"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔
سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔
بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔
میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔
ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔
سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔
بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔
میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔
ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
Kashmir seek attention 🚨
Since 28 September the mobile and internet services are blocked in Kashmir and millions of people have been cut off from their families and relatives..
What is the difference between IOK and POK ?
#uno#HumanRights
حبیب اکرم نے تو کمال ہی کر دیا! چوھدری نظام دین، اردلی اور سارے چھوٹے موٹوں کے لئے اسے سننا بڑا ضروری ہے! Retweet کریں تاکہ بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھے چھوٹے چھوٹے لوگوں تک بھی پہنچ جاے! شکریہ!
Please watch & share this interview my boys Sulaiman & Kasim did about their father, Imran Khan, who has been held in solitary confinement for almost 2 years despite the UN ruling that his detention is arbitrary & unlawful. Proud Amma.
قاضی فائز عیسی صاحب آپ جہاں پر بھی ہیں۔ آپ پر لاکھوں ڈونٹس۔
آپ نے تیرہ جنوری کے جس گھٹیافیصلے سے فراڈ اور ظالمانہ نظام کی بنیاد رکھی۔خدا کرے کہ آپ اسی نظام کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنیں!
میں کم بخت شاعر ہوں اس لیے دکھی ہوں۔سیاست دان ہوتا تو دھڑلے سے ٹی وی پروگرامز میں بیٹھ جاتا پریس کانفرنسز کرتا اور لگی لپٹی سناتا۔میں محبت کر سکتا ہوں سیاست نہیں۔مجھے وہ کارکن نہیں بھولتے جو مجھ دیکھ کر والہانہ مجھ سے لپٹتے تھے میرے ماتھے پر بوسہ دیتے تھے میرے ہاتھ چومتے تھے میرے ساتھ سیلفیاں بناتے تھے ترانوں پر رقص کرتے تھے اور مجھے دعائیں دیتے تھے۔مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ ان میں سے کون کون زندہ واپس گھر لوٹا اور کون نہیں۔مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے خون ناحق کا کیا ہو گا۔میں گزشتہ رات کے قتل عام کے بعد اس شخص کی طرح حواس باختہ ہوں جس کا سارا خاندان اس کے سامنے ذبح ہو گیا ہو۔میں نے کئی نوجوانوں کو گولیاں لگتے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کچھ کو آخری سانسیں لیتے۔میں نے چھلنی بدن ٹوٹی ہوئی ٹانگیں اور لٹکتے بازو دیکھے۔میں کم بخت شاعر ہوں۔میں محبت کرتا ہوں۔سیاست کرتا تو کوئی اور بات تھی۔
Thousands of Pakistanis are protesting for democracy & are being met with violent repression. I am hearing reports that the government is using live fire & tear gas against protesters.
I condemn this violence & urge the government to allow these protests to continue peacefully.
اسلام آباد پولیس اور رینجرز کی مظاہر ے میں شریک لوگوں پر شدید فائرنگ اور شیلنگ کی مزمت کرتے ہیں @GovtofPakistan ہوش کے ناخن لے اور مظاہرین پر تشدد بند کرے اور ان سے بات چیت کے زریعے سے معاملات کو حل کرے اور مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں وہ پر امن شہری ہونے کا ثبوت دے اور ملک کی املاک کو نقصان نا پہنچائے پر امن احتحاج ہر شہری کا حق ہے
#ڈی_چوک
#Islamabad #imrankhan #pakistsn @PTIofficial@OfficialShehr @