پاکستانی قوم کو اپنی زمہ داری لینی ہوگی ایک عمران خان کے کندھوں پر بندوق رکھ کر ہم کبھی بھی حقیقی آزادی حاصل نہیں کر سکتے اگر ہم نے صحیح معنوں میں آزادی حاصل کرنی ہیں تو ہر پاکستانی کو لا قانونیت اور ظلم کے خلاف لڑنا ہوگا یاد رہے یہ جنگ عمران خان کی نہیں
1/2
یہ اذیت فسطائیت سنتے ہوئے دم گھٹنے لگتا ہے
تو جو ان پہ گزری اور باقی پہ گزر رہی ہے بشمول عمران خان اس کا تصور ہی کربناک ہے
اللہ تعالیٰ تمام اسیران پہ اپنا خاص رحم و کرم فرمائے اور غیب سے مدد فرمائے آمین
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
چئیرمین تحریک انصاف بیرسٹرگوہرعلی خان
مین ہمیشہ سےامیدکرتاآیاہوں کہ تناؤکم اورتعلقات میں بہتری آئے، آج آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی ہے، ملک کادفاع اہم ہے،پی ٹی آئی کابیانیہ کبھی ملک دشمن نہ ہے،نہ ہوگا، ریاستی ادارےاورسیاسی لوگ ایک دوسرےکوذہنی مریض کہے یاخطرہ سمجھیں تو یہ افسوسناک ہے، پاکستان بھی ہمارااورفوج بھی ہماری ہے،ہم نے اس کا عملی مظاہرہ کیااورکریں گے،یہ وقت ہے کہ سب ایک دوسرےکوتسلیم کریں،جگہ دیں اوراعتمادکےفقدان کوختم کریں، مین تمام جمہوریت پسندقوتوں سےاپیل کرتا ہوں کہ تناؤ کو کم کرنےمیں کرداراداکریں، میں اپیل کر تا ہوں کہ کچھ نان اسٹیک ہولڈرزکاطرزعمل پی ٹی آئی اوراداروں کےدرمیان تناؤکاسبب نہیں بنناچاہیے، بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی جیل میں ہے،ان سے ملاقاتوں کی اجازت ہو تو ہم بہتری کی طرف چلے جائیں گے- ملک تناؤ اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے-
اللہ اکبر اللہ اکبر
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئ شریک نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔
ہم نے آج اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں رکھ دیا ہے اور میرا یقین اور ایمان ہے کہ وہ ذات ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گی بے شک وہی ہمارا دوست اور مددگار ہے ۔۔
“افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان پر دل شدید رنجیدہ ہے۔ ہم مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے افغانیوں کے پاکستان سے زبردستی نکالے جانے پر بھی شدید تحفظات اور افسوس ہے۔”
- عمران خان
#غریب_تیرا_خیرخواہ_قید_میں