سپریم کورٹ کا حکم واضح ہے کہ عمران خان کو کل دوپہر تک ہر صورت شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا ہے، اگر انھوں نے Review دائر کیا ہے تو اس کا فیصلے پر کوئی اثر نہیں، فیصلہ اپنی جگہ قائم ہے اور اگر عملدرآمد نہیں ہوتا تو توہین عدالت کی کاروائی ہوگی۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ
تاریخ کا جبر دیکھیے، جب بھی اس سیاسی جماعت کو عزت اور تذلیل میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا پڑا، انہوں نے بلا جھجھک ہمیشہ رسوائی، خود غرضی اور سیاسی گراوٹ کو ہی ترجیح دی۔
علمتني الحياة..
في ميزان الإنسانية... لا يقاس الحضور بارتفاع الصوت.. بل بعمق الأثر..
لا يقاس الحضور بمن يتحدث عن آلام البشر.. بل بمن يخففها...
لا يقاس بالحضور في عناوين الصحف... بل بالحضور في حياة الناس...
عملتني الحياة بأن الإنسانية لا تحتاج لمن يتحدث باسمها... بل بمن يعمل من أجلها..
الإمارات اختارت عبر تاريخها... وقيمها... ومنذ تأسيسها عبر زايد الخير وإخوانه أن تكون في الجهة الصحيحة من العمل الإنساني..
وستبقى بإذن الله ذات أثر... وصانعة أمل وحياة
#اليوم_العالمي_للعمل_الإنساني
shameful how a former PM is being denied medical treatment even after a court has ordered it. Even more shameful, that leaders of both parties PMLN and PPP have spent the better part of their convictions in private hospitals, domestic and foreign.
Yet most shameful has been Law Minister announcing on national television that “authorities” have decided that SC order is outside “legal parameters”.
as hybrid defense minister loves to say:
کوئی شرم، کوئی حیا، کوئی گریس ہوتی ہے
حکومتی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فروری ۲۰۲۶ تک عمران خان کا بلڈ پریشر نارمل تھا۔ پچھلے دنوں اُن کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبروں کے باوجود بحث خبر دینے والوں پر فوکس رہی، جب کہ اُس خبر کی اب تصدیق ہورہی ہے۔ آنکھ ضائع ہوگئی، ناحق اسیری کو تین سال ہوگئے، ملاقاتیں بند کروائی گئیں، جان لیوا حملے ہوئے اور اب کبھی آپ کی صفوں کے اندر سے نئی بحث شروع کروا کر اصل ایشو کا رخ موڑ دیا جاتا ہے کبھی کوئی شوشہ چھوڑ کر تو کبھی کوئئ تماشہ لگا کر۔ آہستہ آہستہ سب نارملائز ہوچکا ہے۔ لندن پلان سے لے کر آج تک کے تمام واقعات، حادثات اور حالات سے اگر ابھی تک کے تمام حالات اور واقعات کو جانتے ہوئے بھی، ان کے مضموم مقاصد کے متعلق اگر کسی کی آنکھ نہیں کھلتی، نشانہ سیدھا نہیں رکھتا، فوکس نہیں رہتا تو پھر وہ بھی کسی نہ کسی انداز سے سہولت کاری کرکے پاکستان کے مستقبل اور عمران خان کی زندگی سے کھیل رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے خان صاحب نے کہا تھا کہ ذاتی ڈاکٹرز یعنی ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم تک رسائی اور انصاف کے حصول کے لیے کیسسز کی سنوائی تک سپریم کورٹ کے باہر پر امن دھرنا دیا جائے۔خان صاحب کی ہدایت بروقت پہنچائی بھی گئیں اور یاد دہانی بھی کرائی گئی۔
لاحاصل بحثوں میں پڑنے اور خبر دینے والوں کا زائچہ تیار کرنے کے بجائے خان صاحب کی ہدایت پر عمل کریں۔
