ریکارڈ مدّت میں جدید ڈیزائن اور نفاست کیساتھ مکمّل ہونے والا اسلام آباد/راولپنڈی کے سنگم پر "ٹی چوک" کا خوبصورت انٹرچینج/فلائی اوور آپریشنل ہو گیا-
پنجاب کو سنوارنے کے سلسلے میں یہ بھی دوسرے بیشمار منصوبوں کی طرح محترمہ @MaryamNSharif صاحبہ کے ویژن کی علامت ہے- 👏
کشکول
مرشد: کشکول نہیں اٹھاؤں گا۔ مجھے شرم آتی بھیک مانگتے
😁😁😁
مرید: نیا بنے گا پاکستان، نیا بنے گا پاکستان
😝🤣😝
مرشد: آئی ایم ایف پروگرام میں جانا مجبوری ہے۔ جانا ہو گا۔
😏😏😏
مرید: ہاں آئی ایم ایف پروگرام میں نہ جائیں تو کیا ڈیفالٹ ہو جائیں۔
😲😲😲
مرشد: آرمی چیف قوم کا ابو ہوتا ہے۔
💪🏻💪🏻💪🏻
مرید: ابو زندہ باد۔ جو جو پاک فوج پر بھونکتا وہ بھارت کی شہریت لے لے
👌🏻😂👌🏻
مرشد: ایجنسیاں کسی کو یونہی تو نہیں اُٹھاتیں۔
🫣🫣🫣
مرید: آئی ایس آئی حرام خوروں کو ہی اٹھاتی ہے۔
🤐🤐🤐
مرشد: مجھے معلوم ہے ایجنسی میرا فون بھی ٹیپ کرتی۔ جب میں نے کچھ غلط کیا ہی نہیں تو مجھے کیوں ڈر ہو گا؟
👍🏻👍🏻👍🏻
مرید: مارخور زندہ باد۔ حق مرشد۔ صرف غدار مارخور سے ڈرتے ہیں۔
🤣😂🤣
مرشد: ایجنسیاں ہمارے بندے اٹھا رہیں۔ فون ٹیپ کر رہیں۔ یہ جنگل کا قانون ہے کیا ؟
😊😊😊
مرید: یہ بس کیمرے فٹ کرنے میں ماہر ہیں۔ ویڈیوز بناتے ۔ سرحد پر کوئی جنگ نہیں جیتی۔
😲😴😲
مرشد: جنرل باجوہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا
🔪🔪🔪
مرید: باجوہ میر جعفر ہے۔ باجوہ امریکی پٹھو ہے۔
😞😞😞
مرشد: کسی سے بات نہیں کروں گا
😡😡😡
مرید: ہاں کسی سے بات نہیں کرنی۔ ڈٹ کے کھڑا ہے مرشد
🕴🏻🕴🏻🕴🏻
مرشد: مجھ سے کوئی بات ہی نہیں کرتا
😥😥😥
مرید: وہ وقت دور نہیں جب مرشد کو پھر سے یہ سیلوٹ ماریں گے
😏🤭🫡
مرشد: سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ ہو سکتے اسد قیصر کو ٹاسک دیا ہے۔
✍🏻✍🏻✍🏻
مرید: ہاں سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں تو جرنیلوں کی پتلونیں اتر جائیں
😝😝😝
مرشد: صرف عاصم منیر سے بات کروں گا
😍😍😍
مرید: ہاں تو اور کیا کرے ؟ اسی سے بات ہو گی جس کے پاس طاقت ہے
💪🏻✌🏻💪🏻
مرشد: امریکا نے میری حکومت گرائی
😭😭😭
مرید: غلامی نامنظور۔ حقیقی آزادی۔ امریکی مداخلت نامنظور
🫣😁🫣
مرشد: امریکا سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہوں اس کا دشمن نہیں۔
🙏🏻😂🙏🏻
مرید: ہاں تو مرشد نے کب کہا تھا کہ امریکا سے تعلق خراب کرنا ؟
😆😉😆
مرشد نے ڈیل لینے سے انکار کر دیا۔مگر مرشد آرمی چیف سے بات کر کے اسے صاف کہنا چاہتے کہ ڈیل نہیں چاہئیے۔ مجھے اندر ہی رکھو۔ مذاکرات نہیں کروں گا۔ بس آپ کا دیدار کرنا اور بات کرنے کی طلب ہو رہی تھی۔ اداس سا ہو رہا تھا۔ اچھا اب چلتا ہوں۔ کیا کہا ؟ سمجھوتہ کر لوں ؟ ہرگز نہیں۔ کبھی نہیں جھکوں گا۔ کیا کہا کہ پھر کیا بات کرنی تھی ؟ بتا تو دیا ہے کہ مر جاؤں گا ڈیل نہیں کروں گا۔ کیا کہا کہ میں کہنا کیا چاہتا ہوں ؟ کہہ تو دیا کہ حقیقی آزادی چاہتا۔ کیا کہا ادھر کیا لینے آئے پھر ؟ بتایا تو ہے کہ بس اداس ہو گیا تھا سوچا بات کر کے بتا دوں کہ خود ہی حقیقی آزادی دے دو اور مسئلہ ختم کرو۔
جرنیل نے کیپ اتار کے ٹیبل پر رکھی۔ معین اختر سٹائل میں بولے “ ابے سا*** ، معاف کرنا میں بات کرتے ذرا اِدھر اُدھر نکل جاتا ہوں۔”
مرید نے رات سونے سے قبل سیاست ڈاٹ پی کے کا پیج کھولا۔ اس پر پوسٹ لگی دیکھی “مرشد کا صاف انکار وغیرہ وغیرہ ”۔صابر شاکر، ملیحہ ہاشمی،صدیق جان،شاہین صہبائی کے ٹویٹس نما تبصرے دیکھے۔ آبدیدہ ہوتے موبائل سرہانے تلے رکھا، سسکیاں بھریں اور دل میں یہ کہہ کر سو گیا “ مرشد یہاں سب یزیدی ہیں۔باقی صبح اٹھ کے دیکھتا حرام خوروں کو۔”
مرشد فاسٹ باؤلر تھے۔ وہ گیند کو ایک سائیڈ سے تھوک لگا کر چمکاتے دوسری سائیڈ رف رکھتے کہ نجانے کب آؤٹ سوئنگ کرنی پڑے اور کب ان سوئنگ۔ مرید کو یہ بات سمجھ نہیں آتی وہ مرشد کی سوئنگ کے ساتھ آپ بھی اسی سمت میں سوئنگ ہو جاتا۔