے قرضے واپس واپس کرنے ہیں۔ ابوبکر کے بھائی ، بہنوئی اور رشتہ دار کشمیر میں شہید ہوئے۔ اب اسی ابوبکر کا خاندان اذیت میں ہے۔
میں ابوبکر کو خراج تحسین بھی پیش نہیں کرسکتا کہ میں اسکی جگہ ہوتا تو خاموش ہوجاتا۔ابوبکر کا یہ عزم ظالم کو لے ڈوبے گا۔
جب انکی جڑیں واٹس ایپ کاٹ رہا تھا تب پابندی ٹوئٹر پر لگا دی تھی۔ جب ملک کی ستر فیصد آبادی کی انٹرنیٹ تک رسائی ہوگئی تو یہ سڑکوں کنارے لگے بورڈ توڑ کر نشان مٹانے کے چکر میں ہیں۔
مبلغ بارہ جماعت پاس پھدو دماغ
حاصل مطالعہ
یعنی اگر وہ پیسوں کا لالچ نہیں تھا ، کسی کی خوشامد بھی مطلوب نہیں تھی ، یہ اس قدر گھٹیا اور گرے ہوئے صحافی بھی نہیں کہ انہیں تیسرے چوتھے درجے کا ٹاوٹ قرار دیا جائے لیکن پھر وہ کیا وجہ تھی کہ مہر بخاری یہ کہتی پھریں کہ عمران خان کے لیے کمرہ تیار ہورہا ہے اور اسی انچ والا ٹی وی لایا جارہا ہے اور اسد طور کو نہایت سنجیدگی سے کہنا پڑا کہ فوج کے پاس عمران خان کی ایک ویڈیو ہے جس میں عمران خان ایک مرد کے ساتھ ،،، استغفار۔
دو وجوہات یا ممکنات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو وہی فوج میں اتنے “ کرنل” ہیں کہ چالیس پچاس لوگوں کیساتھ ایک عدد “ کرنل “ پیدا کرنا کوئی مسئلہ نہیں جو نہایت سنجیدگی سے ان کا دوست ، جاننے والا ، یا سورس بن جائے۔ انہیں دو تین درست خبریں دے اور ان سے چوتھی مرضی کی کھچ مروا لے۔ یہ پراپگنڈہ ، ایسے غلط معلومات فیڈ کرنا فوج کا مضمون ہے یہ صدیوں ملٹری اکیڈیمیز میں پڑھایا جاتا ہے اور فوج کو اس میں مہارت حاصل ہے۔
اسی لیے آئے روز ، اپنے پرائے ، یعنی عمران خان کے ہمدرد اور ناقد دونوں طرح کے صحافی ایسی شرلیاں چھوڑتے رہتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ جو حالات سے بالکل مطابقت ن��یں رکھتے۔ لیکن ایسی خبریں دینے والوں کی سنجیدگی قابل دید ہوتی ہے کیونکہ ان کا سورس حساس ادارے کی انتہائی اعلی سطح کی شخصیت ہوتا ہے جو انہیں پہلے ایک دو درست خبریں دے چکا ہوتا ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کے کل صحافی ، کل یوٹیوبرز تمام کو شامل رکھیں۔
دوسری چیز بیماری ہے۔ ناقدین بڑے بڑے سلیبرٹیز تھے ، کیا ٹھاٹھ تھے انکے ، دہائیوں تک انکی تصاویر و تحاریر اخبارات میں چھپ کر ملک کے کونے کونے میں پہنچتی رہیں۔ پھر ان کا بوتھا شریف ٹی وی چینلز پر براجمان رہتا۔ سوشل میڈیا انکی جاگیر تھا۔ ہم نے یعنی یوتھیوں نے انہیں چٹکیوں میں اڑا دیا۔ اخبار رہے نہیں ، ٹی وی کوئی دیکھتا نہیں اور سوشل میڈیا پر بڑے سے بڑا جغادری بھی دھرکینوں بنا ہوتا ہے۔
تذلیل کا اور زوال کا یہ احساس ان کے اندر موجود ہے۔ ان میں سے جتنے اصول پرست لوگ بھی ہیں ان کے اندر عمران خان کی ، تحریک انص��ف کی اور یوتھیوں کی نفرت بھری ہوئی ہے۔ کیونکہ عمران نے وہ کیا جس کی توقع انہیں اپنے نوازشریفوں اور بینظیروں سے تھی، تحریک انصاف نے وہ کیا جسے یہ تاعمر جھٹلاتے رہے اور یوتھیوں نے وہ کیا جس کا سامنا لانے کی انکے اندر تاب نہیں۔ اگرچہ کئی دفعہ یوتھیے زیادتی کرجاتے ہیں لیکن انکے اندر نفرت مسلم ہے۔ یہ جہاں تھوڑی سی گنجائش نظر آتی ہے اپنی اس شکست خوردہ ذہنیت کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ اچھی مثال لیں۔ وسعت اللہ خان جیسا شاندار آدمی چند ہفتے پہلے ڈیل کی خبروں کے بعد تحریک انصاف کو ویلکم بیک کررہا تھا۔