کیا وہ نا حق مقید ہیں؟ جی۔
کیا خان صاحب کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ ان کی تحویل میں ہیں؟ جی۔
کیا ان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوئ ہیں؟ جی۔
کیا اسیری سے قبل صحت مند ہونے کے باوجود ان کی آنکھ کو نقصان پہنچایا گیا؟ جی۔
کیا ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کن معلومات موصول ہورہی ہیں؟ جی۔
کیا عمران خان کی کسی سے ملاقات کروائ گئی ہے؟ نہیں۔
کیا عمران خان کی آنکھ میں خرابی کی خبر سے لے کر آنکھ ضائع ہونے اور ابھی تک ذاتی ڈاکٹرز یا کسی سے ملاقات ہوئی؟ نہیں۔ تو جب ان کے صحتمند ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی تھی تو بار بار ان کی جان کو لاحق خطرات کا علم ہونے کے باوجود تردید کیوں کی جاتی ہے؟ ان کی فوری ہسپتال منتقلی ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں تمام ٹیسٹ اور علاج کا سوال اہم ہے، ناحق اسیری ختم ہونا اہم ہے یا دیگر بحث؟
ہر فورم استعمال کرکے فوری ذاتی ڈاکٹرزکی موجودگی میں علاج اور کیسسز کی سنوائی اور انصاف کے حصول تک جدوجہد یہی عمران خان کی ہدایت تھی، یہی عمران خان کی ہدایت ہے۔ اس ہفتے خان صاحب کے کیسسز لگے ہیں،مستقل دھرنا تو نہیں دیا گیا امید ہے خان صاحب کے کیسسز کی سنوائی کے لیے متعلقہ تمام زمہ داران پہنچ جائینگے۔ ہاں احتجاج کے لیے کارکن سے لے کر سوشل میڈیا تک کی رائے اور آپشنز مختلف ہوسکتے ہیں لیکن خان صاحب کی یہی ہدایت تھی ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی اور تمام کیسسز کی سنوائی اور انصاف تک وکلاء اراکین اسمبلی اور مرکزی قیادت کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا۔
سعودی عرب کے 10 ارب ڈالر، یہ شروعات ہیں، جیسے روٹی کھاتے ہوئے starter ہوتا ہے، پھر قطر، بحرین، کویت اور UAE کی باری، 3 سال میں 100 ارب ڈالر اور 10 سال میں ایک ٹریلین یعنی 1000 ارب ڈالر
3 سال مکمل ہونے میں باقی 9 رہ گئے، آئے گی آئے گی
راولپنڈی والوں نے ابھی تک محمد حسین والے فالس فلیگ کی CCTV فوٹیج جاری نہیں کی ، اب واضح ہے یہ CCTV فوٹیج بھی 9 مئی کی CCTV فوٹیج چرانے والوں نے چرا لی ہے
یہ کیسا انصاف ہے اور کیسی اندھیر نگری ہے؟ راولپنڈی میں پولیس نے اس شخص کو بے دردی سے قتل کر دیا اور اپنی جان چھڑانے کے لیے فوراً الزام لگا دیا کہ اس نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے مین اسٹریم میڈیا نے بھی بغیر کسی تحقیق کے اس مقتول کو دہشت گرد بنا کر پیش کر دیا۔
لیکن اگر ذرا سی عقل اور منطق استعمال کی جائے تو اس پورے ریاستی بیانیے پر چند سیدھے اور منطقی سوالات اٹھتے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں
اگر اس شخص نے واقعی فورسز پر فائرنگ کی تھی، تو جس تیزی سے ٹی وی چینلز پر اسے دہشت گرد ڈکلیئر کیا گیا، اسی تیزی سے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج یا کوئی ویڈیو ثبوت قوم کو کیوں نہیں دکھایا گیا؟
اگر یہ واقعی کوئی دہشت گردانہ حملہ اور مسلح مقابلہ تھا، تو مقتول کا وہ اسلحہ کہاں ہے جس سے اس نے فائرنگ کی؟ اور کیا فورسز کا کوئی اہلکار اس مبینہ فائرنگ سے زخمی ہوا؟
