اس جیسا نشانہ باز نہ پہلے کوئی پیدا ہوا نہ کوئی آئندہ پیدا ہو گا
فقیر کالا خان مری بلوچ صوفی تھے.
انگریزوں نے 1870 میں جب بلوچستان پر حملہ کیا تو فقیر کالا خان نے تسبیح چھوڑ کر بندوق اُٹھائی۔ پھر مزاحمت کی تاریخ رقم کر ڈالی۔ موجودہ بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان کیایک 1 پہاڑی پر انگریز آرمی کو چار سال روکے رکھے برٹش آرمی توپوں بندوقوں سے مسلح گھرا تنگ کرتی رہی مہینوں کے محاصرے سینکڑوں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پہاڑی پر قبضہ کیا گیا تو بھوک سے نڈھال کالا خان مری بلوچ اپنے دو ساتھیوں جلامی بلوچ اور رحیم علی بلوچ سمیت پکڑا گیا مقدمہ چلا
پھانسی کی سزا دی گی یہ تصویر 1891 میں پھانسی سے پہلے لی گی جس میں کالا خان مری بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت پکڑا گیا
سوال یہ یے ہم اپنے ہیروز سے لا علم کیوں ہیں جان بوجھ کر انکی تاریخ قوم سے کیوں چھپائی گی ؟ ان پر فلمیں ڈرامے کیوں نہیں بنے ؟
کالا خان بلوچ کو پھانسی کے بعد کلکتہ جو تار بھیجا گیا اس میں لکھا تھا
اس جیسا نشانہ باز نہ پہلے کوئی پیدا ہوا نہ کوئی آئندہ پیدا ہو گا۔۔
منقول
@Naadikar @umerpashtoon Jahil insan pori post par lo tasbih chor k apni sarzameen k liye bandooq Uthai ,, jallan tmari nasal me Gus k bhara hua ha Kisi qoum ki bahaduri b bardsht nahi hui ,
پی ٹی آئی 140 پلس سیٹوں پر واضح طور پر آگے ہے۔
نواز شریف daylight robbery کے ذریعے، عمران خان کے عوامی مینڈیٹ اور پاکستان کے نوجوانوں کے مستقبل پر ڈاکہ زن ہورہا ہے۔ ہم اِسے مسترد کرتے ہیں۔
نواز شریف الیکشن ریس میں اکیلا دوڑا مگر تیسرے نمبر پر آیا۔
کہتے ہیں بلوچستان میں ساری گڑبڑ بھارت نے پھیلائی ہے اگر یہ واقعی سچ ہے تو پھر 2021 میں پاکستان نے بیک ڈور چینل استعمال کر کے بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کیوں کیا؟ آپ نے تو سیز فائر کر دیا لیکن بھارت نے بلوچستان میں کیوں نہیں کیا؟ بھارت کے لئے سہولت کاری کس نے کی؟
"جارج آرویل کا ناول"
Seriously ! did he actually say this?
بلوچ مارچ کا سوال :
ہمارے 2702 بلوچی جو پچھلے کئی سالوں سے غائب ہیں وہ کہاں ہیں ؟ اور اگر گرفتار ہیں تو اب تک عدالت کیوں نہیں پیش کیے گیے ؟
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کا جواب :
"جن پاکستانیوں کو یہ سوال پوچھنا ہے اور ان کو زیادہ تکلیف ہے تو وہ بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف جوائن کرلیں - یعنی وہ غیر قانونی گمشدگی پر آواز کیوں اٹھا رہے ہیں وہ ان تنظیموں کی طرح ہتھیار اٹھایں
! "What the Hack!"
مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ ملک کن جرنل فرینکو اور سٹالن کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے - یعنی جو لوگ یہ کہیں کہ مشرقی پاکستان کے لوگوں کے 1970 کے الیکشن میں حق رایے دہی کا احترام کرکے اقتدار ان کی منتخب حکومت کو ٹرانسفر کریں اور انسانی حقوق کا احترام کریں ' تو ان کو کیا آپ یہ کہیں گے کہ تم بھی "مکتی باہنی" جوائن کر لو ؟
یہ بات کسی اور سیاست دان نے کی ہوتی تو اب تک اس پر بغاوت اور تشدد پر اکسانے کا مقدمہ ملک کے ہر صوبے میں دائر ہو چکا ہوتا - تف ہے -
ریاستی ادارے " Commission of inquiry on Enforced Disappearances (COIED)
کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تک 9967 لوگ مسنگ ہیں جن میں سے 2708 بلوچ ہیں - اور اس بات کا جواب دینے کی بجاے کہ وہ کب عدالت پیش ہونگے ' یہ ہمیں جارج ارویل کا "ناول 1984" پڑھا رہے ہیں -
تو سر ! @anwaar_kakar
اگر یہ ناول پڑھنا ہے تو پھر پورا پڑھتے ہیں - کاکڑ صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ جارج آرویل نے وہ جنگ لڑی کس نظریے کے خلاف تھی ؟
جارج آرویل ایک برطانوی رائیٹر تھا جو 1936 سے 1939 کی اسپین کی سول وار کا ایک کردار تھا- اس نے 1945 میں ایک ناول "اینمل فارم "(Animal Farm) اور 1949 میں ایک ناول " 1984 " لکھا تھا جس میں اس نے سپینش سول وار کے اپنے ذاتی احوال لکھے - 16 فروری 1936 کو سپین میں الیکشن کے بعد بایں بازو کے ایک اتحاد "پاپولر فرنٹ " (Popular Front) نے الیکشن جیتا تھا لیکن وہاں کے دائیں بازو کی کونزرویٹو ونگ نے اس وقت کے آرمی جنرل جنرل فرانسسکو فرانکو کی مدد سے جولائی 1936 میں ملک میں مارشل لا لگا کر قبضہ کرنے کی کوشس کی تھی ' جس کے نتیجے میں وہاں سول وار شروع ہوگئی تھی - جارج ارویل اس وقت فسطایت کے خلاف لکھتا تھا اور پھر اپنے انہی نظریات کی وجہ سے اس نے "POUM " جماعت جو بائیں بازو کے اتحاد " پاپولر فرنٹ" کا حصہ تھی اس کی طرف سے اس جنگ میں لڑنے کا ارادہ کیا اور کتاب اور قلم چھوڑ کر ہتھیار اٹھا کر اسپین پہنچ گیا تھا -
اس جارج آرویل کو یہ کبھی پتا بھی نہیں ہوگا کہ آج سے ستاسی سال بعد ایک ملک کا سربراہ خود جرنل فرانکو کی طرح ایسی فسطایت کو جسٹیفائی کرے گا اور باقی پر امن پاکستانیوں کو "جارج آرویل کی طرح قلم چھوڑ کر ہتھیار اٹھانے کا مشورہ دے گا - ویسے تو اب باقی پاکستان بھی جبری گمشدگی کی وہ نیم کی پھکی چکھ چکا ہے جس کو دوائی بنا بنا کر بلوچستان کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے - اگر آپ آج جارج اریول کی مثال دے رہے ہیں تو پھر آپ مان رہے ہیں کہ اس وقت اسٹیٹ جرنل فرانکو بنی ہوئی ہے جن کے نظریات کے خلاف جارج اریول نے یہ قلم اٹھایا تھا - آپ مسلہ حل کر رہے ہیں یا مسلہ سلگا رہے ہیں؟
اور @MahrangBaloch_
یہ ہمارے بلوچ بھائی بہنوں کیلئے بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ کیوں ایسے بلوچ سیاستدانوں کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں لاتے ہیں جو آج ان کی بات سننے کی بجاے اور ان کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجاے ان کیلئے آواز اٹھانے والوں کو جارج آرویل کے ناول سنا کر "بی ایل اے " اور "بی ایل ایف" جوائن کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں -
@HamidMirPAK
میں ضرور چاہونگا کہ آپ ان کی اس سٹیٹمنٹ پر رسپانس کریں کیوں کہ پچھلی ایک دہائی میں اگر کسی ایک جرنلسٹ نے اس موضوع پر تسلسل سے آواز اٹھائی ہے تو وہ آپ ہیں -
لمحہ فکریہ !
I cannot believe this !
پاکستانیوں اور پنجابیوں ہمت کرو اور اسلام آباد میں بلوچ دھرنے کا حصہ بن کر پاکستان ٹوٹنے سے بچاو اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرواو۔
عاصم منیر اور ندیم انجم کی بلوچ دھرنے سے پھٹی پڑی ہے
15-year-old Mahen Baloch, along with her sister, traveled from Kalat to Islamabad in search of her father. Her father, Siraj Jatak, has been enforcedly disappeared for 7 years.
Mahen Baloch was supposed to be at school, but she is currently present in a protest sit-in.
#StopBalochGenocide
#MarchAgainstBalochGenocide
#ReleaseBalochMissingPersons
پاکستانی فوج نے سعدیہ بلوچ کے بھائی سلمان بلوچ کو 13 نومبر 2022 کوئٹہ سے اغواء کرکے گمشدہ کردیا ہے اور اسکی بہن اسلام آباد پریس کلب اپنے بھائی کی تصویر لے کر بازیابی کی فریاد کررہی ہے اور بےغیرت کے بچے پولیس والے کہتے ہیں کہ آپ یہاں موجیں کررہے ہیں
#MarchAgainstBalochGenoscide