🚨 اصل مقصد سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوششیں: عمران خان کی رہائی اور علاج ہی واحد ہدف ہے! 🚨
جب حق کی آواز مضبوط ہوتی ہے، تو باطل ہمیشہ سازشوں کا سہارا لیتا ہے۔ آج کل کچھ مخصوص لوگوں سے من گھڑت اور گمراہ کن بیانات دلوا کر ہماری اسٹریٹ موومنٹ (Street Movement) سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں۔
لیکن یاد رکھیں، یہ سستے حربے اب کام نہیں آئیں گے۔ عوام اچھی طرح جانتی ہے کہ کون سچا ہے اور کون منافقت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔
🎯 ہمارا واحد اور واضح ہدف:
عمران خان کا فوری اور بہترین علاج: لیڈر کی صحت اور زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
عمران خان کی فوری رہائی: یہ تحریک تب تک نہیں رکے گی جب تک کپتان باوقار طریقے سے ہمارے درمیان واپس نہیں آ جاتے۔
⚠️ منافقوں کے بیانات سے گریز کریں!
توجہ نہ بھٹکائیں: ان کرائے کے ترجمانوں اور منافقوں کا مقصد صرف عوام میں کنفیوژن پیدا کرنا ہے تاکہ تحریک کمزور پڑے۔ ان کی باتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کریں۔
اپنی طاقت کو متحد رکھیں: ہماری طاقت ہمارا اتحاد اور سڑکوں پر پرامن احتجاج ہے۔ کسی بھی منفی پراپیگنڈے کا شکار ہوئے بغیر اپنے مقصد پر فوکس رکھیں۔
لاپرواہی سب سے بڑا جواب ہے: جب ہم ان کے بیانات کو اہمیت دینا بند کر دیں گے، تو ان کی یہ سازش خود بخود دم توڑ دے گی۔
عزمِ مصمم:
ہماری اسٹریٹ موومنٹ صرف اور صرف عمران خان کے علاج اور ان کی آزادی کے لیے ہے۔ منافقوں کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے کا موقع نہ دیں، متحد رہیں اور کپتان کی رہائی تک اپنی آواز بلند رکھیں۔ 🇵🇰💪🔥
عمران خان نے آج تک جرنیلوں سے شدید ترین لڑائی ہونے کے باوجود دو باتیں کبھی نہیں کیں
کبھی کمپنی کے شہدا کی تضحیک نہیں کی
کبھی فوج کو جنگیں ہارنے کا طعنہ نہیں دیا
پھر بھی کمپنی عمران خان کی دشمن کیوں ہے سوچیئے؟ مسئلہ شہدا یا فوج کی عزت نہیں مسئلہ اقتدار پہ قبضے کا ہے!
سچ صرف یہ نہیں کہ خان کی بہنوں کو عمران خان کی رہائی سے روکے۔ سچ صرف یہ نہیں ہے کہ ان کے نظریاتی ورکروں کو عمران خان کے لیے کردار ادا کرنے سے روکے۔ سچ اڈیالہ میں ہے۔ باقی یزید کے دربار میں بھی سب اکھٹے ہو گئے تھے اور آج بھی اکھٹے ہیں یزید کے خوف سے۔
ایم این اے اقبال آفریدی
کمشنر راولپنڈی کا اعترافی بیان جس میں انہوں نے یہ تسلیم کرتےہوئے مستعفٰی ہونے کا اعلان کیا کہ انہوں نے انتخابی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کی،جس کے نتیجےمیں محض راولپنڈی ڈویژن میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 13 نشستوں سے محروم کیا گیا۔
ان کا یہ بیان ملک بھر میں انتخابی نظام کے ساتھ کئے جانے والی نہایت منظّم چھیڑ چھاڑ کی ایک ہوشربا روداد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی ایسی نشستیں جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی، کو جعلی سازی اور دھوکے دہی سے ہروایا گیا اور عوام کو ان کے جائز مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ساکھ، اس کی بہتری اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے فارم 45 کی روشنی میں نتائج جاری کرتے ہوئے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے میں ملوث افراد کیخلاف مؤثر اور بامعنی عدالتی کارروائی کابھی مطالبہ کرتی ہے۔
سائفر بھولنا مت 🚨
ڈونلڈ لو نے جب پاکستان کے سفیر اسد مجید کو دھمکی دی کہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹاؤ تو وہ کس کو یہ پیغام دے رہا تھا کیونکہ وزیراعظم تو میں تھا
