اسی لیے حکومت جیو کی نشریات بحال کرنا چاہتی ہے
کل جیو کے 7 بجے والے پروگرام کے 4 رکنی پینل نے تحقیقات اور ٹرائل کے بغیر فیصلہ سنایا اور بیانیہ بنایا کہ رضا ڈار کے جرم میں اسحاق ڈار، مریم نواز ،شریف خاندان اور کسی اور حکومتی شخصیت کا بالکل کوئی کردار نہیں،
ان سے چاروں سے کوئی پوچھے کہ یہ تحقیات کہاں ہوئیں؟
سوالات یہ ہیں کہ
لڑکیوں کے ویزے کس نے لگوائے؟
ان کو ائیرپورٹ پر ریسیو کرنے والوں میں کون کون شامل تھا؟
وہ مری اسلام آباد،نتھیا گلی اور لاہور میں کس کس سے ملیں؟
رضا ڈار کے پاس انویسٹمنٹ کے پیسے کہاں سے آئے تھے؟
تاوان کس کے اکاؤنٹ میں منگوایا گیا ؟
لڑکیاں کو اعتماد دلانے کے لیے پاکستان پہنچنے پر کس کس سے ملوایا گیا ؟؟؟
کیا رضا ڈار کے موبائل کا فرانزک ہوا ؟
جس گھر میں رکھا گیا وہ کس کا تھا؟
نیفے میں پسٹل کیوں نہ چلا ؟
پنجاب کے رائج قانون کے تحت مسخ شدہ لاشیں کیوں نہیں ملیں؟
اور بہت سے سوالات ہیں۔۔۔۔
جیو حکومت کے لیے اس وقت بہت ضروری ہے ، اسی لیے جیو کے خلاف پچھلے جمعہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف اب تک سخت ترین کریک ڈاؤن جاری ہے اور آنے والے جمعہ پر یقینی بنایا جارہا ہے کہ کوئی ایک بھی شخص احتجاج کے لیے نہ نکل پائے
فیلڈ مارشل وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم کے وسط میں کیوں ہیں؟ کیا پروٹوکول کے اعتبار سے یہ درست ہے؟ جب تک ہم اپنی الائنمنٹ درست نہیں کریں گے دائروں میں ہی گھومتے رہیں گے۔
بسم اللّٰه الرحمن الرحیم
السلام عليكم ورحمۃ اللّٰه💕
دعائیں کبھی ٹھکرائی نہیں جاتیں ـ بس بعض حالات میں ٹہرائی جاتی ہے کبھی بعد کے لیئے تو کبھی میزان کے لیےـ دعا ضرور مانگیںں اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اور اپنی دعاؤں کو بےغرض ہو کر مانگیں کہ وہ دے تو اس کی شان ـ نا بھی دے تو اس کی قدرت!
انسانیت بھی سوال کرتی ہے کہ ایک قیدی کو اتنی طویل تنہائی میں رکھ کر اس کی بینائی تک متاثر ہو جائے۔ ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی کھو دینا صرف ایک فرد نہیں، انصاف کے نظام پر بھی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
#ImranKhanHealthEmergency
خدا کے وجود کا یقین اور روز جزا پہ ایمان رکھنے والا کسی صورت بھی ظالم نہیں ہوسکتا خاص طور پہ اگر وہ حکمران ہو یا قاضی اسلئے میں ان لوگوں کو خدا کے وجود اور روز جزا کا منکر سمجھتا ہوں جو حکمران بھی ہوں اور ظالم بھی!
منیب فاروق کا کہنا ہے عمران خان کی حکومت بنی تھی تو متقدرہ حلقوں نے فوج کی طرف سے ہدایت کی کھل کر تنقید کرو منیب فاروق نے اب یہ بات واضح کردی کے عاصمہ شیرازی شاہزیب خانزادہ ،انصار عباسی یہ سب جو اچھل کر آۓ تھے عمران خان کے خلاف ان سب کو آرڈر تھا اسٹبلشمنٹ کا
عمران خان جب روس گئے تو ایک صاحب جن کو ارشد صاحب گنجا شیطان نام لیتے تھے اس گنجے شیطان نے ڈھیرو ڈھیر صحافیوں کو میسج بھیجنے شروع کردیے یہ دیکھو یہ چلا گیا یہ چلا دے چلا گیا
عدیل راجہ
"دو معاشرے: انسانی معاشرہ اور جانوروں کا معاشرہ۔ جانوروں کا معاشرہ ظلم کا مقابلہ نہیں کرتا؛ بھیڑ بکریاں ظالم کے سامنے نہیں کھڑی ہوتیں۔ انسان—جو دنیا کے عظیم ترین لیڈر، نبی اکرم ﷺ کی امت ہو—اس پر فرض ہے کہ وہ ظلم کے سامنے کھڑا ہو۔ بھیڑ بکریاں نہ بنیں، خوف کے بت کی پوجا نہ کریں!" عمران خان
@ImranKhanPTI
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
عمران خان جس روز وزیراعظم بنا تو عمران خان نے دھاندلی کے الزامات پر اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ اگر دھاندلی پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں تو تحریک انصاف تیار ہے۔ اگر کوئی حلقہ تحقیقات کے لیے کھولنا چاہتے ہیں تو تحریک انصاف تیار ہے۔ اسکے بعد اپوزیشن نے کبھی بھی کسی کمیشن یا کسی حلقہ جاتی تحقیقات کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ بھی نوٹ کرنے والی بات ہے کہ 2013 کے انتخابات کے بعد اسی طرح کی کمیشن کے قیام کے لیے تحریک انصاف نے 126 دن دھرنا دیا لیکن ن لیگ نے کمیشن نہیں بنایا۔ تین سال تک تحریک انصاف صرف چار حلقوں میں تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی لیکن نواز شریف کو تحقیقات کی جرات نا ہوئی۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2018 میں تحریک انصاف کی دھاندلی پیٹیشنز کی تعداد کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ تھیں۔ ن لیگ کے خواجہ آصف نے الیکشن کی رات جنرل باجوہ سے مدد مانگنے کا اعتراف ٹی وی پر کیا۔ تحریک بائیس ، سو ، پانچ سو ، ہزار اور بارہ سو ووٹس کے مارجن سے بھی کئی نشستیں ہاری لیکن نا کوئی جعلی فارم سینتالیس بنا نا ضرورت سے زیادہ ووٹ مسترد کرکے اپنا امیدوار جتوایا گیا۔
بطور تحریک انصاف یہ افر ہمیں قبول ہے قیادت بھی قبول کرے
کرو تحقیات الیکشن 2018 بھی اور 2024 بھی
دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجانا
ہمارا تو یقین ہے 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر پی ٹی آئی کو نقصان دیا گیا
2018 سے تحقیقات کریں، وہ حکومت جائز تھی تو یہ بھی جائز ہے۔ شہباز شریف
مناسب بات ہے، 18 سے تحقیقات کریں اور دیکھیں کس الیکشن میں 32 ہزار لینے والا اسمبلی پہنچایا گیا، ایک لاکھ 52 ہزار والا ہار گیا۔ تحریک انصاف کو آفر قبول کرنی چاہیے
شہباز نے یہ نہیں کہا کہ انکی حکومت جائز ہے بلکہ فرماتے ہیں اگر 2018 کی جائز تھی تو یہ بھی جائز ہے کس قدر ڈھٹائی سے یہ لوگ جمہوریت کا مذاق اڑاتے ہیں اور عوام کی توہین کرتے ہیں!