الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے حجِ بیت اللہ کی سعادت سے نوازا۔
بہت سے لوگوں نے قیاس و گمان کیا کہ یہ سفر کس نے کروایا اور کیسے ہوا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا خالصانہ ذاتی فیصلہ تھا۔
میں نے اپنے دل میں ایک روحانی منزل پائی تھی جہاں حج فرض ادا کرنا ضروری ہوگیا۔
اس مقدس سفر نے میری روح میں ایک ایسی الٰہی چنگاری روشن کردی ہے جو ہمیشہ جلتی رہے گی۔
دعا ہے کہ میرے جیسے بہت سے بھائی اور بہنیں بھی اس روحانی سفر کا حوصلہ کریں، حج کی سعادت حاصل کریں اور اسی لُطفِ الٰہی سے سرشار ہوں۔
دھاندلیوں کے ذریعے سے نہیں۔
دھمکیوں کے ذریعے سے نہیں
اسلحے کی ذریعے سے نہیں۔بلکہ مولانا کو دلیل کی بنیاد پر سیاست سے باہر کردو۔اگر مولانا جیسے معتدل سیاست دان کی جان کو خطرہ ہے۔تو پھر پاکستانی کی سیاست میں اعتدال اور شرافت کی کوی جگہ نہیں
بنگلہ دیش کی ڈاکٹر کا غیر معمولی کارنامہ
دل کی گہرائیوں سے اس بہادر ڈاکٹر کو سلام
جب جدید ڈیجیٹل مشینیں بھی کام نہ کر سکیں تو انسانیت اور پیشہ ورانہ جذبہ ہی کام آتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر سُریکھا چودھری نے ایک ناقابلِ یقین قدم اٹھاتے ہوئے تقریباً سات منٹ تک اپنے منہ کے ذریعے نومولود بچے کو آکسیجن دی، جس کے باعث اس معصوم کی جان بچ گئی۔
واقعی ایسے لوگ ہمارے معاشرے کا فخر ہیں
اللہ تعالیٰ ایسی خدمت کرنے والوں کو سلامت رکھے
امریکی حملے کا ٹل جانا حالات کی عارضی بہتری خوش آئند ہے،پاکستان سمیت چار برادر اسلامی ممالک خطہ میں پائیدار اور مستقل امن کے قیام کیلئے اس دورانیہ کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
اسلامی برادری کا اس بات پر متفق ہونا ضروری ہے کہ اسرائیل کا وجود اب عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ عرب اور خلیجی ممالک فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کی صورت میں ہی اپنے ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر کرسکتے ہیں۔
صیہونی شیطان امن اور انسانیت کے دشمن ھیں، امن عمل کے دوران لبنان پر اسرائیلی حملہ ننگی جارحیت ھے ،گریٹر اسرائیل بنانے کے جنگی جنون میں یہ خود مٹ جائیں گے۔۔۔
امریکی حکمرانوں نے ناجائز اور جارح ریاست اسرائیل کی سرپرستی کر کے اپنا وقار ، دبدبہ اور عالمی اثر ورسوخ بہت کم کر دیا ھے
پوری دنیا صیہونیوں پر تھوک رھی ھے ،کوئ قوم صیہونی شیطانوں کو منہ لگانے کیلئے تیار نہیں ۔۔
اللّٰہ کےٹھکراۓ ھوؤں کا ٹھکانہ صرف جہنم ھے۔
غزہ ، ایران اور لبنان کے بے گناھوں کا لہو رنگ لا رھا ھے۔۔
الحمدللہ!
