عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبریں موصول ہونے کے بعد بھی ایسے کون سے مستند زرائع ہیں کہ بغیر کسی ملاقات کے بھی آپ یقین کر بیٹھے ہیں؟ عمران خان کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ انہی کی تحویل میں ہیں۔ اس سے قبل عمران خان پر جان لیوا حملہ ہو چکا ہے کئی منصوبے بن چکے آنکھ ضائع ہوچکی۔ عمران خان نے واضح طور پر اپنے ڈاکٹرز تک رسائی کے لیے ہر فورم استعمال کرنے اور آواز اٹھانے کی بات کی تھی۔ خدارا سب مل کر ہر فورم کا استعمال کریں۔بشری بی بی کی بھی آنکھ کا وہی ایشو بنا اور اب دوسری انکھ بھی متاثر ہو رہی ہے کیا یہ سب اتفاق ہے؟
چند ہفتے قبل آپ کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے لیے حالات ایسے بنائے جائیں گے کہ آپ نہ امن کے لیے آواز اٹھا سکیں گے نہ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلا پائیں گے، اس لیے جلدی کیجئے۔ اگست کے آغاز سے متعدد واقعات ان خدشات کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ پارٹی سے گزارش ہے کہ اتحادیوں سے بات کرکے ستمبر کی بجائےاسی مہینے قومی جرگہ بلائے؛ ہمارے پاس وقت کم ہے ہر گزرتا دن مزید جنازوں کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ بھی گزارش ہے کہ امن تحریک کے ساتھیوں، نام نہاد دہشت گردی میں شہید اور زخمیوں،کشمیر کے مظلوموں، بلوچستان کی خواتین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی جرگے میں بلائیں۔ قومی جرگے کو لسانی بنیادوں پر محدود کرنے کے بجائے اس کو پاکستانی قوم کے ہر مظلوم محروم اور پسے ہوئے طبقے کا جرگہ بنا کر اتحاد کا پیغام دیں تاکہ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔
پولیس سے آج پھر گزارش ہے کہ گزشتہ کئی واقعات کی تفصیل قوم کے سامنے رکھیں ورنہ یونہی آپ کے بھی جنازے اٹھتے رہیں گے۔قوم کو اگاہ کرو کہ کیسے انکو لایا گیا،کیسے آپ کو اکیلے چھوڑا گیا، کیوں آپ کے جوان ایسی بے بسی میں شہید ہوئے پورا واقعہ سامنے رکھ دو اس میں آپ کی بھی بہتری ہے اور قوم بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی یہ گارنٹی میں اپ کو دیتا ہوں، آپ اس ڈرٹی گیم کو ایکسپوز کریں۔ پولیس والے شہید ہوئے تو سی ٹی ڈی کو فوج نے یہاں تک کہا کہ آپ فوج سے اپیل کریں کہ پولیس ناکام ہوگئی ہے اور پختونخواہ حکومت آرٹیکل ۲۴۵ کے تحت فوج سے مدد مانگ لے۔ کمال نہیں ہوگیا؟
انشاءاللہ امن پاسون میں اب تیزی آئے گی اور یہ سلسلہ صرف سوات تک محدود نہیں رہے گا ۔دہشت گردی کی نئی لہر کی یہ کوششیں ۲۰۲۲ سے بار بار ہوئیں لیکن ہماری قوم نے اسے خود ناکام بنایا تھا اور حالیہ کوشش کو بھی انشاءاللہ عوامی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔
آخری اور اہم ترین گزارش اس کو عوام تک پہنچانے میں میری مدد کریں میں بار بار اپنے حالیہ پیغامات میں یہ دہرا رہا ہوں لیکن شاید پاکستان کے باقی علاقوں کو اس تباہی کی سمجھ نہیں۔ فوج عوام کو لشکر بنانے کے لیے دباو دے رہی ہے۔ پچھلی مرتبہ آپریشن کے وقت فوج نے اپنی نگرانی میں امن کمیٹیز بنائیں، بہت سارے علاقوں میں امن کمیٹی کے اہم ترین لوگوں نے فوجی چھتری تلے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظلم کیا۔ بہت سارے بے گناہ فوج کی تحویل میں دئیے گئے جن میں متعدد کی اموات ہوگئیں، کسی کا گھر توڑا گیا کسی کو قتل کروایا گیا۔ فوج چلی گئی اور ان لوگوں کی ذاتی دشمنیاں بن گئیں گزشتہ کچھ عرصے سے خصوصاً حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے وہی امن کمیٹی کے لوگ ہیں۔اب سوچیں کہ امن کمیٹیز کے اتنے عرصے بعد بھی دشمنیاں چلی آرہی ہیں تو فوج جب پوری قوم کو بندوق اٹھانے کا کہہ کر لشکر بنانے کا حکم دے رہی ہے تو اس کا کیا اثر ہوگا؟ پھر لشکر بنا کر وہ لڑے بھی کس سے لانے والوں سے یا آنے والوں سے؟ پھر ریاست کی پالیسی تبدیل ہوگی تو ہر شہری جو لشکر کا حصہ بن چکا ہوگا، یہ دشمنی ذاتی نہیں قوموں اور نسلوں تک جائے گی۔ اس لیے میری قوم سے درخواست ہے کہ خدارہ ان کی گیم کو ایکسپوز کریں۔ اس سے پہلے کہ معاملات مکمل طور پر ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں اور ہماری اگلی ایک دہائ بھی انہی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتے گزرے۔
علیمہ خان کا خدشہ 🚨
یہ ذرائع کہاں سے بتا رہے ہیں کہ عمران خان کا بلڈ پریشر ہے، خدانخواستہ یہی بتانا چاہ رہے ہیں کہ بلڈ پریشر کی وجہ سے عمران خان کو برین ہیمرج ہو گیا۔
کیا یہ سوچ رہے ہیں کہ عمران خان کو جیل میں ختم کریں گے، ہم سے یہ برداشت نہیں ہوگا
نواز شریف جب وزیرِاعظم تھے، شہباز شریف وزیرِاعلیٰ پنجاب اور خواجہ آصف وزیرِ پانی و بجلی تھے، تب انہوں نے اپنے چہیتے سلمان شہباز کو پاکستانی بینک سے 650 کروڑ روپے کا قرض لے کر پاور پلانٹ لگوا کر دیا، جس کی نہ صرف ادائیگیاں پاکستانی قوم نے کرنی تھیں بلکہ 30 سال کا ایسا معاہدہ بھی کیا گیا کہ بجلی ملے یا نہ ملے، پیسہ تو سلمان شہباز کو جاتا رہے گا۔
اگر کرپشن کا کوئی شیطان ہوتا تو وہ سلمان شہباز ہوتا۔
کاروبار خاندان کا، قرض عوام نے دیا، ادائیگیاں عوام نے کرنی ہیں، اور فائدہ خاندان کا!