اب رہ گیا حاصل مطالعہ ، ہم کوئی نیوٹرل تجزیہ کار نہیں ، ہم کوئی صحافی نہیں ، ہم ایک سیاسی جماعت کے ہمدرد ہیں ، ایک سیاسی لیڈر کے ووٹرز ہیں۔ ہم چاہیں بھی تو یہ ٹیگ نہیں اتار سکتے۔ ہم حقیقی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں ، تحریک انصاف اور عمران خان کی حکومت یعنی ہم اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمدرد یا ناقد ، یہ ہماری ضد ہیں۔ انکی ٹھنڈی ہواؤں سے پرہیز کریں ، انکے اندر ��ی خبروں سے بچیں اور انکی نفرت کے لیے تیار رہیں۔
تالیاں پیٹ رہے تھے کہ دیکھو کوئی نہیں نکلا
اب روئیں گے کہ یہ احتجاج کیوں کررہے ہیں
تحریک انصاف کے نہتے کارکنان کو گولیاں لگی ہیں
لیکن یہ اب انہیں دہشتگرد اور مسلح کہیں گے
دہشتگرد اور مسلح ہیں تو صرف انہی کو کیوں گولیاں لگیں؟
جلسے بڑے ہوگئے تو کہا فوج نے کروائے ہیں
فوج کے خلاف ہوئے اور بہت بڑے ہوگئے تو کہا کلٹ ہیں
جلسے بہت زیادہ بڑے ہوئے تو کہا اصل چیز ووٹ ہے
بغیر جلسوں کے الیکشن جیت گئے تو کہا یہ ملک دشمن ہیں
نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کیے تو کہا یہ دہشتگرد ہیں
بندوق کے خوف سے خاموش ہیں تو کہا یہ باہر کیوں نہیں نکلتے
کہا سوشل میڈیا کے لائکس ویوز سے کچھ نہیں ہوتا
پھر کہتے ہیں اس ملک میں جو ہورہا ہے سوشل میڈیا وجہ ہے
بند محفلوں میں کہا ہم فیصلہ کریں گے کون ملک چلائے گا
عوام کے سامنے آگئے تو کہا ہمارا سیاست سے تعلق نہیں
اقتدار سے نکالا تو کہا اس نے معیشت خراب کر��ی
خود اقتدار میں آئے تو کہا اسکی وجہ سے ٹھیک نہیں ہورہی
شریف زرداری خاندان کو شکست دیکر اقتدار میں آگئے تو کہتے ہیں اسے فوج لائی
فوج نے شریف زرداری کو کٹھ پتلی بنایا تو کہا فوج کو سیاست میں واپس یہ لائے
رجیم چینج کے وقت کہا تحریک انصاف نے معیشت تباہ کردی ہے
عمران خان نے بڑے بڑے جلسےشروع کردیے تو کہا یہ انتشار کی سیاست کرتے ہیں
پھر بھی تحریک انصاف قابو نہ آئی تو عمران خان کو عدالت سے اغواء کرکے کہا یہ شہیدوں کی توہین کرتے ہیں
پھر خود ہر جگہ سے ناکام ہوگئے تو اب تحریک انصاف کو دہشتگرد بنا دیا ہے
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
۔۔۔۔۔۔۔
ایران پارلیمنٹ کے اس رکن نے کہا ہے کہ ہمارے پڑوس میں کچھ ملک ایسے ہیں جو ثالثی کے دعویدار ہیں ،جب کہ ہمیں معلوم ہے ان کے لیڈروں کے ٹویئٹ بھی امریکی لکھتے ہیں
———
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
یزید، ہٹلر اور فرعون غلط وقت مر گئے۔ زندہ ہوتے تو چاچا نے ان کو بھی نوبیل پرائز کے لیے نامزد کر لینا تھا۔ احمد فرہاد
#pakistan@AhmadFarhadReal
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
یہ ہے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی خیبر پختونخواہ بریگیڈیئر عمر شریف، جو لانگ مارچ کو ناکام بنانے، سہیل آفریدی کو قابو کرنے، اور ورکرز کو اغواء کروانے کا آپریشن لیڈ کررہا ہے۔ ممبر کے پی اسمبلی کو بھی یہی براہ راست فون کروا کر دھمکا رہا ہے۔
مزید رپورٹ بھی جلد سامنے آجائے گی!
