کپتانوں کے کپتان عمران خان کا بیٹوں کا ٹیسٹ میچ کے دوران مائکل ایتھرٹن سے انٹرویو،
والد کا پورٹریٹ دیکھ کر بیٹے جزباتی ہوگیے۔
چار سال سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی۔
خان پر مظالم پر انٹرنینشل کرکٹ ،دنیائے کرکٹ کے بڑے نام کھل کر اب آواز بلند کر رہیں ہیں۔
شوکت خانم کینسر ہسپتال جہاں امیر اور غریب کا علاج ایک ہی پروٹوکول کےساتھ کیا جاتا ہے یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے
کراچی شوکت خانم ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اس کیلیے عطیات دل کھول کردیں اور انسانیت کی مدد کریں
”عاشقِ رسول ﷺہونے کیلئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں، اگر اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کے دِل میں نبی ﷺ کی محبت ڈال دے تو دُنیا میں اِس سے زیادہ خوش قسمت انسان کوئی نہیں ہے۔“
چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان
” میرا بھائی اور میں پچھلے کافی سالوں سے اپنے والد سے ملاقات نہیں کر سکے۔
گزشتہ چھ ماہ سے تو ہماری ان سے بات تک نہیں ہو سکی۔
ہماری فیملی کو 10 ماہ تک عمران خان سے ملاقات اور رسائی سے محروم رکھا گیا۔
عمران خان کو ان کے تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔
میرے والد جس صورتحال سے گزر رہے ہیں، وہ ان کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ “
عمران خان کے بیٹے سلیمان خان کی پریس کانفرنس
#TorturingImranKhanIsACrime
#StopTortureOnNationalHero
اربوں کے جہاز لے لیے جاتے ہیں، اربوں کے رہائشی منصوبوں می اشرافیہ کے محلات پر بنائے جاتے ہیں، پارلیمینٹیرین کی رہائش کی آرائش و زیبائش پر پیسہ خرچ کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مگر کبھی عوام کے لئے ایمرجنسی سہولیات پر توجہ نہیں ہوتی۔
یہ پہلا واقعہ ہے نہ آخری،
جبکہ ترجیحات درست نہ کر لی جائیں۔
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان
مصطفی کمال کہتا ہے کہ:
“یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ اس میں آگ بجھانے کی سہولت جدید ہسپتالوں جیسی نہیں”
جس ۹ کروڑ کی سرکاری گاڑی میں گھومتے ہیں وہ “جدید”۔
منسٹرز آنکلیو میں جس پچاس کروڑ کے سرکاری گھر میں رہتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری آفس میں جو کمپیوٹرز استعمال کرتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری خرچوں پر جن ہوائ جہازوں پر جاتے ہیں وہ “جدید”
اور
جس کیمرے کے سامنے کھڑے ہوکر یہ بیان دیا ہے وہ بھی “جدید”۔ فقط غریب کے لئیے ہر چیز “قدیم”۔
ذہنی مریض عاصم منیر اور سسلیئن مافیا شریف خاندان نے سیاسی مخالفت کو شدید نفرت میں بدل دیا ہے، لوگوں کو اتنی تکلیف نہیں دینی چاہیے کہ ان کو خوشی آپ کا جنازہ دیکھ کر ملے۔
لاہور میں پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن اشتیاق خان نے آج 12 ربیع الاوّل کے موقع پر لنگر کا اہتمام کیا ہوا تھا اور وہ دیگر لوگوں کی طرح عقیدت و محبت کے ساتھ لنگر تقسیم کر رہے تھے، پنجاب کی تھیف منسٹر مریم صفدر اور شریفوں کی غلام پولیس کو یہ بات ناگوار گزری اور پنجاب پولیس نے اشتیاق خان کے گھر پر دھاوا بول دیا، اس دوران پولیس نے اشتیاق اور دیگر کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنایا، پنجاب پولیس کے ظالمانہ تشدد کے دوران اشتیاق کھولتی ہوئی تیل کی کڑاہی میں جا گرا جس کے باعث اس کا پورا جسم بری طرح جھلس گیا، اشتیاق خان کو میو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں شریفوں کی پنجاب پولیس اس کی فیملی سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دے رہی۔
تھیف منسٹر مریم صفدر کے حکم پر تحریک انصاف کے 16 کارکنان گرفتار جبکہ 2 جلتے تیل کی کڑاہی میں گر کر شدید زخمی ہوئے، اور تحریکِ انصاف کے رہنما زبیر نیازی کی والدہ سمیت 20 سے زائد بزرگ، عورتیں اور بچے مکان میں باہر سے تالے لگا کر محصور کر دیئے گئے ہیں۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
