سانحہ جامعہ حفصہ و لال مسجد🥹
جولائی کی یاد آج بھی دل کو رُلاتی ہے
لال مسجد کی داستان آنکھوں کو نم کر جاتی ہے
برقع پوش بیٹیوں کی ہمت زمانہ یاد رکھے
حق کی صدا ہر دور میں دلوں کو جگاتی ہے
یہ وا��عہ تاریخ کا ایک دردناک باب ہے
جو نسلوں کو سوچنے اور سبق لینے کی دعوت دیتا ہے۔
کب تک اس فانی دنیا کے اندھیروں میں بھٹکتے رہو گے؟
اٹھو! کہ پکار رہی ہے تمہیں مظلوموں کی آہیں اور حق کی راہیں
اس اجنبی دنیا میں وہی زندہ ہے جو غیرتِ ایمانی سے لیس ہے
باقی تو سب چلتی پھرتی لاشیں ہیں جن کا کوئی مقصد نہیں۔"
حیرت ہے صرف ایک ملکہ برطانیہ کی تصویر پر تنقید کر رہے ۔۔
او بابا
اس میں کونسی ایسی چیز ہے جو اپنی ثقافت تہذیب روایت علاقائیت یا اسلامی سپاہ گری سے میل کھاتی ۔۔
سب کچھ ہی انگریزی راج کی نشانی ہے۔
جس پر فخر کیا جا رہا ۔
جو فوج اپنے اندر سے غلامیت کے آثار ختم نہ کرسکی ۔
اور ناں ہی کرسکتی ہے کیونکہ اختیار ہی نہیں اجازت تو دور کی بات ۔۔۔
قوم اس فوج سے امید لگاتی کہ وہ ہماری آزادی کی محافظ بنے گی ۔۔۔
دو مئی ایبٹ آباد واقعے میں بھی اسی غلامیت کا تسلسل وفاداری کے ساتھ برقرار رکھا گیا تھا
جن کا وطن جنکی فوج جن کی حاکمیت
انکا جو دل کیا انہوں نے کیا۔
کسی کو تکلیف ہو تو اپنا ملک آزاد کروالے ۔
ورنہ کم از کم ان اکڑی گردنوں کو اسلامی فوج نہ سمجھے ۔۔
کبھی ضمیر بیچ ڈالا کبھی غیرت کو بیچا بڑا نام کمایا ہم نے غداروں کے دفتر میں اب ڈھونڈتے ہو سایہ تپتی ہوئی اس دھوپ میں خود ہی کاٹا تھا جس شجر کو اپنے ہی خنجر سے🥹💔
اور دشمنوں کے مقابلے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق قوت اور گھوڑے تیار رکھو تاکہ اللہ کے اور اپنے دشمنوں پر رعب ڈال سکو۔ تم اللہ کی راہ میں جو بھی خرچ کرو گے اس کا پورا اجر پاؤ گے اور تمہارا حق نہیں مارا جائے گا۔