المیہ دیکھیے۔ایک بدنصیب ملک میں ایک غیر منتخب قوت کی ایما پر ایک غیر منتخب وزیراعظم کی سفارش پر ایک غیر منتخب صدر نے ملک کی واحد منتخب صوبائی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
یہ ریڈ لائن تو تم نے آج سے چار سال پہلے لگائی تھی۔ یہ پارٹی تو ��م نے تین سال پہلے توڑ دی تھی۔ یہ لوگ تو تم نے آٹھ فروری کو جھکانے تھے۔ تم نے ہمیں مارا بہت ہے لیکن ہم نے تمہیں گھسیٹا بہت ہے۔ سفر ابھی جاری ہے۔ چلتے رہیں گے اور ایک دن تمہیں ملیں گے۔ جیسے ملنے کا حق ہوتا ہے۔
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ
مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی کا اعلان کیا , 28 نومبر 2007 کو مشرف کو وردی اتارنا پڑی۔ عدالتیں اس وقت بھی فوج کے تابع تھیں کہ عدالتوں نے اسے قانونی تح��ظ فراہم کیا۔ اب عوامی نفرت اور فوج کی ناکامیوں کا لیول ہی کچھ اور ہے۔
ایمرجنسی لگاؤ جلدی کرو شاباش۔
میاں بیوی کی برہنہ ویڈیو بیٹی کو بھیجنے والے ، ججز کے بیڈ رومز میں کیمرے لگانے والے ، بیٹی کو باپ کے سامنے ��رہنہ کرکے سیاسی جماعت چھڑانے والے مکہ مکرمہ اور مدینہ م��ورہ کے محافظ ہیں؟ استغفراللہ۔ استغفراللہ۔
جس وقت افغانستان میں جہاد کے نام پر پاکستان کو دھکیلنا تھا تو علماء اس کے حق میں فتوے دے رہے تھے اور کچے مذہبی ذہنوں کو یہ اسلام کی جنگ لگ رہی تھی۔جس وقت علماء دہشتگردی کے خلاف جنگ کو مقدس فریضہ قرار دے رہے تھے اس وقت بھی کچے ذہن اسکے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اب پاک فوج ایک بار پھر اپنی ڈالری جنگ کو کسی مقدس مشن سے جوڑ کر کچے ذہن خراب کررہی ہے۔
ابھی کچھ مہینے پہلے جب پاک فوج کے افسر جگہ جگہ بیانیے بنانے جارہے تھے تو ایک یونیورسٹی میں ایک میجر جنرل نے کشمیر کے موضوع پر فرمایا کہ کشمیریوں کو اپنی جنگ خود لڑنی ہے ہم ان کے لیے دعا کرسکتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی فوج ، اتنا بجٹ ، کشمیر اور انڈیا کے لیے تھا۔ یہ فوج کشمیر کا ایک انچ نہیں لے پائی اور بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے بچے کھچے دریاؤں پر بھی آبی پراجیکٹس بنائے جارہا ہے۔ ایک لاکھ کشمیری انہیں پکارتے پکارتے شہید ہوگئے یہ ادھر کا منہ نہ کرسکے۔
یہ جنگ اگر اس قدر مقدس تھی تو کٹھ پتلی پارلیمنٹ میں ہی اس کا معاہدہ پیش کردیا جاتا۔ کیوں اسے چوری کے مال کی طرح چھپایا جارہا ہے؟ مذہب جذبات کے نام پر بہت الو بن لیے اور بہت نقصان کروا لیا۔ ایران کی جنگ ، سعودی عرب کی جنگ یا امریکہ کی جنگ پاکستان کی جنگ نہیں ہے۔ وہ فوج جو آئین ، جمہوریت اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں وہ پھر اسلام کے ساتھ بھی مخلص نہیں۔ یہ جنگ ہماری جنگ نہیں۔
قبائلی اضلاع میں فوج کا ایمرجنسی لگانا ایسا ہی ہے جیسے کل نوٹیفکیشن نکال دیا جائے کہ فوج نے چاغی ، آواران ، خضدار ، مستونگ میں ایمرجنسی لگا دی ہے۔ وڑو گورنر راج لگاؤ ، پورے ملک میں یا پورے صوبے میں ایمرجنسی لگاؤ یہ کیا یئیں یئیں لگا رہے ہو۔
اگرچہ اس کا امکان نہیں اور یہ مغویوں کیساتھ زیادتی اور انکی ہتک والی بات ہے۔ لیکن اگر سہیل آفریدی کو ہٹایا گیا تو اگلا وزیراعلی پھر کنٹینر سے ہی حلف لے گا اور جہاں سفر رکے گا وہیں سے شروع ہوگا۔ “ نمبر پورے کرنے والے “ نوٹ فرما لیں۔