آخر میں اس پورے کھیل کا خمیازہ کون بھگتے گا؟
پاکستانی قوم!
عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہوئی ہوئی ہے،انکا بلڈ پریشر بھی اب ہائی رہتا ہے،انکی بیٹوں سے مارچ کے بعد سے بات تک نہیں کروائی گئی،پچھلے سات مہینے سے انکی کسی سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔
آج راولپنڈی اسلام آباد میں تقریبا ہر روڈ پر ٹریفک پولیس ایکٹیو ہے ، لگتا ہے کہ اگست میں چالان کے ذریعے پیسے جمع کرنے کا ٹارگٹ بڑا ہے، ظاہر ہے بڑے بڑے جہازوں ، عیاشیوں ، دوروں اور تقریبات کے لیے پیسے بھی تو موٹے چاہیئے ہوتے ہیں ، بیرونی سرمایہ کاری تو آ نہیں رہی ، عوام کی چمڑی ہی اتارنی ہے
کشمیر میں امدادی سامان، ادویات وخوراک لیجانے والے تمام نوجوان اور مددگار کارکن پاکستان کی جیل میں بند ہیں۔ اسوقت غزہ اور کشمیر میں امداد لیجانے پر پابندی ہے۔
اب شفیع جان نے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا شروع کر دیے ہیں کون غدار اور کون وفادار ہے یہ بتانا آپ کا کام نہیں ہے آپ اپنی کارکردگی بتائیں
صوبائی صدر جنید اکبر نے الزام لگایا ہے کہ کروڑوں روپے بن رہے ہیں بتایا جاۓ کون بنا رہا ہے کروڑوں روپے اور کدھر جا رہے ہیں یہ پیسے
قاسم سوری
شفیع جان صاحب جو آپکے موبائل پر گالیاں آتی ہیں وہ آپ نے earn کی ہیں۔ آپ انہیں deserve کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی جن دنوں یرغمال ہوئے تو انہیں مینج کرنے کیلئے آپ کو ہی ان پر نگران لگایا گیا تھا
شہباز گل پر ٹاوں ٹاؤں کرنے سے کچھ نہیں ہو گا وہ وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بننے والے PTI کے پہلے لیڈر تھے مگر وہ کہیں استعمال ہوئے نہ کمپرومائز ۔ آپکی طرح
دیکھیں کیسے ذہنی مریض خیبر پختونخوا میں ملٹری آپریشن کے نام پر معصوم لوگوں کو شہید کر رہا ہے۔
روزانہ سینکڑوں مارٹر گولے ہمارے گھروں پر برسائے جاتے ہیں لیکن ایک بھی غلطی سے طالبان پر نہیں گرتا، جبکہ ان کو پتا ہے کہ طالبان کہاں ہوتے ہیں۔
پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر ڈالر اور سعودی سے بھی کل 15 ارب ڈالر کے قریب پیسے مانگے ہیں، اب وہ پاکستان کو پیسے کیوں دے رہے ہیں؟
امریکہ کہ پاس پیسہ ، ٹیکنالوجی، فوج، میزائل سب کچھ ہے لیکن وہ اپنے فوجی کسی کیلئے مروانا نہیں چاہتا
سعودی عرب کے پاس تیل ، پیسہ سب کچھ ہے لیکن اس کے پاس مروانے کیلئے فوجی نہیں ہیں
اب پاکستان کے پاس تیل پیسہ تو ہے نہیں لیکن آبادی ہے اور جس میں چوہدری صاحب دھڑا دھڑ بندے بھرتی کریں گے اور ان کو پرائے بارڈرز پر بیجھے گے جہاں وہ اپنی جانیں نچھاور کریں گے، ڈاکٹر شہباز گل
شہباز گل کا بڑا دعویٰ!
4 تاریخ کو سہیل آفریدی کی ملاقات ہوئی ہے, محسن نقوی اور کور کمانڈر پشاور سے, اور 27 ستمبر لانگ مارچ کی تاریخ بھی سہیل آفریدی اکیلے کا فیصلہ ہے
پختونخوا حکومت, اور PTI عہدءدار شہباز گل ہے اس دعویٰ کی تائید یا تردید کرے, شہباز گل سچ کہیا ہے یا جھوٹ کہہ رہاہے
اگر فوری طور پر سہیل آفریدی لانگ مارچ شروع کرتے،
تو ہو سکتا تھا عمران خان کو انصاف مل جاتا،
اور کشمیری کم شہید ہوتے ہو سکتا تھا کشمیری بھی مظفر آباد سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیتے، ڈاکٹر شہباز گل