جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب
ہم نے اس ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا ہے ۔
کبھی نہیں چاہا ہے کہ کوئی بات کریں اور وہ آئین وقانون سے تجاوز ہو ۔
ہم آئین اور قانون کے اندر اپنے نظریے کے پرچار کا حق رکھتے ہیں ۔
جو میں نے کہنا تھا ۔میں سمجھ رہا تھا کہ کچھ کہوں گا اور آپ کی تائید حاصل کرونگا ۔
ہم اس ملک میں فعال سیاست کررہے ہیں ۔
ہم نے انتہاء پسندی کی سیاست نہیں کی ۔
اگر حق خود ارادی مانگا ہے تو عوام کی تائید کے ساتھ ۔
آج سیاست پارلیمنٹ اور آئین کو یرغمال بنا دیا گیا ہے۔
ان حکمرانوں نے اپنے رویوں اور خوشامد کے ساتھ عوام ،پارلیمنٹ ، آئین کو کمزور کیا اور اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا ۔
اپنے حق کا مطالبہ خوشامد نہیں ہے ۔
ہم نے طویل جدوجہد کی ہے ۔
پی ڈی ایم کے اجلاس میں ہمیشہ سوال کرتا تھا کہ کم ازکم میری زندگی میں اس بات کا تجزیہ کریں کہ اس پوری جدوجہد میں جمہوریت طاقتور بنی کہ آمرانہ طاقت مضبوط بنی ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو خواہشات سے بھرا ہے ۔اور تمام بشری انسانی بہیمی خواہشات سے بھر دیا ہے ۔اس کے باوجود قانون اتارا اور حکم دیا کہ خواہشات کی پیروی نہیں کرنی ۔قانون کی پیروی نہیں کرنی ۔یہی چیز اعتدال پیدا کرتا ہے ۔
دہشت گردی امریکہ کی خوا ہش ہے ۔اور ہمارے حکمران اس خواہش کو پورا کرتے ہیں ۔
مذہب کی ایسی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ اسلام سے متنفر ہو ۔
جے یو آئی نے فیصلہ کیا کہ میرا مذہب امن کی بات کرتا ہے ۔انسانی حقوق کی بات کرتا ہے ۔
دنیا بھر کے قوانین انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بنتا ہے ۔
قانون مضبوط ہو تو کوئی کسی کے حق کی پامالی نہیں کرسکتا ۔
ہم نے پاکستان میں یہی روش اختیار کی ۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر متحرک ہے ۔ وفاق المدارس کے تحت مدارس اسلامی علوم کے لئے کام کر رہے ہیں ۔
آپنے ہمارے مدارس کے نصاب ،تعلیمی نظام اور مالیاتی نظام کی تصدیق کی ہے ۔ مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہورہی ، اکاؤنٹ کیوں نہیں کھل رہے ۔ اس کا مطلب آپ مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتا ۔
ہم نے اس ملک کو پرامن بنانے کی کوشش کی ۔
ایک گروہ پہاڑوں پر ہے وہ جب بندوق لے کر افغانستان جا رہا تھا تو کیا آپ نے ان کا راستہ روکا ؟ بلکہ ان کو تھپکی دی ۔ طالبان کے ساتھ بات کے لئے آئی ایس آئی کا چیف گیا ہے ۔
ان دہشتگردوں کو حوصلہ آپ کی صفوں سے ملا ہے ۔
مجھے سکھاتے ہو شہید کا مقام کیا ہے ۔ میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں ۔ میں تمھیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں شہید کی کیا قدر ومنزلت ہے ۔
کیا کبھی بتایا قوم کو کہ کارگل میں کتنے شہید ہوئے اور کتنوں کی لاشیں وصول کیں ؟ تم اپنے شہداء کے جنازے وصول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔
کرنل شیر خان کی لاش انڈیا کے اصرار پر وصول کی ۔
پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے ۔
ہر ادارے کا دائرہ کار متعین ہے۔ اگر آپ کو ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے ۔مجھے اپنے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لئے نہیں جنا ۔
#BroadcastMaulanaNow
#LawyersStandWithMaulana
مولانا فضل الرحمان کا ایک پرانا انٹرویو جس میں انہوں بتایا تھا کہ الیکشن میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا پتہ چلنے پر جے یو آئی نے انتخابی سیاست سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تو خفیہ اداروں نے رابطہ کیا اور معذرت کرتے ہوئے درخواست کی آپ فیصلہ واپس لیں ہم آئندہ مداخلت نہیں کرینگے ۔۔۔۔
جلو پاور ہاؤس داسو کا ٹرانسفارمر ایک ہفتے سے ٹھیک نہ ہوسکا۔ اب اس کو ٹھیک کروانے کے لئے نیچے لےکر جانا ہوگا۔ انتظامیہ کی طرف سے لاپرواہی کرنے پر لوگ مزید بجلی سے محروم رہیں ۔اس شدید گرمی میں لوگ بےحال ہورہے ہیں چیف سیکرٹری کو فوراً نوٹس لے کر اس کو
مرمت کروائیں
@CSKPOfficial
یوں ہی غلامی پر رضامند نہیں کرسکتا۔
تو ہی میرے سوچ کو پابند نہیں کرسکتا۔
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ #سلیکشن_مافیا_نامنظور#مولانا_شان_پاکستان#آئین_کاپاسبان_مولانافضل_الرحمن#آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو#مولانا_کی_للکار #لشکر_نہیں_خود_لڑو#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
روزانہ مولانا فضل الرحمن کی کردار کشی میڈیا پر ہورہاہے
یہ میڈیا بلوچستان میں سڑکوں پر پڑے ہوئے پولیس شہداء کے لاشوں پر کیوں بات نہیں کر رہا؟مولانا صاحب کے خلاف 42 پریس کانفرنسز اور زیارت شہداء کے بارے میں خاموشی
کیا یہ شہداء کی توہین اور بے توقیری نہیں ہے
نہ کوئی شرم نہ کوئی حیا
مولانا فضل الرحمن صاحب سے معافی کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن ان کی جماعت نے ایک اور بیان پوسٹ کردیا ، اب تک یہی نظر آرہا ہے کہ وہ اس لڑائی کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں ، آگے آگے دیکھیے ، ہوتا ہے کیا
مولانا صاحب: اگلا الیکشن دہلی یا نیو دہلی سے لڑنے کا ارادہ ہے؟
(فاروق ستار)
فاروق ستار صاحب :ذرا یہ تو بتا دیں آپ کا ارادہ کیا ہے؟اگلا الیکشن کراچی،نائن زیرو، سے لڑنا ہے یا اپنے پرانے بانی کے حلقے،،لندن زیرو زیرو فور فور،،(0044) سے؟؟