میڈیا نے کس عدالت یا تفتیشی ایجنسی کی رپورٹ کی بنیاد پر چند لمحوں میں یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ شخص دہشت گرد ہے؟ کیا یہ کوئی پہلے سے تیار شدہ سکرپٹ تھا جو لاش گرتے ہی نیوز اینکرز کو تھما دیا گیا؟
ایک شہری کی جان لے کر الٹا اسی کو غدار اور دہشت گرد ثابت کر دینا ظلم کی بدترین اور بزدلانہ شکل ہے۔ بغیر ثبوت کے کسی کی لاش پر جھوٹ کا یہ محل کھڑا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے
کیا اس ملک میں کوئی ایسا قانون یا ادارہ بچا ہے جو ان وردی والے قاتلوں اور جھوٹ بیچنے والے میڈیا سے ان سوالات کا جواب مانگ سکے؟
کلاشنکوف کی گولیاں 30 بور میں فٹ کرنے والے دعوی کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کردیں گے ،
جس طرح 30 بور سے یہ گولیاں کبھی فائر نہیں ہوسکتیں اسی طرح یہ نالائق کبھی ملک نہیں چلا سکتے
میں نے عمران خان کو ہمیشہ خود سے بڑھ کر غریب سے محبت کرتے دیکھا۔ انشاللہ میرا اللہ غریبوں کو انکے ساتھی دوست سجن سے محروم نہیں کرے گا۔ میرا اللہ عمران خان کی حفاظت کرے گا۔ انشاللہ
🚨اہم سوال کا اہم جواب
سوال: اگر جیل میں عمران خان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہو گا ؟
سہیل آفریدی نے آرمی چیف ، وزیراعظم اور چیف جسٹس کو ذمہ دار ٹھرا دیا
آپ نے اصل صورتحال دیکھنی ہو تو تمام منتخب نمائندوں کے سوشل میڈیا پیجز پر جاکر دیکھیں کہ پچھلے دو سالوں میں انہوں نے کتنی دفعہ عمران خان کی رہائی بارے پریس کانفرنسسز،ویڈیو پیغام یا عام سوشل میڈیا پوسٹ کئے ہیں،اگر آپ میں عقل و فہم ہے تو آپ مسلے کی جڑ تک پہنچ جائینگے۔
خبر یہ ہے کہ
عمران خان کا جیل سے اہم پیغام
عمران خان نے جیل سے پیغام بھجوایا ہے کہ ان کی صحت کے معاملے کو سیاسی مسئلہ نہ بنایا جائے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے تحریکِ انصاف کی ایک اہم شخصیت اور خاندان کے دو افراد کو یہ پیغام پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔عمران خان کا کہنا ہے کہ "میری صحت پر سیاست نہ کریں۔ اگر مجھے ڈاکٹر تک رسائی دینے کے لیے کسی قسم کی حکومت کو گارنٹی درکار ہے تو وہ دے دیں، لیکن خدارا میری صحت کو دیکھتے ہوئے مجھے فوری طور پر ڈاکٹر تک رسائی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔"
🇵🇰 Imran Khan's sister, Aleema, is again pleading for Pakistan's authorities to transfer him to a hospital as serious concerns about his health grow:
"Get Imran treated. We have been demanding this since February: that Imran has the right to be treated.
I appeal to you. Know our pain first.
When your mother or your brother is sick in your house, tell me what your first priority would be."
His family, doctors, and lawyers haven’t been allowed to see him for seven months, which is insane
Source: @Aleema_KhanPK, @JKhanClassified / Writer: Ian
عمران خان کا بلڈ پریشر unstable رہنے والی بات ان کی فیملی تک بھی پہنچا دی گئی ہے۔ انکی فیملی تک مصدقہ ذرائع سے یہ بات پہنچ گئی ہے کہ عمران خان اس چیز سے گزر رہے ہیں: اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1@essa1