ایک نئے بلاگ کے ساتھ حاضر ہوں، اس بار اک ایسے مسئلے پر بات کرنے کی کوشش کی ہے جس کا تجربہ ہر خاص و عام پاکستانی کو تقریبا روزانہ ہوتا ہے۔
میں نے اس بلاگ کا نام "منہ کی بواسیر" رکھا تھا لیکن ادارتی پالیسی کی وجہ سے انھوں نے نام بدل دیا ہے۔
https://t.co/RNYqMUe0is
#11JuneAltafHai
Apmso & it’s Memories with Karachi University can’t be vanished #MohajirChowk (Arts Lobby)
ان کی تو پہچان یہ ہی تھی اس پہچان سے پہلے بھی
پاکستان کے شہری تھے پاکستان سے پہلے بھی
اگر ایم کیو ایم اس سانحےکی ذمہ دار نہیں،تو پھر اصل مجرم کون؟ 14 سال قید گزارنے کا حساب کون دے گا؟جن کی بیویاں نے بیواؤں کی طرح زندگی گزاریں،مائیں رو رو کرچل بسیں،ان سب کا حق کون ادا کرے گا؟یہ ایک سنگین اور ناقابلِ فراموش نقصان ہے،جس کا حساب دینا انتہائی ضروری ہے۔
#بلدیہ_فیکٹری
@KhizarAbba2078 سندھ میں اتنا ہی روزگار ہے تو آجاؤ نہ سعودیہ کی کمائی چھوڑکر
سعودیہ میں بیٹھ کر بن دیکھے سندھ کی ترقی کی واہ واہ کرنا غلامی کہلاتی ہے
ہم یہاں رہتے ہیں جو یہاں رہتے ہیں وہ سب سچے ہیں ناکہ سعودیہ لاڑکانہ سکھر میں بیٹھے دیہاڑی دار تجزیہ نگار۔
انصاف کا تقاضہ تو یہ ہیکہ الزام سے بریت کا فیصلہ بھی اتنا ہی گلا پھاڑ پھاڑ کر قوم کو بتایا جائے جتنا گلا پھاڑ کر میڈیا نے الزام لگایا تھاُ۔
کیا آج کا پاکستانی میڈیا یہ انصاف کرتا نظر آرہا ہے؟
@xadeejourno@AzazSyed@HamidMirPAK@nadia_a_mirza
آپ 11 جون منائیں، #APMSO کے یومِ تاسیس کی خوشیاں منائیں، مہاجر تحریک کی تاریخ، جدوجہد اور شناخت کا ذکر کریں، مگر الطاف حسین کا نام لینے سے گریز کریں؛ یہ تاریخ کے ساتھ دیانت نہیں بلکہ کھلی منافقت ہے۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ 11 جون 1978 کو APMSO کی بنیاد الطاف حسین اور اُن کے ساتھیوں نے رکھی تھی اگر یومِ تاسیس منانا درست ہے تو اُس تاریخی حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے جس سے یہ سفر شروع ہوا۔ تاریخ کو سیاسی وابسگیوں اور پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حقائق کی بنیاد پر یاد رکھا جائے تو بہتر ہے۔
#11JuneAltafHai #APMSO #Karachi
جتنے پرسکون یہ لوگ گل پلازہ میں زندہ انسانوں کے سرمہ بن جانے کے بعد ہیں مجھے نہیں لگتا یہ بلدیہ فیکٹری میں جلنے والوں کے ایک فیصد بھی ہمدردی رکھتے ہوں گے
ان کا مقصد صرف اور صرف کراچی کے لوگوں کی نمائندہ جماعت کو برباد و بدنام کر کے سسٹم سے باہر نکالنا تھا
تاکہ ان کے لاڈلے جیسے پورا سندھ کھا رہے ہیں انہیں کراچی بھی دے دیا جائے بلا شرکت غیرے ہضم کرنے کو!