آواز اٹھائی گئی… اور نتیجہ آ گیا۔
ڈرامہ “فسانہ مارٹ کا” کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم رنگ لے آئی اور بالآخر اس پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر قوم حق کے لیے کھڑی ہو جائے تو آواز کبھی ضائع نہیں جاتی۔
ان تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے اس مہم میں حصہ لیا۔ بالخصوص محراب و منبر کا شکریہ جنہوں نے بروقت رہنمائی فراہم کی اور رمضان کی حرمت کے لیے قیادت کی۔
یہ بات یاد رکھیں:
سوشل میڈیا کو کمزور نہ سمجھیں۔
آپ کا ایک لائک، ایک شیئر اور ایک کمنٹ بھی تبدیلی کی طاقت بن سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم تھکیں نہیں، جھکیں نہیں اور ہار نہ مانیں۔
اور یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوتا۔
اس وقت ہم پی ٹی اے اور پاکستان کی نیٹ ورک کمپنیوں کے خلاف جاری مہم میں بھی اپنی آواز بلند کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ناجائز کٹوتیوں اور زیادتیوں سے بچایا جا سکے۔
اسی طرح ہمارا اگلا ہدف رمضان ٹرانسمشن ہے، کیونکہ رمضان کے نام پر فحاشی اور بے حیائی کو روکنا صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کا معاملہ ہے۔
یاد رکھیں:
اگر ہم متحد رہیں تو ان شاء اللہ ایک ایک کر کے ہر مسئلہ حل کروانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔
بس ساتھ کھڑے رہیں…
کیونکہ آپ کی آواز ہی اصل طاقت ہے۔
"پاکستان میں قیامت کا منظر"
قیامت اگر کہیں اور نہیں آئی تو کم از کم پاکستان میں اس کے آثار ضرور نظر آ رہے ہیں۔
ہم اب قوم نہیں رہے، ہم ایک ہجوم بن چکے ہیں۔ ایسا ہجوم جو ہر لمحہ نفسا نفسی میں مبتلا ہے، جسے صرف اپنا وقتی فائدہ نظر آتا ہے، چاہے اس کے لیے دوسروں کو دھکے دینے پڑیں، گالیاں دینی پڑیں یا لڑائی جھگڑا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
آج پورے ملک میں جو منظر تھا، وہ کسی مہذب معاشرے کا نہیں بلکہ ایک بکھرے ہوئے ہجوم کا تھا۔ صرف ٹنکی فل کروانے کے لیے لمبی قطاریں، چیخ و پکار، گالیاں، لڑائیاں اور یہاں تک کہ گولیاں تک چل گئیں۔
کسی نے بائیک پر 600 روپے بچا لیے، کسی نے گاڑی میں تقریباً 3000 روپے۔ ٹنکی تو فل ہو گئی، لیکن جب یہ ختم ہوگا تو پھر وہی مہنگا پٹرول ہی ڈلوانا پڑے گا۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پٹرول مہنگا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سوچنے والی قوم نہیں رہے، ردعمل دینے والا ہجوم بن چکے ہیں۔
اگر یہی لوگ ہجوم بن کر پٹرول پمپوں پر ٹوٹنے کے بجائے قوم بن کر چند دن کا بائیکاٹ کر دیتے تو شاید حکمرانوں کو بھی عقل آ جاتی۔ شاید ان کے پروٹوکول کم ہوتے، مفت پٹرول اور شاہانہ مراعات پر نظرثانی ہوتی، اور عوام کو کچھ ریلیف مل جاتا۔
لیکن افسوس…
یہ ہجوم اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ کوئی ایک اعلان کر دے تو یہ فوراً غلام بن کر ایک دوسرے سے لڑنے لگتا ہے۔
نہ اتحاد ہے، نہ شعور، نہ اجتماعی سوچ۔
معذرت، مگر یہی ہماری تلخ حقیقت ہے۔
محمد آفاق خان
كل جمعه كى تقرير ميں بندے نے ایک ویڈیو کے حوالے سے جوبات کہی کہ اسرائیل اور انڈیا نے افغانستان کو مدد فراھم کرنے کامعاھدہ کیا ہے اسکے بارے میں معلوم ھواکہ وہ ویڈیو جعلی تھی مجھے افسوس ہے کہ مجھے اس ویڈیو کی وجہ سے مغالطہ ہوا اس پر استغفار کرتا ہوں میری پوری تقریر اب شائع ھورہی ہے اس سے یہ حصہ نکال دیاگیا ھے اور مزید وضاحت بھی کردی گئی ہے
@ImranRiazKhan “گیلے تیتر” یہ تین سال پرانی وڈیو ہے ۔ ڈالروں کے لیے کب تک سوشل میڈیا پر جھوٹ اور فراڈ بیچتے رہو گے ؟ کبھی سچ بول کر دیکھو ڈالر تو کم ملیں گے لیکن سکون بہت ملے گا ۔
جاز/ زونگ/ ٹیلی نار / یوفون سب کے سب یہ بکواس ترین نیٹورک ہیں اتنے مہنگے ترین پیکجز انٹرنیٹ سپیڈ نا ہونے کے برابر کیا ان کے خلاف بھی کارروائی کون کرے گا؟