🚨🚨 اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ علی امین گنڈا پور کے خلاف سازش کر کے اسٹیبلشمنٹ نے اپنا بندہ لایا ہے
نہ سٹریٹ موومنٹ, نہ ازادی موت والا کنٹینر اور نہ عمران خان کا نام لیا جا رہا ہے
سلمان خان نے عالمی فورم پر خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ:
🛑 تنگ کوٹھڑی اور قیدِ تنہائی: عمران خان کو 360 سے زائد دنوں سے ایک ایسی چھوٹی کوٹھڑی میں قیدِ تنہائی (Solitary Confinement) میں رکھا گیا ہے جہاں کیڑے مکوڑے ہیں اور ان پر چوبیس گھنٹے سخت ترین نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
🛑 سزا کی اصل وجہ: انہیں ان حالات میں صرف اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ انہوں نے ملکی سیاست پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کو چیلنج کرنے کی جرات کی تھی۔
🛑 رابطے پر مکمل پابندی: سلمان خان اور ان کے بھائی نے نومبر 2022 کے بعد سے اپنے والد کو نہیں دیکھا۔ ان سے آخری بار صرف ایک مختصر فون کال پر بات ہو سکی تھی، جسے بھی وقت سے پہلے ہی کاٹ دیا گیا تھا۔
🛑 ویزہ دینے سے انکار: جب بیٹوں نے اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا، تو حکومت نے جان بوجھ کر ان کے ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ دنیا کے سامنے پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور سیاسی انتقام کا ایک واضح ثبوت ہے!
سوچا تھا سہیل آفریدی گنڈاپور سے تھوڑا مختلف ہوگا پر لگتا یہی ہے سہیل آفریدی نے راتوں رات مریم نواز بننے کا فیصلہ کرلیا ہے
شاہزیب خانزادہ اور دوسرے 100 صحافیوں کو خیبرپختون خواں حکومت عوام کے ٹیکس پر اپنے صوبہ کی سیر جارہی ہے
ڈاکٹر شہباز گل
سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے سرینڈر کردیا تازہ سرینڈر ہے
سہیل آفریدی نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن صدیق انجم کی خدمات کو محکمہ پراسکیوشن کو واپس کردیا
صدیق انجم نے اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ جج کیخلاف ایک معاملہ کیا ہوا تھا
کافی عرصہ سے یہ ڈیمانڈ تھی جو پوری ہوگئی
عمران ریاض خان
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک پرامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with his Lawyers and Family Members in Adiala Jail - March 19, 2025
"The scourge of terrorism in the country is out of control. The tragic incident of the Jafar Express is deeply saddening and condemnable. Such organized terrorist attacks raise serious questions about any country’s security. No one can feel the pain of losing precious military and civilian lives to terrorism as profoundly as we do, because PTI is the only political party with majority support across all provinces. Unfortunately, all agencies are focused on eliminating PTI instead of preventing terrorism.
PTI’s decision to boycott the National Security Committee meeting is absolutely justified. I was neither invited to the meeting nor was my opinion sought, and even the representatives of Balochistan were excluded. They would have first consulted with members of my party if they genuinely intended to address this issue. PTI is currently the only political party in Pakistan with support across all federal units, whereas PPP and PML-N are confined to specific regions of Sindh and Punjab. How can national consensus be achieved while excluding the leader of the country’s largest political party and the true symbol of the federation?
