”جب زیادہ لوگ نکلیں گے تو خان صاحب رہا ہوں گے، ہم یہاں عمران خان کو رہا کروانے آئے ہیں۔ “
یزیدِ وقت کو ابھی سمجھ نہیں آرہی کہ نظریہ عمران ناقابل تسخیر ہے، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک دلوں میں بستا ہے.
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
الحمداللہ
ڈاکٹر عظمی خان کی جانب سے دائر عمران خان صاحب کی میڈیکل حکم کی خلاف ورزی کے توہین عدالت درخواست کو سپریم کورٹ نے نمبر الاٹ کر دیا ہے۔ درخواست کو Crl. Org. Petition No. 08/2026 الاٹ کیا گیا ہے۔
حسبي الله ونعم الوكيل
مائیں اپنے بچوں کو نو ماہ اس لئے کوکھ میں نہیں رکھتیں کہ کسی کی غفلت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہی وہ زندہ جل جائیں، وفاقی دارالحکومت میں 14 نومولودوں کا جاں بحق ہونا انسانی تاریخ کا ایک بدترین سانحہ ہے، جن کی امیدوں کے چراغ روشن ہوتے ہی بجھادئیے گئے، وہ بے بس باپ انصاف مانگ رہے ہیں۔
ایک ایسا صحت کا وزیر جس کے قتل و غارت، غنڈہ گردی، ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان پر کتابیں لکھی جا چکی ہے اور فلمیں بنائی جا چکی ہیں اس کو ہمارے ڈکٹیٹرز نے وزیر بنا دیا ہے، اس کے لئے تو 14 نوزائیدہ بچوں کا مرنا ایک مذاق ہوگا جو اس کے پریس کانفرنس سے بھی واضح ہے۔
ایک طیارے کی قیمت: 1,100 کروڑ
دوسرے طیارے کی قیمت: 2،200 کروڑ
ایک ہسپتال کو آگ سے بچاؤ اور آفات سے نمٹنے کے لیے اپ گریڈ کرنے کی لاگت: صرف 10 کروڑ۔
اس رقم سے ہم 330 بڑے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کر سکتے تھے، اگر صرف ان لوگوں میں ذرا سی بھی انسانیت ہوتی۔
اللہ کرے یہ حکمران ٹولہ عوام سے ظلم کرنے کی وجہ سے جہنم میں جلے کیونکہ یہاں تو کوئی ان سے حساب لینے والا نہیں۔
پاکستان میں عوام کی کرکٹ سے دلچسپی اس قدر ختم ہو چکی تھی کہ کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ انگلینڈ میں کوئی ٹیسٹ میچ ہو رہا ہے
لیکن پھر قاسم اور سلیمان کا لنچ بریک میں انٹرویو آ گیا ہے اور اب ہر کسی کی زبان پر Lord's test ہے
عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو کیوں دکھایا ؟
محسن نقوی کے PCB نے شکایت درج کروائی اور انٹرویو نشر کرنے پر احتجاج ریکارڈ کروانے کی بھی دھمکی دی، لیکن دھمکی کوئی کام نا آئی کیونکہ Sky sports پیمرا کے انڈر نہیں تھا
یہ ہیں وہ نوجوان جنہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر یہ پمفلٹ تقسیم کیے تھے اور ان کو گرفتار کرلیا گیا تھا آج یہ طویل قید کے بعد رہا ہوگئے ہیں
ایسے دلیر نوجوان تحریک کا اثاثہ ہیں
جب ان چار ورکرز کی گرفتاری کا اپ لوگوں کو پتہ لگ جائے کہ صرف ایک تصویر اٹھانے پریہ ورکرز چار ماہ سے پابند سلاسل تھے۔جب حکومت اتنی خوفزدہ ہو تو سمجھ جائیں کہ یہ نظام مکمل طور پر فلاپ ہو چکا ہے الحمدللہ اج باعزت طریقے سے رہا ہو گئے ہیں لیکن ان ورکرز کا حوصلہ بلند ہیں
یہ ہیں وہ نوجوان جنہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر یہ پمفلٹ تقسیم کیے تھے اور ان کو گرفتار کرلیا گیا تھا آج یہ طویل قید کے بعد رہا ہوگئے ہیں
ایسے دلیر نوجوان تحریک کا اثاثہ ہیں
وہ لمحہ جب رات کے وقت وزیراعظم عمران خان نے اچانک پمز ہسپتال میں کورونا وارڈ کا دورہ کیا اور مریضوں کی خیریت دریافت کی۔
اور آج خود ڈیتھ سیل میں علاج کے منتظر ہیں 💔
شرم آنی چاہئے تمہیں !
عمران خان کے ورکرز، جانثاروں اور چاہنے والوں نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے تمام راستے رات بھر مکمل طور پر کھلے رہے اور کہیں کوئی اجتماع یا رکاوٹ نہیں بنائی گئی۔ پاکستانی اور عالمی میڈیا موقع پر موجود تھا اور ایک ایک لمحہ رپورٹ ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود اگر حکومت اپنی توہینِ عدالت کو چھپانے کے لیے ورکرز کے رش یا راستوں کی بندش کا جھوٹا بیانیہ بناتی ہے تو یہ پروپیگنڈا حقائق اور پوری دنیا کے سامنے موجود ریکارڈ کے منافی ہوگا۔