میاں محمود الرشید کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی بد ترین تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سوچنا چاہیئے کہ انکا زاتی عناد لوگوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔
جن غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ملک و قوم کی جس تباہی کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ تمام خدشات ان چار سالوں میں سو فیصد درست ثابت ہوچکے ہیں، ۲۰۲۳ میں جنوبی اضلاع کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے اور کتاب کی صورت مرتب کیے آج آپ گلی محلوں بلکہ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ابھی تو مالاکنڈ ریجن کے چند واقعات میں آپ کے کردار پر پولیس جوان بولے نہیں، جس دن وہ بولے آپ کے مونہوں پر کیا رہ جائیگا؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وارن کرنے والا، جنازے اٹھانے سے پہلے آواز اٹھانے والا، آگ بجھانے والا؛ غدار، دہشت گرد اور باغی بنا دیا جاتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے چکر میں قوم بس دن کے ایونٹس پر ریکشن تک محدود ہوگئ ہے۔ آج ہر کسی کی ٹائم لائن پر بنوں لکی مروت کی ویڈیوز تو ہیں لیکن آج بھی دہشت گردوں کو لانے سے لے کر، معصوم لوگوں کی شہادتوں، امن کمیٹیز کے قیام اور لشکر کے نئے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش نا کر کے سب اس درندگی کو مزید ایندھن مہیا کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد پختونخواہ میں جرنیلوں کی ہوس کی وجہ سے نفرت اس مقام تک آگئی ہے کہ نا ہی کسی پولیس کے تبادلے سے کام ہوگا نا ہی ایک ہفتے میں کئی بار ڈی آئی جیز، ڈی پی اوز اور دیگر کے تبادلوں سے پولیس میں آپ کی نیک نامی ہوگی۔
۲۰۲۳-۲۴ میں عوام کے بعد پولیس میں میڈ اپ دہشت گردی کے خلاف بڑھتی تشویش کے متعلق آپ کو وارن کیا، آج وہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔
ریاستی چھتری تلے امن کمیٹیز بنانے کے وقت خبردار کیا، آج وہی امن کمیٹیز بھی آپ کی حقیقت جان کر آپ سے نبردآزما ہیں۔
آج یہ بھی بتا دوں جو یہ آخری چیز رہتی ہے یہ جو امن لشکر بنانے کی آپ کی کوششیں ہیں جسے اگر آپ زبردستی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو ہر شہری کے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو جب کل آپ کی پالیسی بدل جائے گی تو ان بندوقوں کا رُخ کس جانب ہوگا کچھ سوچاہے؟
اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو آپ کے مزید شر سے بچائے۔
عمران خان کی مسلسل حراست اور ان کے ساتھ کیا جانے والا حیران کن ناروا سلوک انسانی حقوق، جمہوریت اور بنیادی شائستگی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ میں ان کی رہائی کے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر دہراتا ہوں۔ برطانوی رکنِ پارلیمنٹ جیریمی کوربن
#pakistan@jeremycorbyn
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
ڈاکٹر فیصل کا مطالبہ 🚨
مجھے خان صاحب کو دیکھے ہوئے تقریباً 2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، عمران خان کے مؤثر اور جامع علاج کے لیے ذاتی ڈاکٹرز کو رسائی عمران خان تک رسائی دی جائے
#TorturingImranKhanIsACrime
#TorturingImranKhanIsACrime
Brilliant Write Up against the Torture on Imran Khan by @Jemima_Khan.
“For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.”
Full write up below in quoted tweet:
ان تمام لوگوں کا اور ۴ سال میں جتنے لوگ جیل گئے، شہید ہوئے، زخمی ہوئے، ملیٹیری قید میں گئے، جن کے گھر والے ہراساں ہوئے، جن کے کاروبار تباہ ہوئے، جن کی نوکریاں گئی، جن کو دھمکایا گیا، جو جلا وطن ہوئے، اور جو ہراساں ہوئے مگر ہمت نہیں ہاری اور ڈٹے رہے، ان کو دونوں ہاتھوں کا salute ہے!