The subservient [to the military establishment] government’s foreign and domestic policies are proving to be disastrous for the country. The issue of terrorism can only be resolved through a political solution that aligns with the people’s will. Terrorism cannot be eradicated solely through kinetic military operations. Our foreign policy regarding neighboring countries must be independent and sovereign. Issues with Afghanistan should also be resolved through dialogue. Since the regime change, their lack of seriousness is evident from the fact that Bilawal toured the entire world but did not visit Afghanistan even once. Military operations have never been the solution— even major wars have ultimately ended through negotiations and sincere efforts for peace and stability.
The country can only remain united and strong if the public mandate is respected, political parties are allowed to function freely, and the establishment refrains from interfering in politics. In 1971, a political party was sidelined, and history has not forgotten what followed. The country would not have been divided back then had fair opportunities been given to political parties. Today, once again, the people’s voices are being suppressed, and political parties representing them are being strangled. The same oppressive model has been imposed in Balochistan, which is why the situation there has spiraled out of control. Until representative governments of the people are given power, these issues will persist and worsen.
The imposed regime is using all unlawful tactics to pressure me. My wife has been unjustly imprisoned. Yahya Khan did not jail Mujibur Rahman’s wife, neither did General Zia imprison Bhutto’s wife, nor did Musharraf incarcerate Kulsoom Nawaz. But this establishment has reached the lowest level of moral decline by imprisoning my wife in fabricated cases.
My communication has been severely restricted for nearly a week. To keep me uninformed about current affairs, television access has been banned, and newspapers and books are not being delivered. I have been denied contact with my children. Despite repeated reminders, the standard provision of a 72-hour meeting within 90 days with my wife has not been granted. My personal doctor is not allowed to meet me, nor is my dentist. My party leaders have also been barred from visiting me. I have been kept in complete isolation to prevent me from learning about the All Parties Conference (APC). 1/2
جو لوگ دن رات سوشل میڈیا پر شکوے کرتے ہیں کہ پاکستانی اپنے حق کے لیے نہیں نکلتے وہ جان لیں کہ کشمیر اور بلوچستان میں عوام بڑی تعداد میں اپنے مطالبات کے حق میں باہر نکلے ہیں۔ دونوں جگہوں پر کئی دھرنے جاری ہیں مگر میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ سے خبر دبائی جا رہی ہے۔ اب آپکی ذمہ داری ہے کہ کھل کر انکی کوریج سوشل میڈیا پر کریں انکی آواز کو پوری دنیا تک پہنچائیں۔ تاکہ مایوسی کی جگہ امید جنم لے۔۔۔
بریکنگ نیوز 🚨عمران ریاض کا بڑا انکشاف۔ محسن نقوی امریکا میں ذلیل ہوگیا 🔥🔥
نیویارک کے مئیر ممدانی سے ملاقات کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا، اثرورسوخ استعمال کیا لیکن بات نہ بنی۔ ممدانی نے یہ کہے کر ملاقات کرنے سے انکار کردیا ہے کہ تم فاشسٹ ہو، ظالم ہو۔ پاکستان میں سینکڑوں لوگوں کے قتل میں ملوث ہو۔ تمہارے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
🚨🚨 کیا اپ لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ دونوں عسکری جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہیں
جی ہاں وہی جوڈیشل کمیشن جن کا کام عسکری ججز کو عمران خان کی سزا کے لیے تعینات کرنا ہے ان پر ان دونوں کا دستخط ہوتا ہے دونوں عیاشی اور مکمل مرات لوٹ رہے ہیں👇
میں نے محمود خان اچکزئی کو اس دن کہا، کہ عمران خان کے دور میں 6 روپے پٹرول مہنگا ہوا تو پورا دن ن لیگ والوں نے پریس کانفرنسز کیں، یہاں کئی سو روپے مہنگا ہو گیا لیکن مکمل خاموشی ہے
نورین خان آن فائر 🔥
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025