رعب اور دباؤ نہیں چلے گا ۔
کردارکشی کرنے والے دیہاڑی دار کبھی اپنے محکمے کے آقاؤں سے یہ پوچھنے کی جرأت کیوں نہیں کرلیتے کہ اگر یہ الزامات اور پروپیگنڈا سچا ہے جو ان کے ذریعے مولانا صاحب پر لگ رہا ہے ۔
تو ہم سے اتنی دیہاڑیاں کیوں لگوا رہے ہو ۔ آپ تو اشرافیہ ہیں طاقتور یہ جو مولانا کے جرائم گنوائے جارہے ہیں یہ تو معمولی نہیں ۔
پھر تو کیس بننا چاہئے
پھر کاروائی ہونی چاہئے
پھر عملی قدم ہونا چاہئے
پھر کوئی فیصلہ کن اقدام ہونا چاہئے
لیکن آپ جانتے ہیں یہ کرنے کی ان میں اخلاقی جرأت تک ہی نہیں ۔ کیوں کہ وہ سارے کا سارا جھوٹ بول رہے ہیں۔
وہ اسی لئے بازاری زبان کے استعمال پر اتر ائے ہیں
ان کے پاس دلیل اور ثبوت کا نام ونشان تک نہیں
اسی لئے وہ ہر مکار کی طرح مکروفریب اور کردارکشی سے کام لے رہے ہیں۔
بدقسمتی سے جب دلیل، ثبوت اور حقائق کمزور پڑ جائیں تو بعض لوگ بازاری زبان، بہتان تراشی اور نفرت انگیز مہم جوئی کا سہارا لیتے ہیں۔
مگر مہذب معاشروں میں اختلاف کا معیار الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، شواہد اور آئین و قانون ہوتے ہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ نہیں بن جاتا۔ سچ کی بنیاد ہمیشہ حقائق، ثبوت اور قانون پر ہوتی ہے، نہ کہ شور، پروپیگنڈے یا کردارکشی پر۔
#عوام_مولانا_کے_سنگ
#حق_کی_آواز_جمعیت
#نکے_دا_پروپیگنڈا
#شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ
#ذخائر_کے_چور