@RaheeqAbbasi@y_z107 بادشاہت لاؤ اور جان چھوڑو ہماری بھی عوام جو اس ملک سے نکل سکتا وہ ضرور بھاگ جائے اپنے بچوں کے مستقبل کےلیئے یے ملک ان کتی کے نسلوں کا ہے
اس کمینے کا نام شفقت عباس ہے
اور یہ لعنتی اپنے آپ کو سجدے کرواتا ہے
اور یہ اپنے آپ کو عزت دار اور بااثر کہلواتا ہے
اللہ پاک کی رضا کیلئے اس معاملے میں کوئی ساتھ دے یا نہ دے میں اس کا اس وقت تک پیچھا کروں گا جب تک یہ اس کام سے توبہ نہیں کر لیتا
تمیز سے بات کریں بدمعاشی والا سٹائل نہیں اے سی ماڈل ٹاؤن عبد السميع شیخ کی ٹاؤن شپ لاہور میں سبزی اور فروٹ فروشوں کیخلاف جبری کاروائی اور بدمعاشی کرتے ہوئے ایک باہمت شہری نے ٹوکا اور کہ تمیز سے بات کریں ۔
اسسٹنٹ کمشنر اور ٹیم کی ساری اکڑ نکال دی
میرا سوال ان عہدہداران سے ہے
تم میڈیکل سٹور پہ کیوں نہیں جاتے ؟
پرایویٹ ہسپتال میں کیوں نہیں جاتے ؟ پرایویٹ سکولز میں کیوں نہیں جاتے ؟
تم جیسے جاہل فرعون غریب دکانداروں پر چھوڑ�� گئے ہیں بڑی بڑی فیکٹریوں ملوں اور کارخانوں میں جا کر فرض ادا کیوں نہیں کرتے؟
پٹرول سستا کریں گیس سستی کریں
اتنی پڑھائی کرنیکے بعد تم جیسے گدھوں کو آلو پیاز ٹماٹر کو کنٹرول کرنے پر لگا دیا جاتا ۔
پورے پاکستان میں صرف سبزی والے پاکستانیوں کو لوٹ رہے ہیں باقی کوئی نہیں بجلی تیل گھی کھاد سپرے ٹیکس سب جائز ہیں ؟؟؟
@Pakistanomy بھاڑ میں جاؤ ویسے بھی تم کتی کے بچوں نے پاسپورٹ کی اوقات چھوڑی بھی کیا ہے۔۔ ایک دن آئیگا تم لوگوں کو ننگا کیا جائے گا تمھاری فیملیز کو بھی بلیو پاسپورٹ پر بھی
مذکورہ ویڈیو کا کل اخلاقی سبق....!!!
میٹرک اچھے سکول سے کریں، ٹیوشن رکھیں، بہترین نمبر لیں، پھر FSC میں ٹاپ میرٹ حاصل کریں، MDCAT کی مہنگی تیاری کریں، ٹ��سٹ پاس کریں،
پانچ سالہ MBBS پر کروڑوں روپے اور جوانی کے کئی سال صرف کریں، PMDC کے مراحل بھی مکمل کریں، اور آخر میں فارم 47 کے وزیرِ صحت سے کیمروں کے سامنے اپنی عزتِ نفس مجروح کروائیں،
۔
@TOKCityOfLights@cackarachi سیاست دان اب ویسے بھی ڈھیٹ ہوگئے ہیں اب کھل کے کھاتے بھی ہیں اور گاتے بھی ہیں اسی طرح ایک اور کنجری کی ویڈیو بھی دیکھی جو بول رہی تھی کیا کرلوگے
⚠️ صارفین کی آگاہی کے لیے ایک اہم تجربہ ⚠️
حال ہی میں میں نے Shell کے برکت مارکیٹ فلنگ اسٹیشن سے 0.75 لیٹر Shell انجن آئل خریدا۔
پروڈکٹ کی بوتل پر واضح طور پر زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت (MRP) 740 روپے درج تھی، لیکن مجھ سے 920 روپے وصول کیے گئے۔ جب میں نے اس اضافی رقم کی وجہ پوچھی تو عملے نے ادائیگی کی رسید بھی جاری کی، جس میں بھی 920 روپے درج تھے۔
جب میں نے دریافت کیا کہ بوتل پر درج قیمت اور وصول کی گئی رقم میں فرق کیوں ہے، تو جواب ملا: "سر، کمپنی نے یہی قیمت بتائی ہے۔"
یہ وضاحت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اگر اصل فروختی قیمت 920 روپے ہے تو پھر بوتل پر 740 روپے کیوں درج ہیں؟
اور اگر کمپنی نے 740 روپے بطور MRP پرنٹ کیے ہیں تو پھر صارفین سے اس سے زیادہ رقم کس بنیاد پر وصول کی جا رہی ہے؟
صارفین کو پرنٹ شدہ قیمت سے زیادہ رقم ادا کرنے پر مجبور کرنا نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ شفاف کاروباری اصولوں اور صارفین کے اعتماد پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
امید ہے کہ Shell Pakistan اس معاملے کا نوٹس لے گا، حقیقت واضح کرے گا اور اگر کہیں غلطی ہوئی ہے تو اس کی اصلاح بھی کرے گا تاکہ مستقبل میں کسی اور صارف کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے